فرانس میں عبایا کا بڑھتا رجحان اور سیکولر ملکی اقدار پر بحث

عوامی زندگی میں سیکولرزم کو فروغ دینے والے ملک فرانس کے اسکولوں میں مسلم لڑکیوں میں عبایا پہننے کا رجحان بڑھتے جانے سے ملک کی سیکولر اقدار پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

فرانس میں عبایا کا بڑھتا رجحان اور سیکولر ملکی اقدار پر بحث
فرانس میں عبایا کا بڑھتا رجحان اور سیکولر ملکی اقدار پر بحث
user

Dw

فرانس کے اسکولوں میں عبایا پہننے والی مسلمان لڑکیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے ملکی تعلیمی اداروں میں سیکولرزم کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے.

فرانسیسی وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال اپریل کے مہینے میں ملک میں سیکولر اقدار کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں کمی ہوئی۔ تاہم مئی میں اسکولوں میں مذہبی علامات یا مذہبی لباس پہننے کے واقعات رجسٹر کیے جانے کی شرح میں نصف سے زائد کا اضافہ ہوا۔


بی ایف ایم نامی ٹی وی نے ملک کے لیوں نامی شہر کے ایک اسکول سے اپنی رپورٹ میں ایک استاد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عبایا پہننے والی لڑکیوں کی وجہ سے دباؤ بڑھ رہا ہے، چاہے یہ غیر ارادی ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ اس ٹی وی چینل نے عبایا پہننے والی ایک طالبہ کا انٹرویو بھی نشر کیا، جس میں اس کا کہنا تھا، ''کچھ اساتذہ ہمیں عجیب انداز سے دیکھتے ہیں مگر عبایا کے حوالے سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کرتے۔‘‘

فرانس میں ہمیشہ سے ہی عوامی زندگی میں سیکولرزم کو فروغ دیا جاتا ہے۔ 2004ء میں اس ملک میں ایک ایسا قانون منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت تمام پرائمری اور ہائی اسکولوں میں مذہبی علامات والی اشیاء پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس قانون کے تحت کسی اسکول میں نہ تو کوئی اسکارف پہنا جا سکتا ہے، نہ ہی یہودی بچے سروں پر اپنی مخصوص ٹوپی پہن سکتے ہیں اور نہ ہی دیگر مذاہب کے لوگ اپنی کوئی مذہبی علامات پہن یا استعمال کر سکتے ہیں۔


ڈوپٹے کے برعکس عبایا ایک ڈھیلا ڈھالا سا لباس ہے، جو اکثر مسلم خواتین اسلامی لباس سجھتے ہوئے پہنتی ہیں۔ 2004ء میں عبایا پہننے پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسکولوں میں بچیوں کا عبایا پہننا ملک کی سیکولر شناخت اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

2020ء میں پیرس کے قریب ایک اسکول میں رونما ہونے والے ایک خوفناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے میں ایک اٹھارہ سالہ چیچن نوجوان عنصروف نے پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے پر اپنے استاد کا سر قلم کر دیا تھا۔


ملک میں دائیں بازو کی ریپبلکن پارٹی کے رہنما ایرک سیوٹی نے اس تناظر میں کہا کہ عبایا کے لیے فرانسیسی اسکولوں میں کوئی جگہ نہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے ملکی قوانین میں موجود اس ابہام کی بھی مذمت کی، جس سے ان کے بقول سخت گیر مسلمانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

ملکی صدر ایمانوئل ماکروں کی جماعت کے رکن اور پارلیمانی اسپیکر یائل براؤن پیوِے نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ فرانس میں عبایا کے لیے کوئی جگہ ہے ہی نہیں اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف مسلم انجمنوں کی نمائندہ ملکی تنظیم سی ایف سی ایم نے کہا ہے کہ صرف لباس کبھی بھی مذہبی علامت نہیں تھا۔ اس تنظیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کو ایک لاحاصل بحث قرار دیا.


فرانس میں بائیں بازو کی جماعت کی ایک سینیئر رہنما ماتِھلڈے پانو نے اخبار 'لپاریزیئں‘ کے سرورق پر شائع ہونے والی اس رپورٹ پر شدید تنقید کی، جس میں عبایا کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ''اسلاموفوبیا سے متعلق کسی بھی بات پر بڑی توجہ دی جاتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس کا نشانہ عورتیں بنیں۔‘‘

میڈیا، مذہب اور سیاسی امور کی ماہر پروفیسر میحائیلا آلیکسانڈرا ٹیوڈر کے مطابق سبھی معاملات کا انحصار ان کے سیاق و سباق پر ہوتا ہے، ''اگرچہ عبایا ایک مذہبی شناخت بھی ہے تاہم حالیہ دہائیوں میں عالمگیریت کی وجہ سے اسے پہننا فیشن بھی بن چکا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔