پاکستانی سیاست اور خواتین سیاست دانوں کی کردار کُشی

موجودہ پاکستانی سیاست اور اس کے بدلتے رنگ کسی بالی وڈ تھرلر سے کم نہیں لیکن جس موضوع کو عام طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ خواتین سیاست دانوں پر ہونے والے ذاتی نوعیت کے حملے اور ان کی کردار کُشی ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

Dw

یہ بحیثیت قوم خواتین کی طرف ہمارا عمومی رویہ بھی ہے۔ زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ شوبز اور میڈیا کی اہم شخصیات، جن کو ہزاروں لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں، انہیں ایک بہتر اور ذمہ دار رائے قائم کرنے کی بجائے اس گھناؤنے عمل میں شریک دیکھا جا سکتا ہے۔

پچھلے دنوں شوبز کی ایک مشہور شخصیت وینا ملک کا ٹویٹ دیکھا گیا، جس میں مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کے بارے میں نہایت بے ہودہ الفاظ استعمال کیے گئے تھے اور جن کا صرف ذکر کرنا ہی ایک باشعور انسان کے لیے باعث شرمندگی ہو گا۔ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ اس ٹویٹ کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر لوگوں کو مریم نواز کی ذاتیات پر حملے کرنے کا ایک اور موقع مل گیا۔


لیکن مسئلہ صرف سوشل میڈیا پر خواتین سیاست دانوں کی ذاتی زندگیوں پر بات کرنے کا نہیں ہے، افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں شروع سے ہی خواتین کی کردار کشی کی جاتی رہی ہے اور سیاسی اختلاف کی آڑ میں بد اخلاقی کی ساری حدیں پار کرنا ان مفاد پرست سیاست دانوں کا پرانہ وطیرہ ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ فاطمہ جناح کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے ایک جلسے میں ان پر ہونے والا ذاتی حملہ آج بھی بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کہ محترمہ سے پوچھا جائے کہ وہ شادی کیوں نہیں کرتیں؟


اس کے بعد خود پیپلز پارٹی کی خواتین بھی اس طرح کے رویے کا نشانہ بنیں اور سیاسی مخالفین کی طرف سے ہونے والی ان کی کردار کشی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ بیگم نصرت بھٹو اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی نازیبا تصاویر ہیلی کاپٹر سے گرانے کا عمل بھی مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کے اوچھے ہتھکنڈوں میں شامل رہا۔

گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسینڈہ آرڈرن نے بے نظیر بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کو سیاست میں آنے والی خواتین کے لیے ایک عمدہ مثال قرار دیا، جبکہ ہمارے یہاں اب بھی خواتین کے ساتھ یہ متعصبانہ سلوک روا رکھا جانا عام ہے۔


اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کو بھی اس طرح کے سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جہاں سیاسی مخالفین نے نہ صرف عمران خان کی بہنوں کے بارے میں عامیانہ باتیں کیں بلکہ دھرنے میں آنے والی خواتین کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا اور پارٹی ترانوں پر جھنڈے لہرانے والی خواتین کے لیے 'مجرے‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ سابق خاتون اول بشری بی بی کے لیے ''پنکی پیرنی اور جادوگرنی‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے اور ان کے بارے میں عجیب وغریب کہانیاں نہ صرف سیاسی حلقوں میں بلکہ میڈیا پر بھی گردش کرتی نظر آتی ہیں۔

پارلیمان جو کہ ملک کا اہم ترین ادارہ ہے، وہاں بھی خواتین کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنے کی بجائے ان پر نازیبا جملے کسے جاتے ہیں اور خواجہ آصف کی طرف سے محترمہ شیریں مزاری صاحبہ کے لیے ''ٹریکٹر ٹرالی‘‘ جیسے الفاظ ان سیاست دانوں کی ذہنی پسماندگی کا ثبوت ہیں۔


بحیثیت سوشیالوجی کے طالب علم کے میں ان رویوں کا ذمہ دار معاشرے کی مجموعی سوچ کو ٹھہراؤں گی، جس میں ہمیں خواتین کے احترام کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہاں خواتین کے خلاف گالم گلوچ مردوں کا عمومی رویہ ہے۔

جس ملک میں لوگ ایک دوسرے کے خلاف غصے اور اختلاف کا اظہار ماں، بہن، بیٹی کو گالی دے کر کرتے ہوں، وہاں سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ان کی کردار کشی اسی معاشرتی بیماری کی عکاسی ہے۔


یہ رویہ سیاسی جلسوں اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ٹاک شوز میں بھی دیکھنے میں آتا ہے، جہاں سیاسی مباحثوں میں تنقید کے نام پر ایک دوسرے کی نا صرف عزت اچھالی جاتی ہے بلکہ ایک طوفانی بدتمیزی برپا ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں ایک طرف تو سیاست ویسے ہی بدنام ہے، وہیں دوسری طرف اس طرح کے رویے خواتین کی سیاست میں شمولیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس سارے سیاسی منظر نامے کا بغور مشاہدہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف سیاست میں ہی اصلاحات کی ضرورت نہیں بلکہ سیاسی رہنماؤں اور نمائندگان کی اخلاقی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ان کے ورکرز اور عام عوام بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک سیاسی شعور اور بہتر اخلاقی کردار کا مظاہرہ کریں۔


معاشرے میں نہ صرف گھریلو خواتین بلکہ گھر سے باہر نکل کر کام کرنے والی اور سیاست میں آنے والی خواتین کے احترام اور تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے ورنہ یہ معاشرہ اپنی پسماندگی اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کا خود ہی ذمہ دار ہو گا۔ (نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔