طیارہ حادثہ: چار بچے چالیس دن بعد جنگل میں زندہ مل گئے

کولمبیا کے ایمیزون جنگلات میں ایک طیارے کے حادثے کے چالیس روز بعد چار بچے زندہ مل گئے ہیں۔ اسے ایک معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔

طیارہ حادثہ: چار بچے چالیس دن بعد جنگل میں زندہ مل گئے
طیارہ حادثہ: چار بچے چالیس دن بعد جنگل میں زندہ مل گئے
user

Dw

کولمبیا کے صدر گُستاوہ پیٹرو نے اس خبر کا اعلان کیا۔ انہوں نے اسے پورے ملک کے لیے خوشی کا موقع قرار دیا ہے، ''آج ہم نے ایک جادوئی دن گزارا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ بچے کمزور ہو چکے ہیں اور ڈاکٹر ان کا معائنہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک چھوٹے طیارے کے حادثے کے بعد لاپتہ ہونے والے ان چار بہن بھائیوں کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ حادثے کے بعد 160 فوجیوں اور 70 مقامی لوگوں پر مشتمل سرچ ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ یہ سبھی لوگ جنگل کے بارے میں گہری معلومات رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کیس کو عالمی توجہ حاصل ہوئی۔


اطلاعات کے مطابق ملنے والے چاروں بچے کولمبیا کی سرحد کے قریب تھے۔ یہ سرحد حادثے کے مقام سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ یکم مئی کو حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں کل سات افراد سوار تھے۔ یہ حادثہ پیش آنے سے پہلے پائلٹ کی طرف سے ایک انجن خراب ہونے کا پیغام بھیجا گیا تھا۔

جب امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں تو پائلٹ، بچوں کی ماں اور ان کے ساتھ طیارے پر سوار مقامی قدیم نسل کے قبائلی رہنما ہلاک ہو چکے تھے جبکہ یہ چھوٹا جہاز درختوں کے درمیان اٹکا ہوا تھا۔ متاثرہ بچوں کو ہفتے کی صبح آرمی میڈیکل طیارے کے ذریعے ملٹری ایئرپورٹ پر پہنچایا گیا اور اب ان کی نگہداشت دارالحکومت بگوٹا کے ایک ہسپتال میں کی جا رہی ہے۔


سرچ آپریشن کی قیادت کرنے والے جنرل پیڈرو سانچیز نے بچوں کی تلاش کا سہرا ریسکیو کی کوششوں میں شامل قدیم نسل کے مقامی لوگوں کے سر رکھا ہے۔ انہوں نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''ہمیں بچے مل گئے ہیں۔ یہ معجزہ ہے، معجزہ ہے، معجزہ ہے۔‘‘

تین بڑے بچوں کی عمریں تیرہ، نو اور چار برس ہیں جبکہ ایک چھوٹے بچے کی عمر فقط گیارہ ماہ ہے۔ یہ بچے حادثے کے بعد سے تنہا جنگل میں گھوم رہے تھے۔ یہ علاقہ چیتوں، سانپوں اور دیگر خطرناک جانوروں کے ساتھ ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے مسلح گروہوں کا گھر ہے لیکن پیروں کے نشانات، ایک ڈائپر اور آدھے کھائے گئے پھل جیسے سراغ نے حکام کو یقین دلایا کہ وہ صحیح راستے پر گامزن ہیں۔


اس فکر میں کہ بچے بھٹکتے رہیں گے اور تلاش کرنا مزید مشکل ہو جائے گا، فضائیہ نے 10 ہزار فلائیرز کو ہسپانوی اور بچوں کی اپنی مقامی زبان میں ہدایات کے ساتھ جنگل میں پھینکا۔ ان فلائیرز کے ذریعے بچوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے مقام پر کھڑے رہیں۔

قبل ازیں بچوں کی گمشدگی کے سترہ روز بعد صدر گُستاوہ پیٹرو نے کہا تھا کہ متاثرہ بچے زندہ ہیں لیکن بعدازاں انہوں نے اپنا بیان یہ کہتے ہوئے واپس لے لیا تھا کہ انہیں غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ ملک بھر میں فوج اور مقامی قدیم آبادی کے مابین مل کر کام کرنے کی تعریف کی جا رہی ہے۔ ان فوجیوں کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے، جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود مسلسل بچوں کی تلاش جاری رکھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔