جسٹس آغا حیدر: بھگت سنگھ کی پھانسی کے پروانے پر دستخط کرنے سے انکار کرنے والے منصف
انگریز حکومت نے رشوت کے طور پر منصورپور چینی مل، ایک لاکھ روپیہ نقد کے علاوہ وائسرائے ایگزیکیوٹو کی رکنیت کی پیش کش کی لیکن آغا حیدر نے غصے میں جواب دیا ’’چلے جاؤ، میں ایک جج ہوں کوئی قصائی نہیں!‘‘

تاریخ ہند ان لازوال شہدا کے خون سے لکھی گئی ہے جنہوں نے اپنی حکمت عملی سے برطانوی نو آبادیاتی نظام کو لوہے کے چبوا دیے تھے اور جب تک مادر ہند کو ان کے ناپاک قدموں سے پاک نہیں کرا لیا ہار نہیں مانی۔ ایسے ہی مجاہد آزادی بھگت سنگھ تھے، جن کا آج یوم شہادت ہے۔ بھگت سنگھ اور ان کی شہادت کے بارے میں برصغیر کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن کچھ انقلابیوں کی بے لوث قربانی نظر نہیں آتی۔ ایسا ہی ایک نام ہے جسٹس سید آغا حیدر عابدی سہارنپوری، جنہوں نے برطانوی حکام کے حکم پر عمل آوری کرنے سے انکار کرتے ہوئے شہید بھگت سنگھ کی پھانسی کے پروانے پر دستخط نہیں کئے تھے۔ اس سے قبل کہ حکومت جسٹس آغا حیدر عابدی کو برطرف کرتی، وہ خود ہی لاہور ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفی دیکر اپنے آبائی وطن سہارنپور لوٹ آئے۔
حب الوطن سید آغا حیدر عابدی 1876 میں سہارنپور کے محلہ میرکوٹ میں واقع حویلی میر احسان علی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مروجہ دستور کے مطابق حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے الہ آباد یونیورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے ایم اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازیں کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں اردو، فارسی، انگلیش، جرمن اور فرنیچ پر دسترس حاصل تھی۔
سید آغا حیدر نے 1907 تا 1923 سولہ سال الہ آباد ہائی کورٹ میں وکالت کی خدمات انجام دیں اور 1924 میں لاہور ہائی کورٹ میں جج کا عہدہ سنبھالا۔ جب انگریز انتظامیہ نے1930 میں خصوصی ٹربیونل کی تشکیل دی تو اس میں آغا حیدر واحد ہندوستانی جج تھے۔
سانحہ چوری چورا کے بعد 12 فروری 1922 کو مہاتما گاندھی نے ’سول نافرمانی تحریک‘ کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ قبل ازوقت تحریک کو واپس لینا ہندوستانیوں کو گراں گزرا۔ سی آر داس کو یقین تھا کہ تحریک واپس لے کر گاندھی جی نے ایسی غلطی کی ہے جس سے شدید نقصان ہوگا۔ نیز اس اعلان نے سیاسی کام کرنے والوں کی ہمت پست کر دی اور اب عوام میں ایسا جوش و خروش برسوں تک پیدا نہیں کیا جا سکے گا۔ گاندھی جی سے نالاں چندر شیکھر آزاد، سردار بھگت سنگھ، رام پرساد بسمل اور اشفاق اللہ خاں وغیرہ جوشیلے نوجوان کے ایچ ایس آر اے (ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن) کے زیر سایہ کھڑے نظر آئے کیونکہ ان کے نزدیک عدم تشدد کے سہارے ہندوستان آزادی کی جنگ نہیں جیت سکتا اور مسلح انقلاب ناگزیر ہے۔
اسی اثنا میں برطانوی پارلیمنٹ نے 1927 میں عوام کے مطالبات اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد سر جان سائمن کی زیر صدارت ایک کمیشن تشکیل دیا، چونکہ اس کمیشن کا رکن کوئی ہندوستانی نہیں تھا لہٰذا اس کی پرزور مخالفت کی گئی۔ سائمن واپس جاؤ کے نعروں سے جگہ بہ جگہ اس کا استقبال کیا گیا۔ 30 اکتوبر 1928 میں لاہور میں کمیشن کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کی رہنمائی لالہ رائے کر رہے تھے۔ لاہور ایس ایس پی جیمز اے اسکاٹ نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاٹھی چارج کا حکم صادر کر دیا۔ جس کی زد میں آکر لاجپت رائے شدید زخمی ہو گئے اور پھر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس واردات کے بعد نوجوان انقلابیوں کا غصہ ساتویں آسمان پر جا پہنچا اور انہوں نے لاٹھی چارج کا حکم دینے والے ایس ایس پی جیمز اے اسکاٹ کو قتل کرنے کی حکمت عملی تیار کی۔ مگر غلطی سے 17 دسمبر 1928 کو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جان سانڈرز گولی کا نشانہ بن گئے۔
انگریز اعلیٰ حکام نے مخبروں کا وسیع جال پھیلا کر مسلح انقلابیوں کی دار و گیر شروع کر دی۔ بھگت سنگھ سمیت 18 انقلابیوں پر سانڈرز کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ جس کی سماعت کے لئے جسٹس سید آغا حیدر عابدی، جسٹس جیسی ہلٹن اور جسٹس جے کولڈ اسٹریم پر مشتمل تین رکنی کمیٹی مقرر کی گئی۔ مقدمہ کی سماعت لاہور عدالت عالیہ میں ہوئی۔ مقدمہ میں 455؍لوگوں نے گواہی دی ۔گواہوں میں مشہور ادیب خوشونت سنگھ کے والد سردار شوبھا سنگھ بھی شامل تھے۔ دونوں انگریز جج انہیں پھانسی دینے پر بضد تھے مگر جسٹس آغا حیدر بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو کے خلاف پیش ہونے والے ہر گواہ کے بیانات اور شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ چنانچہ سید آغا حیدر عابدی کے ہوتے ہوئے انگریز ججوں کے منصوبے پورے ہونے مشکل تھے۔ برطانوی حکومت نے جسٹس آغا حیدر عابدی کو حرص و طمع کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کی۔
قصبہ سرساوہ ضلع سہارنپور ’سوراج مندر ‘ سے منسلک شش رمن کوشک کہتے ہیں، ’’آغا حیدر نے ٹربیونل کے ہر غلط فیصلے کی کھل کر مخالفت کی اور بھگت سنگھ کے خلاف گواہی دینے آئے ایک گواہ سے جرح کر کے اسے جھوٹا ثابت کر دیا۔ ان کا سخت رویہ دیکھ کر صدر کمیٹی جسٹس جے کولڈ اسٹریم نے وائسراے ہند کو خط بھیجا کہ جسٹس آغا حیدر کی وجہ سے بھگت سنگھ کو پھانسی دینا قطعی ممکن نہیں ہے۔ تب وائسراے نے رات کی تاریکی میں سرکاری وکیل کارڈن نیڈ کو آغا حیدر کے پاس بھیجا اور رشوت کے طور پر منصورپور چینی مل، ایک لاکھ روپیہ نقد کے علاوہ وائسرائے ایگزیکیوٹو کی رکنیت کی پیش کش کی لیکن آغا حیدر نے غصے میں جواب دیا ’’چلے جاؤ، میں ایک جج ہوں کوئی قصائی نہیں!‘‘
آغا حیدر عابدی نے انگریزوں کے آگے جھکنے کے بجائے استعفی دینا بہتر سمجھا اور ان کے مستعفی ہونے کے بعد حکام نے جسٹس سر شادی لعل کے ذریعہ اپنی آرزو پوری کی۔ اے جی نورانی نے اپنی کتاب ’دی ٹرائل آف بھگت سنگھ پولیٹکس آف جوڈیشری‘ میں واضح طور لکھا ہے کہ برطانوی حکومت زبردستی دو برطانوی اور ایک ہندوستانی جج کے ذریعہ پھانسی دینا چاہتی تھی۔
بہر کیف آغا حیدر عابدی کے مستعفی ہونے کے بعد بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو سزائے موت سنا دی گئی، جس کی آناً فاناً میں 23 مارچ 1931 کو تعمیل کر دی گئی۔ سردار بھگت سنگھ کی شہادت کی طرح گمنام مجاہد آزادی جسٹس سید آغا حیدر عابدی سہارنپوری کی حب الوطنی اور ان کی قربانی پر بھی ہر ہندوستانی کو ناز ہونا چاہئے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔