خبردار: خطرناک ہو سکتا ہے آپ کے سونے کا طریقہ!

اعصابی طب اور سونے سے متعلق سائنس کی ایک خاتون ماہر نے خبردار کیا ہے کہ سونے کے دوران میں انسان کی ہیئت درست نہ ہو تو یہ عدم راحت اور طویل مدت میں خطرناک امراض کا سبب بن سکتی ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سونے کا عمل انسانی جسم کی راحت اور سکون کی بنیاد ہے۔ تاہم سونے کی بعض حالتیں ایسی ہیں جو صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتی ہیں! اعصابی طب اور سونے سے متعلق سائنس کی ایک خاتون ماہر نے خبردار کیا ہے کہ سونے کے دوران میں انسان کی ہیئت درست نہ ہو تو یہ عدم راحت اور طویل مدت میں خطرناک امراض کا سبب بن سکتی ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق یلینا تساریوا کا کہنا ہے کہ عام طور پر لوگوں کو ایک ہی ہیئت میں سونے کی عادت ہوتی ہے تاہم بعض مرتبہ یہ بات ان کی صحت کے لیے مضر ہو سکتی ہے۔ یلینا مثلا کروٹ پر لیٹنا طبی لحاظ سے زیادہ فائدہ مند ہے تاہم بائیں کروٹ پر لیٹنے سے امراض قلب میں مبتلا افراد پر منفی طور سے اثر انداز ہو سکتا ہے۔ لہذا دائیں کروٹ پر لیٹنا بہتر ہو گا۔


روسی ماہر کے مطابق سونے کے دوران میں کروٹ سے لیٹنے کو ترجیح دینا چاہیے۔ اس ہیئت میں "میٹابولزم" کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔یلینا کے مطابق اسی طرح Flaccid tongue کے مسئلے سے دوچار افراد کو کمر کے بل لیٹنا درست نہیں۔ یہ سونے کے دوران میں عارضی طور پر سانس کے رکنے کا سبب بنتا ہے اور اس کا نتیجہ خراٹوں کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

روسی ماہر اعصاب نے انکشاف کیا کہ پیٹ کے بل لیٹنا صحت کے لیے سب سے زیادہ مضر ہے۔ اس لیے کہ یہ ریڑھ کی ہڈی کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ اس ہیئت پر لیٹنے سے بعض پٹھوں میں انتہائی شدت سے کھچاؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سو کر اٹھنے کے بعد صبح گردن میں یا سر میں درد ہو سکتا ہے۔

یلینا نے باور کرایا کہ پیٹ کے بل سونے کی عادت کا نتیجہ میٹابولزم کا عمل معطل ہونے اور الزائمر کا مرض بڑھنے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔