خلا کا ملبہ ہٹانے کے لیے ہندوستان اور جاپان کی کمپنیوں میں تعاون کا معاہدہ

ہندوستان کی سامٹیل ایویونکس اور جاپان کی بُل کمپنی سیٹلائٹ کے مشن کے بعد ملبہ بننے سے روکنے اور پہلے سے مدار میں موجود ملبہ ہٹانے کے لیے ٹیکنالوجی ملانے کا جائزہ لے رہی ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

ہندوستان اور جاپان کی دو کمپنیاں خلا میں بڑھتے ہوئے ملبے سے نمٹنے کے لیے اپنی ٹیکنالوجی یکجا کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ ہندوستانی سامٹیل ایویونکس اور جاپانی بل کمپنی نے ستمبر 2026 میں بنگلورو اسپیس ایکسپو کے دوران تعاون کا معاہدہ کیا تھا۔ اب دونوں ادارے اس شراکت کو آگے بڑھانے اور اپنی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

آج تک کی رپورٹ کے مطابق، 15 اکتوبر کو گروگرام میں دونوں کمپنیوں کے عہدیداروں نے منصوبے پر بات چیت کی۔ یہ ملاقات بنگلورو میں طے پانے والے معاہدے کے بعد پیش رفت کا حصہ تھی۔ کمپنیاں اپنے آلات اور ٹیکنالوجی کی مطابق جانچ رہی ہیں، تاکہ مستقبل میں انہیں مشترکہ طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ان کا مقصد مدار میں پہلے سے موجود ناکارہ سیٹلائٹس اور ان کے ٹکڑوں کو ہٹانے کے امکانات پر کام کرنا ہے۔ تاہم کسی مخصوص مشن، راکٹ یا لانچ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سیٹلائٹ موسم کی پیش گوئی، مواصلات اور کئی دوسری اہم خدمات فراہم کرتے ہیں۔ جب ان کا مشن مکمل ہوجاتا ہے تو بعض ناکارہ سیٹلائٹ مدار میں رہ جاتے ہیں۔ ان کے ٹکڑے تیز رفتاری سے حرکت کرتے ہیں اور فعال سیٹلائٹس سے ٹکرا کر انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے تصادم سے نہ صرف خلائی آلات متاثر ہوتے ہیں، بلکہ زمین پر فراہم کی جانے والی خدمات میں بھی خلل پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے۔


بل کمپنی کی ٹیکنالوجی کو پوسٹ مشن ڈسپوزل، یعنی مشن کے بعد سیٹلائٹ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا نظام، کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد سیٹلائٹ کا طے شدہ کام مکمل ہونے کے بعد اسے بے کار حالت میں مدار میں چھوڑنے سے روکنا ہے۔ اس طریقے سے مستقبل میں نیا خلائی ملبہ پیدا ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی پہلے سے خلا میں موجود پرانے ٹکڑوں کو ہٹانے کے لیے نہیں بنائی گئی۔

اسی لیے بل کے نظام کو سامٹیل کے ڈیبری ریموول وہیکل، یعنی ملبہ ہٹانے والی گاڑی، کے ساتھ جوڑنے کی تجویز زیر غور ہے۔ دونوں کمپنیاں یہ جانچ رہی ہیں کہ بل کے آلات پہلے سے مدار میں موجود ملبہ ہٹانے میں کس طرح مدد دے سکتے ہیں۔ اس مرحلے پر وہ ٹیکنالوجی کے امتزاج، اس کے ممکنہ استعمال اور عملی امکانات کا مطالعہ کر رہی ہیں۔

سامٹیل ایویونکس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو پونیت کورا نے کہا کہ خلا کو محفوظ رکھنا کسی ایک کمپنی کے لیے آسان نہیں، اس کے لیے مختلف اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ بل کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو یاسوہیتو اوتو کے مطابق خلا پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کی ٹیکنالوجی آئندہ ملبہ بننے سے روکنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن پرانے ملبے سے نمٹنے کے لیے اضافی حل بھی ضروری ہیں۔

مدار میں موجود کچرا فعال سیٹلائٹس، موسم کی نگرانی اور مواصلاتی نظام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لیے سیٹلائٹ کا کام ختم ہونے کے بعد اسے محفوظ طریقے سے ہٹانے یا اس کا مدار تبدیل کرنے کے طریقے اہم سمجھے جارہے ہیں۔ سامٹیل اور بل اسی مسئلے کے حل کے لیے اپنے نظاموں کو یکجا کرنے کا امکان دیکھ رہی ہیں۔ فی الحال یہ ابتدائی تیاری ہے؛ آگے کی پیش رفت میں مشترکہ ٹیکنالوجی کی آزمائش اور کسی ممکنہ مشن کی منصوبہ بندی شامل ہوسکتی ہے۔