چین نے قومی سلامتی کے خدشات پر میٹا اور مانُس کے درمیان دو ارب ڈالر کی اے آئی ڈیل منسوخ کر دی
چین نے قومی سلامتی اور ڈیٹا تحفظ کے خدشات کے تحت میٹا اور مانُس کے درمیان دو ارب ڈالر کی اے آئی ڈیل منسوخ کر دی، جس سے عالمی ٹیک سرمایہ کاری اور سرحد پار معاہدوں پر سختی کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں

نئی دہلی: چین نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کو روکتے ہوئے میٹا اور تیزی سے ابھرتی اے آئی کمپنی مانُس کے درمیان مجوزہ دو ارب ڈالر کی ڈیل کو قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف عالمی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے ماحول میں ہلچل پیدا کی ہے بلکہ سرحد پار ہونے والے معاہدوں پر بڑھتی نگرانی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ چین کے نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کی جانب سے کیا گیا، جس نے 2021 میں نافذ کیے گئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے حفاظتی ضوابط کے تحت اس سودے کو مسترد کرنے کا حکم دیا۔ اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ چین اپنی حساس ٹیکنالوجی اور ہنر کو بیرونی کمپنیوں تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے مزید سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیل کو روکنے کی وجہ صرف کمپنی کی رجسٹریشن کی جگہ نہیں بلکہ اس کے چین کے ساتھ اندرونی روابط، ٹیکنالوجی کی تیاری اور ڈیٹا کے تحفظ سے جڑے مسائل ہیں۔ چینی حکام نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ مانُس کے چین میں موجود انجینئرنگ وسائل اور تکنیکی ڈھانچے کا فائدہ ایک غیر ملکی کمپنی کو منتقل ہو سکتا ہے۔
مانُس، جو اے آئی کے میدان میں تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنی کے طور پر سامنے آئی ہے، نے ابتدا میں امریکی سرمایہ کاروں سے مالی مدد حاصل کی تھی اور بعد میں اپنے آپریشنز بیرون ملک منتقل کر دیے تھے۔ اس کے باوجود چینی حکام نے اس کے چین کے ساتھ باقی رہ جانے والے روابط کو سنجیدگی سے لیا اور انہیں قومی مفادات کے لیے حساس قرار دیا۔
اس فیصلے کے تحت دونوں کمپنیوں کے درمیان ہونے والے تمام معاہدوں کو واپس لیا جائے گا۔ اس میں حصص کی منتقلی کو منسوخ کرنا، سرمایہ واپس کرنا اور دانشورانہ ملکیت کی واپسی جیسے پیچیدہ مراحل شامل ہیں، جو خاص طور پر اے آئی جیسے حساس شعبے میں نہایت نازک سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک واضح پیغام گیا ہے کہ چین اب ان سودوں پر کڑی نظر رکھے گا جن میں اس کی ٹیکنالوجی یا افرادی قوت کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق شامل ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ کمپنیاں جو بظاہر بیرون ملک رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کی جڑیں چین سے جڑی ہیں، وہ بھی ان قوانین کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کو اسٹریٹیجک اہمیت حاصل ہو چکی ہے اور بڑی طاقتیں اس پر کنٹرول کو اپنے قومی مفادات سے جوڑ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد مستقبل میں سرمایہ کار اپنی ٹیکنالوجی، تحقیق اور آپریشنز کو جغرافیائی طور پر الگ رکھنے پر زیادہ توجہ دیں گے تاکہ اس نوعیت کی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔
چین کے اس اقدام سے نہ صرف میٹا جیسے بڑے اداروں کو دھچکا لگا ہے بلکہ یہ عالمی ٹیک معاہدوں کے لیے ایک نئے دور کی شروعات بھی ثابت ہو سکتا ہے، جہاں سلامتی اور ڈیٹا تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہوگی۔