آرٹیمس کی کامیابی: خلائی تحقیق میں نئے دور کا آغاز
آرٹیمس 2 مشن انسانی خلائی تحقیق میں نئی پیش رفت ہے، جس نے نہ صرف مستقبل میں چاند پر قیام، مریخ مہمات، اور زمین پر ٹیکنالوجی کے فوائد کو اجاگر کیا بلکہ عالمی تعاون و خلائی ذمہ داری کی اہمیت بھی واضح کی

چاند کے ارد گرد دس دن کے سفر کے بعد، امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے آرٹیمس 2 مشن پر موجود چار خلاباز 10 اپریل کو زمین پر واپس لوٹ آئے۔ اس تاریخی مشن نے قمری ’فلائی بائی‘ کے دوران خلا میں انسان کے سب سے زیادہ دور تک جانے کا ریکارڈ قائم کیا ، ساتھ ہی یہ مشن 1972 کے بعد چاند کی سطح پر واپسی کے لیے ایک اہم قدم تھا جس نے مستقبل کی خلائی تحقیق کی بنیاد رکھی۔ آرٹیمس پروگرام کا مقصد چاند پر پائیدار انسانی موجودگی کو قائم کرنا، قمری جنوبی قطب کو دریافت کرنا اور مریخ پر مستقبل کے عملے کے مشن کے لیے ٹیکنالوجی کی جانچ کرنا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس تاریخی سنگ میل کو انسانی خلائی پرواز کے عالمی دن کے موقع پر منایا۔ اقوام متحدہ کے چیمپئن برائے خلا، بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر طبیعیات، مصنف اور براڈکاسٹر پروفیسر برائن کاکس نے مشن کے بارے میں بتایا کہ "یہ اب صرف ریسرچ کے بارے میں نہیں ہے، یہ ہر ایک کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیےہے۔ جیسے ہی ہم خلا میں جاتے ہیں، یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے سیارے یعنی زمین سے فرار نہیں ہو رہے ہیں، اور زمین کم اہم نہیں ہو رہی ہے... بلکہ ہم اس پر اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کر رہے ہیں"۔ انہوں نے زور دیا کہ زمین ہمارے لیے کائنات کا بہترین سیارہ ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم ارتقاء پذیر ہوئے۔ پروفیسر کاکس کے مطابق، خلاء اب سائنس فکشن نہیں ہے، بلکہ ہماری تمام زندگیوں اور ہماری معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کی صلاحیت
خلائی ٹیکنالوجی ہمارے سیارے کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان میں موسمیاتی تبدیلی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔ پروفیسر کاکس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ زیادہ سے زیادہ چیزیں جن کو ہم زمین پر بے قدری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ خلا پر مبنی معیشت کا حصہ بن رہی ہیں۔ سیٹلائٹ کی تصویریں زمین پر ہمیں درپیش چیلنجوں کا واضح منظر پیش کرتی ہیں، جیسے فصلوں کی پیداوار کی نگرانی، پانی کے وسائل کا انتظام، اور جنگلات کی کٹائی کو حقیقی وقت میں ٹریک کرنا۔ دریں اثنا، سیٹلائٹ کے ذریعے دور افتادہ علاقوں میں اسکولوں کے لیے ای لرننگ یا دور دراز علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کو فعال کر سکتی ہے۔
اسپیس کے لیے اپنے شوق کو دنیا کے ساتھ بانٹتے ہوئے، کاکس نے یاد دلایا کہ خلا ہر ایک کی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے کردار کو ’اسٹراٹاسفیئر‘ سے باہر کنوینر، خلا کے لیے ایک گیٹ وے، اور قوموں کے لیے پرامن طریقے سے خلا کو تلاش کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے والے کے طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، خلا لوگوں کو اکٹھا کرتی ہے کیونکہ وہاں کوئی سرحدیں نہیں ہوتیں۔انہوں نے بتایا خلا میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ، اقوام متحدہ کا دفتر برائے بیرونی خلائی امور (یواین او او ایس اے) رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، بشمول قمری تعاون، خلائی ٹریفک، خلائی وسائل، اور سیاروں کا دفاع۔
اپالو-سویوز خلائی مشن
پروفیسر کاکس نے اس بات پر زور دیا کہ خلا کے لیے ہمیشہ سے ایک آئیڈیلزم پایا گیا ہے، لیکن یہ کوئی سادہ آئیڈیل ازم نہیں ہے۔ انہوں نے 1975 کے اپولو-سویوز مشن کو یاد کیا، جو امریکہ اور اس وقت کے سوویت یونین کے درمیان سائنسی اور سیاسی تعاون کا ایک اہم لمحہ تھا، اور پہلی بار دو ممالک کا خلائی جہاز مدار میں پہنچا تھا۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ امریکہ اور سوویت یونین مل کر ایسی ٹیکنالوجیز تیار کریں گے جو ہم آج بھی خلا میں استعمال کر رہے ہیں۔ خلابازوں نے خلا میں بنی نوع انسان کی تمام کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے جھنڈے کا تبادلہ کیا تھا۔
پروفیسر کاکس کے مطابق، اس بات کو یقینی بنانا کہ ہر کوئی اپنا حصہ ڈال سکتا ہے اور فائدہ اٹھا سکتا ہے بالآخر خلا میں ہمارے سفر کو آسان بنا دیتا ہے۔ حال ہی میں، یواین او او ایس اے نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کینیا، ماریشس، مالڈووا اور گوئٹے مالا سمیت کئی ممالک کو اپنے پہلے سیٹلائٹ کی تعیناتی میں مدد کی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ ممالک خلائی برادری میں شامل ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کے ادارے نے ابھرتی ہوئی خلائی قوموں کو قومی خلائی قوانین کے مسودے میں مدد کی ہے تاکہ ان کے قوانین بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہیں۔
خلا میں ملبے سے خطرہ
خلا ایک وسیع جگہ ہے، لیکن اس میں تیزی سے ہجوم ہوتا جا رہا ہے۔ 2025 میں، 4500 سے زیادہ نئے سیٹلائٹس لانچ کیے گئے، اس کے برعکس 2015 میں صرف 200 سے زیادہ لانچ کیے گئے۔ پروفیسر کاکس نے متنبہ کیا کہ بہت سی اشیاء خلاء میں بکھر جاتی ہیں اور ’جنک‘ پیدا کرتی ہیں، اندازوں کے مطابق زمین کے مدار میں ملبے کے 13 کروڑ ٹکڑے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک سینٹی میٹر سے بھی کم چھوٹے ٹکڑے بھی تباہ کن نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے مزید تصادم کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
مریخ پر انسانی قدموں کی امید
ان عملی طریقوں کو تسلیم کرتے ہوئے جن سے خلا ہماری روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے، پروفیسر کاکس رومانیت کو خلا سے دور نہیں لے جانا چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ جس دریافت کو وہ اپنی زندگی میں دیکھنےکے خواہشمند ہیں وہ "ایک اور دنیا" کی دریافت ہوگی۔ انہیں یقین ہے کہ زمیں کے علاوہ کہیں نہ کہیں زندگی ہے۔ اگر نظام شمسی کے بہت سے چاندوں اور ممکنہ طور پر مریخ پر بھی جرثومے موجود ہوں تو وہ حیران نہیں ہوں گے۔ انہیں امید ہے کہ ایک دن انسان اقوام متحدہ کے جھنڈے کے ساتھ مریخ پر قدم رکھے گا ۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔