جدید ترین امریکی F-35 اسٹیلتھ طیارے جرمن ریڈار پر پکڑے گئے

امریکا کے ایف 35 طیاروں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دشمن کے راڈار پر بھی نظر نہیں آتے۔ لیکن گزشتہ برس ایک جرمن کمپنی کے راڈار نے اس طیارے کو 150 کلومیٹر کے فاصلے پر دیکھ لیا تھا۔

جدید ترین امریکی F-35 اسٹیلتھ طیارے جرمن ریڈار پر پکڑے گئے
جدید ترین امریکی F-35 اسٹیلتھ طیارے جرمن ریڈار پر پکڑے گئے

ڈی. ڈبلیو

امریکی ایف پینتیس طیاروں کو دنیا کا سب سے جدید اور مہنگا ترین لڑاکا طیارہ قرار دیا جاتا ہے۔ امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹین کے تیار کردہ ایک طیارے کی قیمت 1.5 ٹریلین ڈالر بنتی ہے۔

اسرائیل، برطانیہ، آسٹریلیا اور ترکی جیسے امریکی اتحادی ممالک سمیت دنیا کے کئی ممالک ان لڑاکا طیاروں کے حصول کے خواہش مند ہیں اور اب تک 2700 طیاروں کے آرڈر بھی دیے جا چکے ہیں۔

جدید اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل

ان جدید ترین امریکی طیاروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی نصب ہے جس کے باعث دشمن کے راڈار انہیں نہیں دیکھ پاتے۔ اس خصوصیت کے باعث دنیا بھر کی فضائی افواج ان لڑاکا طیاروں کے حصول کی خواہش مند بھی ہیں۔

موقر جرمن جریدے 'اشپیگل آن لائن‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران جرمنی بھی جدید لڑاکا طیارے خریدنے کی کوشش میں ہے۔ برلن حکومت امریکی ساختہ 'ٹورناڈو‘ طیاروں کی جگہ نئے طیارے خریدنے کے لیے مختلف متبادل طیاروں کا جائزہ لے رہی تھی۔

گزشتہ برس لاک ہیڈ مارٹین کمپنی نے برلن ایئر شو میں اپنے ایف 35 طیارے اسی نیت سے بھیجے تاکہ جرمن حکومت دیگر طیاروں کے بجائے ان کے راڈار پر نظر نہ آنے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے خریدے۔

اپریل سن 2018 میں دو ایف 35 طیاروں نے ایریزونا سے پرواز بھری اور رکے بغیر قریب گیارہ گھنٹے کی پرواز کے بعد برلن کے شونے فیلڈ ہوائی اڈے پر پہنچ گئے۔

اس وقت برلن ایئر شو میں ایک جرمن کمپنی ہینسولڈٹ نے اپنے TwInvis راڈار بھی نمائش کے لیے رکھے ہوئے تھے۔ ایک امریکی ویب سائٹ نے انکشاف کیا ہے کہ جدید امریکی اسٹیلتھ طیارے اس جرمن کمپنی کے راڈار پر قریب ڈیڑھ سو کلومیٹر فاصلے پر دکھائی دیے تھے۔

اسٹیلتھ ٹیکنالوجی: واقعی ناقابل دید؟

اشپیگل آن لائن نے بھی لکھا ہے کہ برلن ایئر شو پہنچنے کے بعد ایف 35 طیارے زمین پر ہی موجود رہے تھے۔ اس وقت کمپنی سے طیاروں کے پرواز نہ کرنے سے متعلق پوچھا گیا تو کمپنی کا موقف تھا کہ انہیں ایئر شو کے دوران پرواز کی اجازت نہیں ہے۔

ایک امریکی ویب سائٹکے مطابق جرمن کمپنی 'پیسیو راڈار‘ ٹیکنالوجی استعمال کر رہی تھی۔ اسٹیلتھ طیارے عام راڈار پر اس لیے دکھائی نہیں دیتے کیوں کہ وہ سگنل جذب کر لیتے ہیں۔ لیکن جرمن کمپنی کے راڈار میں ریڈیو سگنل استعمال میں لایا جا رہا تھا۔ اس ٹیکنالوجی کے باعث جدید اسٹیلتھ طیارے کے پائلٹ کو بھی معلوم نہیں پڑتا کہ اس پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

بہرحال جرمنی نے ایف 35 طیارے نہیں خریدے۔ لیکن قریب ڈیڑھ برس بعد یہ واضح ہو گیا کہ جدید اور مہنگے ترین اسٹیلتھ ایف 35 طیارے بھی راڈار پر دکھائی دے سکتے ہیں۔