اے آئی اور ڈیپ فیک کے ذریعے مالی دھوکہ دہی میں اضافہ، امریکہ کو سائبر جرائم سے اربوں ڈالر کا نقصان

امریکہ میں اے آئی اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالی دھوکہ دہی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور 2024 میں سائبر جرائم کے باعث امریکی شہریوں کو 16.6 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

واشنگٹن: امریکہ میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے مالی دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہاؤس فنانشل سروسز سب کمیٹی برائے مالیاتی ادارہ جات کی ایک سماعت کے دوران ارکان کانگریس کو بتایا گیا کہ مجرم جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دے کر بڑی رقوم حاصل کر رہے ہیں۔

سماعت میں امریکی خاندانوں، معمر شہریوں اور چھوٹے کاروباروں کو نشانہ بنانے والے بڑھتے اسکیمرز اور مالی فراڈ کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ سب کمیٹی کے چیئرمین اینڈی بار نے کہا کہ جیسے جیسے مجرم نئی ٹیکنالوجی اپنا رہے ہیں اور عالمی نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم ہیں، مسئلے کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی سے ہونے والا نقصان صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کا تعلق لوگوں کی ریٹائرمنٹ کی جمع پونجی، بچوں کی تعلیم کے لیے محفوظ فنڈز اور چھوٹے کاروباروں کی بچت سے ہے جو بعض اوقات ایک ہی واقعے میں ختم ہو جاتی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اینڈی بار نے بتایا کہ 2024 میں امریکی شہریوں نے سائبر جرائم کے باعث 16.6 ارب ڈالر کے نقصان کی اطلاع دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ مجرم اب مصنوعی ذہانت، آواز کی نقل تیار کرنے والی ٹیکنالوجی، جعلی کالر شناخت اور فرضی سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔


سب کمیٹی کے رکن بل فوسٹر نے کہا کہ ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ بڑھنے کے باوجود اسکیمرز کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر دھوکہ دہی اب آن لائن ماحول میں انجام دی جا رہی ہے اور مجرم مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی دستاویزات اور شناخت تیار کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

سماعت کے دوران بینکوں اور کریڈٹ یونینوں کے نمائندوں نے بتایا کہ مالیاتی ادارے اکثر اس طرح کے فراڈ کے خلاف آخری دفاعی دیوار ہوتے ہیں، حالانکہ بہت سے اسکیمرز مالیاتی نظام کے باہر اور اکثر امریکہ سے باہر سے کارروائیاں کرتے ہیں۔

ٹینیسی کے بینک آف لنکن کاؤنٹی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر گائے ڈیمپسی نے کہا کہ چھوٹے مالیاتی ادارے فراڈ کی روک تھام پر زیادہ وسائل خرچ کر رہے ہیں لیکن وہ اس مسئلے کو اکیلے حل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک معمر شخص آن لائن دھوکہ دہی کے باعث اپنا گھر 85 ہزار ڈالر میں فروخت کرنے پر مجبور ہو گیا۔

ماہرین نے کانگریس پر زور دیا کہ وفاقی اداروں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے اور مالیاتی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو آسان بنایا جائے تاکہ دھوکہ دہی کے طریقوں کی جلد نشاندہی ہو سکے اور صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔