اسمارٹ ڈریسنگ: زخم کا درد کم کرنے اور جلد بھرنے میں مددگار

این آئی ٹی راؤرکیلا کے محققین نے کرکیومن پر مبنی اسمارٹ ڈریسنگ تیار کی ہے، جو زخم سے کم چپکتی ہے، درد اور انفیکشن میں کمی لاتی ہے، زخم جلد بھرتا ہے اور اس کی متوقع قیمت بھی مناسب رکھی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i

نئی دہلی: مرکزی اعلیٰ تعلیمی ادارے این آئی ٹی راؤرکیلا کے محققین نے زخموں کے علاج کے لیے ایک جدید اسمارٹ ڈریسنگ تیار کی ہے، جو نہ صرف زخم میں انفیکشن کے خطرے کو کم کرتی ہے بلکہ ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت ہونے والے درد اور تکلیف میں بھی نمایاں کمی لاتی ہے۔ محققین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی زخم کو تیزی سے بھرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں جدید طبی علاج کے شعبے میں اہم پیش رفت کی بنیاد بن سکتی ہے۔

یہ نئی ڈریسنگ ایک خصوصی نینو فائبر تہہ پر مشتمل ہے، جس میں قدرتی جراثیم کش خصوصیات رکھنے والا کرکیومن شامل کیا گیا ہے، جو ہلدی سے حاصل ہونے والا مؤثر جزو ہے۔ اس نینو فائبر تہہ کو زخم اور روایتی کاٹن گاز کے درمیان رکھا جاتا ہے، جس کے باعث ڈریسنگ کا زخم سے براہ راست رابطہ کم ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے ڈریسنگ ہٹاتے وقت نئے بننے والے بافتوں کو نقصان پہنچنے کا امکان کم ہو جاتا ہے اور مریض کو کم درد محسوس ہوتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ اس نینو فائبر تہہ کے ذریعے کرکیومن بتدریج اور مسلسل زخم تک پہنچتا رہتا ہے، جس سے دوا کی مؤثر مقدار طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ اس عمل سے زخم کے اردگرد صاف اور جراثیم سے محفوظ ماحول قائم رہتا ہے، انفیکشن کے امکانات گھٹتے ہیں اور بار بار ڈریسنگ تبدیل کرنے یا اضافی ادویات استعمال کرنے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

این آئی ٹی راؤرکیلا کے شعبۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور طبی انجینئرنگ کے معاون پروفیسر پروفیسر پرسون کمار نے بتایا کہ جن مریضوں کے زخموں کی بار بار ڈریسنگ کرنا پڑتی ہے، انہیں ہر مرتبہ شدید تکلیف اور بے آرامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نئی اسمارٹ ڈریسنگ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے تاکہ علاج کو زیادہ آرام دہ اور مؤثر بنایا جا سکے۔


عام طور پر زخموں کی دیکھ بھال کے لیے کاٹن گاز بینڈیج استعمال کی جاتی ہے کیونکہ یہ نسبتاً سستی، استعمال میں آسان اور زخم سے خارج ہونے والے خون اور دیگر رطوبتوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم روایتی کاٹن گاز کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ زخم کی سطح سے چپک جاتی ہے، جس کے باعث ڈریسنگ تبدیل کرتے وقت نئے بننے والے بافتے متاثر ہوتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے محققین نے چائٹوسان سے تیار کردہ حفاظتی تہہ کو الیکٹرو اسپن نینو فائبر کے ساتھ ملا کر ایک نئی قسم کی اسمارٹ کاٹن گاز ڈریسنگ تیار کی ہے۔ تجربہ گاہ میں کیے گئے مختلف تجربات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ یہ ڈریسنگ عام کاٹن گاز کے مقابلے میں زخم سے بہت کم چپکتی ہے، جبکہ اس میں موجود کرکیومن مسلسل خارج ہو کر جراثیم کش تحفظ فراہم کرتا ہے اور خلیوں کی افزائش کے ساتھ نئے بافتوں کی تشکیل کے عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔

پروفیسر پرسون کمار کے مطابق اس نئی ڈریسنگ کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ زخم کے بھرنے کے قدرتی عمل کو متاثر کیے بغیر خلیوں کی نشوونما میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کو کم تکلیف کے ساتھ بہتر علاج میسر آ سکتا ہے۔

لاگت کے حوالے سے محققین نے بتایا کہ دس سینٹی میٹر چوڑے اور چار میٹر لمبے عام کاٹن گاز رول کی قیمت تقریباً تیس روپے ہوتی ہے، جبکہ اسی سائز کی اسمارٹ ڈریسنگ اگر تجارتی پیمانے پر تیار کی جائے تو اس کی متوقع قیمت پچاس سے ساٹھ روپے کے درمیان ہوگی، جو جدید طبی سہولت کے مقابلے میں مناسب سمجھی جا رہی ہے۔

یہ تحقیقی نتائج معروف سائنسی جریدے ایمرجنگ میٹیریلز میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق میں پروفیسر پرسون کمار کے ساتھ پروفیسر دیویندر ورما، پروفیسر ایرو بنوتھ، سواگاتیکا بارک، ریکا رانی پردھان، شکھا ترپاٹھی اور سمدریتا رائے بھی شریک رہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کے لیے پیٹنٹ حاصل کرنے اور طبی آزمائشوں کے لیے صنعتی اداروں کے تعاون سے مزید تحقیق کی جائے گی، جس سے مستقبل میں زخموں کے علاج کا ایک زیادہ مؤثر اور آرام دہ طریقہ دستیاب ہونے کی امید ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔