ہندوستان چاول کی پیداوار میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچا

مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان کے مطابق ہندوستان نے 150.18 ملین ٹن چاول کی پیداوار کے ساتھ چین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ وزیر نے اس کامیابی کو جدید بیجوں، تحقیق اور سرکاری پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ ہندوستان چاول کی پیداوار کے معاملے میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان نے 150.18 ملین ٹن چاول پیدا کیا، جبکہ چین کی پیداوار 145.28 ملین ٹن رہی۔ وزیر زراعت نے یہ معلومات قومی دارالحکومت میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران فراہم کیں۔

شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ چاول کی پیداوار میں یہ پیش رفت اعلیٰ پیداوار دینے والے بیجوں کی ترقی، زرعی تحقیق اور کسانوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اب نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایک اہم چاول برآمد کنندہ بھی بن چکا ہے۔ وزیر کے مطابق اس کامیابی میں سائنسی تحقیق اور جدید زرعی طریقوں کا اہم کردار رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے اسی موقع پر ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے تیار کی گئی 25 فصلوں کی 184 نئی اور بہتر اقسام کو بھی جاری کیا۔ ان میں اناج، دالیں، تیل دار اجناس، چارہ فصلیں، گنا، کپاس، جیوٹ اور تمباکو کی اقسام شامل ہیں۔ وزیر نے کہا کہ ان اقسام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ کسانوں کو زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کی فصل حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔


شیو راج سنگھ چوہان نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ان نئی اقسام کو جلد از جلد کسانوں تک پہنچایا جائے تاکہ وہ ان سے عملی فائدہ حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق بہتر بیج کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیر زراعت نے زرعی سائنس دانوں سے یہ بھی کہا کہ وہ دالوں اور تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ ملک کو ان شعبوں میں خود کفیل بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے گزشتہ گیارہ برسوں میں 3,236 اعلیٰ پیداوار والی اقسام کو منظوری دی گئی، جو کہ زرعی تحقیق میں تیزی کی عکاس ہے۔

مرکزی وزیر کے مطابق نئی اقسام کو موسمیاتی تبدیلی، مٹی کے زیادہ نمکین ہونے، خشک سالی اور دیگر حیاتیاتی و غیر حیاتیاتی دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ زرعی شعبہ مستقبل کے چیلنجوں کا بہتر انداز میں سامنا کر سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔