چین میں اب ہر روبوٹ کوملے گی ڈیجیٹل آئی ڈی

چین میں روبوٹس کے لیے آدھار کارڈ سے ملتا جلتا ایک نیا سسٹم شروع کیا گیا ہے۔ یہاں، روبوٹ کو ایک ڈیجیٹل آئی ڈی موصول ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

روبوٹکس میں سرفہرست چین نے ایک نیا اقدام کیا ہے۔ ایک منفرد شناختی نمبر عام طور پر انسانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ حکومتیں اور کمپنیاں افراد کی شناخت کی تصدیق اور ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ہندوستان کا آدھار کارڈ بھی ایسا ہی نظام ہے۔ اب چین روبوٹس کے لیے بھی ایسا ہی نظام نافذ کرنے جا رہا ہے۔ چین میں ڈیجیٹل شناختی نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ہر اے آئی سے چلنے والے روبوٹ کو ایک منفرد کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ اس سے فیکٹری کے آغاز سے ریٹائرمنٹ تک اس کے سفر کو ٹریک کرنے میں مدد ملے گی۔

چین نے اس اقدام کے لیے ہیومنائڈ فل لائف سائیکل مینجمنٹ سروس پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت چین میں تیار ہونے والے ہر ہیومنائڈ کو 29 ہندسوں کا شناختی کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ یہ روبوٹ کو شروع سے آخر تک ٹریک کرنے کی اجازت دے گا۔ چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تیزی سے بڑھتے ہوئے روبوٹکس سیکٹر کی نگرانی کرے گا اور مشترکہ معیارات قائم کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم روبوٹ کی تیاری، فروخت، مقصد، دیکھ بھال، ری سائیکلنگ اور آخر میں ڈسپوزل سے متعلق تمام معلومات فراہم کرے گا۔


یہ نیا ضابطہ روبوٹ بنانے والی کمپنیوں، فروخت کنندگان، سروس فراہم کرنے والوں، صارفین اور ری سائیکلنگ کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔ نئے ضوابط میں ایک سخت شق بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی روبوٹ سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں ہے تو اسے مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

چین روبوٹکس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہاں نہ صرف روبوٹ تیار کیے جا رہے ہیں بلکہ عوامی استعمال کے لیے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ چین میں ٹریفک کے انتظام، پروموشنز اور ڈیلیوری سمیت مختلف کاموں کے لیے روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں۔