آئن سٹائن کے ’بے حد بڑے بلیک ہول‘ والے نظریہ کی تصدیق

بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے آئن سٹائن کی پیش گوئی کی درستی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں ’بے حد بڑا بلیک ہول‘ واقعی موجود ہے۔

آئن سٹائن کا ’بے حد بڑے بلیک ہول‘ کا نظریہ سچ ثابت ہو گیا
آئن سٹائن کا ’بے حد بڑے بلیک ہول‘ کا نظریہ سچ ثابت ہو گیا
user

ڈی. ڈبلیو

اس تحقیق کے لیے سائنس دانوں نے ملکی وے (ہماری کہکشاں، نظام شمسی اور زمین جس کا حصہ ہیں) کے مرکز میں ایک ستارے کی گردش کا مشاہدہ کر کے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے تحت کی گئی پیش گوئی کی درستی کی تصدیق کر دی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ملکی وے کے مرکز میں سپر میسیو بلیک ہول موجود ہے اور یہ ستارہ، جس کا مشاہدہ کیا گیا، اس بلیک ہول کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔ واضح رہے کہ بلیک ہول کو کسی بھی دوربین سے براہ راست نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلیک ہول کی بے انتہا تجاذبی قوت کی وجہ سے بہ شمول روشنی کچھ بھی باہر نہیں نکل سکتا۔

آئن سٹائن نے سو برس قبل اپنے عمومی نظریہ اضافیت میں پیش گوئی کی تھی کہ ستاروں کی روشنی انتہائی تجاذبی قوت کی موجودگی میں زیادہ طول موج کی حامل ہو جاتی ہے اور زیادہ سرخ دکھائی دیتی ہے۔ اسے طبیعیات کی زبان میں ’گریویٹیشنل ریڈ شفٹ‘ کہا جاتا ہے۔

ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے فلکیاتی طبیعیات کے سینیئر ماہر فرانک آئزنہاؤر کے مطابق، ’’یہ پہلا موقع تھا کہ ایک سپر میسیو بلیک ہول کے قریب آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کا یوں براہ راست تجزیہ کیا گیا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اس دور میں، آئن سٹائن نے شاید سوچا بھی نہ ہو، یا تصور بھی نہ کیا ہو، جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔‘‘

یورپ کی جنوبی رصد گاہ میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایک انتہائی طاقت ور دوربین کی مدد سے ملکی وے کے مرکز میں ستاروں کی حرکت کا مشاہدہ کرنے کا عمل 26 برس قبل شروع کیا تھا۔

یہ بات اہم ہے کہ یہ سپر میسیو بلیک ہول زمین سے 26 ہزار نوری سال کے فاصلے پر ہے، جب کہ اپنی کمیت کے اعتبار سے یہ سورج سے چالیس لاکھ گنا بڑا ہے۔

سائنس دانوں نے اس بلیک ہول کے قریب ایس ٹو نامی ستارے پر نگاہ رکھی، جو سولہ برس کے عرصے میں اس بلیک ہول کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ سائنس دانوں کو معلوم تھا کہ سن 2018 میں یہ ستارہ اس بلیک ہول سے کم ترین فاصلے پر ہو گا۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں میں اس یورپی رصد گاہ میں دوربینی آلات میں مسلسل بہتری لائی جاتی رہی اور مئی 2018ء میں سائنس دان اس قابل ہو گئے کہ اس بلیک ہول کے گرد گردش کرنے والے ستارے سے حاصل ہونے والی معلومات کو جمع کر سکیں۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ اس بلیک ہول کے گرد گردش کرنے والے ایس ٹو نامی ستارے کی رفتار بلیک ہول کے قریب پہنچنے پر 25 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

اس رصد گاہ کے مطابق بلیک ہول کے قریب پہنچنے پر شدید تجاذبی قوت کی وجہ سے ایس ٹو ستارے کی روشنی کے طول موج میں تبدیلی دیکھی گئی اور یہ روشنی نیلے رنگ سے سرخ میں تبدیل ہو گئی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ملکی وے کے مرکز میں سپر میسیو بلیک ہول کی موجودگی کی تصدیق کے بعد اب بلیک ہولز سے متعلق دیگر نظریات کو بھی ملکی وے کے اس مرکزی مقام کے تناظر میں جانچا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔