اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، وائٹ کالر ملازمتیں جلد ختم نہیں ہوں گی: رگھو رام راجن
رگھو رام راجن نے کہا ہے کہ اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، نیز ٹیکنالوجی اپنانے کی رفتار، بازار کی مسابقت اور سرکاری پالیسیاں طے کریں گی کہ معیشت اور ملازمتیں کس حد تک متاثر ہوں گی

ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور آنے والے چند برسوں میں وائٹ کالر ملازمتوں کے مکمل طور پر ختم ہو جانے کا امکان نہیں ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کے معاشرے اور معیشت پر اثرات عام طور پر اندازوں سے زیادہ وقت میں سامنے آتے ہیں۔
پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں رگھو رام راجن نے لکھا کہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار، بازار میں مسابقت اور حکومتوں کی پالیسیاں یہ طے کریں گی کہ مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ کس طرح اور کتنی تیزی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن عملی سطح پر مختلف صنعتوں میں اس کے نفاذ میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں نئی ٹیکنالوجی کو پوری طرح رائج ہونے میں دہائیاں لگ گئیں۔ مثال کے طور پر خودکار ٹیلی فون ایکسچینج کا نظام انسانی آپریٹروں کی جگہ لینے میں کئی دہائیوں تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا تھا۔ راجن کے مطابق یہی صورتحال مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی پیش آ سکتی ہے، کیونکہ مختلف صنعتوں میں اسے اپنانے کے دوران تکنیکی، تنظیمی اور سماجی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔
رگھو رام راجن نے بعد میں پیشہ ورانہ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں کی جانے والی کئی پیش گوئیاں اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہیں کہ معاشرے اور سیاست کا کردار بھی اس ٹیکنالوجی کے اثرات کو شکل دینے میں اہم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق عوامی رائے اور سیاسی رد عمل بھی یہ طے کریں گے کہ اے آئی معیشت اور ملازمتوں کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔
اپنے تجزیے میں راجن نے اے آئی پر مبنی معیشت کے مختلف ممکنہ راستوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طاقتور اے آئی نظام تیار کر کے نمایاں تکنیکی برتری حاصل کر لیتی ہیں تو وہ ان نظاموں پر انحصار کرنے والے کاروباروں سے زیادہ قیمتیں وصول کر سکتی ہیں۔ اس صورت میں مختلف صنعتوں کی کمپنیاں اپنے کئی کام خودکار بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال بڑھا سکتی ہیں اور وائٹ کالر ملازمین کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملازمتوں سے محروم ہونے والے کچھ افراد خوردہ تجارت یا مہمان نوازی جیسے خدماتی شعبوں کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ان شعبوں میں مسابقت بڑھنے اور اجرتوں میں کمی آنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
تاہم راجن نے ایک اور امکان کی بھی نشاندہی کی، جس میں متعدد اے آئی نظام بازار میں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت کریں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں پیداواری صلاحیت میں ہونے والا اضافہ چند کمپنیوں تک محدود رہنے کے بجائے پوری معیشت میں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔