افطار کے لیے سادہ مگر لاجواب، پشاوری نمکین گوشت...مکمل ترکیب

پشاوری نمکین گوشت ایک سادہ مگر نہایت لذیذ ڈش ہے جس میں کم مصالحوں کے ساتھ گوشت کا اصل ذائقہ نمایاں کیا جاتا ہے۔ افطار اور رات کے کھانے دونوں کے لیے بہترین انتخاب

<div class="paragraphs"><p>قومی آواز گرافکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

رمضان المبارک میں جہاں اکثر مصالحہ دار اور تلی ہوئی ڈشیں دسترخوان کا حصہ بنتی ہیں، وہیں کبھی کبھار سادہ مگر ذائقہ دار پکوان بھی ایک خوشگوار تبدیلی فراہم کرتے ہیں۔ پشاوری نمکین گوشت اسی نوعیت کی ایک روایتی ڈش ہے جو اپنی سادگی اور خالص ذائقے کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔

یہ ڈش خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاص بات یہ ہے کہ اس میں زیادہ مصالحوں کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ صرف نمک، کالی مرچ اور گوشت کی اپنی چربی کے ذریعے اسے پکایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ڈش میں گوشت کا اصل ذائقہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔

افطار کے بعد جب کچھ بھرپور مگر زیادہ مصالحہ دار نہ کھانے کا دل ہو تو پشاوری نمکین گوشت ایک بہترین انتخاب بن جاتا ہے۔ اسے نان، روٹی یا سادہ چاول کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ ساتھ میں سلاد اور لیموں کے قتلے اس کے ذائقے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

اجزا

مٹن (ہڈی سمیت) آدھا کلو

نمک حسبِ ذائقہ

کالی مرچ ایک چائے کا چمچ

ادرک ایک کھانے کا چمچ باریک کٹا ہوا

لہسن کے جوے 6 سے 8 عدد

چربی یا گھی دو کھانے کے چمچ

پانی آدھا کپ


ترکیب

سب سے پہلے ایک کڑاہی یا ہانڈی میں مٹن ڈالیں اور اس میں لہسن کے جوے، نمک اور پانی شامل کریں۔ درمیانی آنچ پر پکائیں تاکہ گوشت نرم ہونا شروع ہو جائے۔

جب گوشت کا پانی خشک ہونے لگے تو اس میں گھی یا چربی شامل کریں اور ہلکی آنچ پر بھوننا شروع کریں۔ اس مرحلے پر گوشت کو اچھی طرح الٹ پلٹ کریں تاکہ وہ ہر طرف سے یکساں پک جائے۔

اب اس میں کالی مرچ اور باریک کٹا ہوا ادرک شامل کریں اور مزید چند منٹ بھونیں۔ اس عمل سے گوشت میں ہلکی خوشبو اور ذائقہ پیدا ہوگا۔

گوشت کو اس وقت تک پکائیں جب تک وہ نرم، سنہری اور ہلکا سا خستہ نہ ہو جائے۔ یاد رکھیں کہ اس ڈش میں گریوی نہیں ہوتی بلکہ اسے خشک انداز میں تیار کیا جاتا ہے۔

جب گوشت مکمل تیار ہو جائے تو اسے پلیٹ میں نکال لیں۔

پشاوری نمکین گوشت کو گرم گرم نان، پیاز کے لچھوں اور لیموں کے قتلے کے ساتھ پیش کریں۔ اس کی سادگی اور خالص ذائقہ افطار کے بعد کے لمحات کو یادگار بنا دیتا ہے۔