فتح پور سیکری: پیرزادہ رئیس میاں چشتی کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا
فتح پور سیکری میں پیرزادہ رئیس میاں چشتی کا چہلم عقیدت سے منایا گیا۔ مقررین نے ان کی صوفیانہ، سماجی اور عالمی امن کی خدمات کو یاد کیا اور حکومت سے انہیں ’سدبھاؤنا ایوارڈ‘ دینے کا مطالبہ کیا

فتح پور سیکری (آگرہ): عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت شیخ سلیم چشتی کی درگاہ کے مرحوم سجادہ نشین حضرت پیرزادہ ایازالدین چشتی رئیس میاں کا چہلم فتح پور سیکری میں عقیدت، احترام اور روحانی ماحول میں منایا گیا۔ اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے آئے علما، مشائخ، خانقاہوں کے سجادہ نشین، سیاسی و سماجی شخصیات، دانشوروں اور بڑی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی اور مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ فاتحہ شریف، فاتحہ خوانی، ایصال ثواب اور اجتماعی دعا کی رسومات ادا کی گئیں۔
تقریب کی مذہبی رسومات اجمیر شریف درگاہ خواجہ غریب نواز کے سجادہ نشین دیوان سید نصیرالدین چشتی کی سرپرستی میں انجام پائیں۔ مقررین نے پیرزادہ رئیس میاں چشتی کی دینی، روحانی اور سماجی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوفی روایات کے ذریعے محبت، امن، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
درگاہ حضرت شیخ سلیم چشتی کے موجودہ سجادہ نشین و متولی اور مرحوم رئیس میاں چشتی کے فرزند پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے کہا کہ صوفیا نے ہمیشہ محبت، امن، بھائی چارے اور انسانیت کا پیغام دیا ہے۔ ان کے والد نے بھی اپنی پوری زندگی انہی اقدار کو فروغ دینے میں صرف کی۔ انہوں نے کہا کہ صوفی روایات صرف روحانی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں محبت، ہم آہنگی، بقائے باہمی اور انسانیت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔ انہوں نے رئیس میاں کی شروع کی گئی صوفی روایت، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور انسانی خدمت کی مہم کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
تقریب میں پیرزادہ رئیس میاں چشتی کے بین الاقوامی کردار کا بھی ذکر کیا گیا۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور تقریب میں موجود افراد کے مطابق انہوں نے مختلف مواقع پر 20 سے زائد ممالک کے سربراہان، صدور اور غیر ملکی نمائندوں سے ملاقات کی اور ان کے سامنے ہندوستان کی کثیرالثقافتی شناخت، گنگا جمنی تہذیب اور باہمی بھائی چارے کی روایت کو اجاگر کیا۔ فتح پور سیکری آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو وہ شہر کی تاریخی و ثقافتی وراثت کے ساتھ یہاں کی صدیوں پرانی صوفی روایت سے بھی متعارف کراتے تھے۔
پنڈت دین دیال اپادھیائے کے پرپوتے اور اتراکھنڈ حکومت کے قانونی مشیر چندر شیکھر اپادھیائے نے کہا کہ رئیس میاں چشتی غیر ملکی نمائندوں کے سامنے ہندوستان میں مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کا پیغام رکھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ صوفی فکر کا بنیادی پیغام محبت، انسانیت اور امن ہے، جو دنیا میں باہمی بداعتمادی اور ٹکراؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ رئیس میاں چشتی نے دنیا بھر سے درگاہ آنے والے سربراہان مملکت اور اہم رہنماؤں سے ملاقات کے دوران ہندوستان کی بھائی چارے اور گنگا جمنی تہذیب سے انہیں واقف کرایا۔ وہ فتح پور سیکری کو ایسی روحانی اور ثقافتی وراثت کا مرکز قرار دیتے تھے جہاں مختلف مذاہب اور ملکوں سے لوگ عقیدت کے ساتھ آتے ہیں۔ انہوں نے چار سابق وزرائے اعظم سے بھی اسی تاریخی مقام پر ملاقات کی اور امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کا پیغام پیش کیا۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اجمیر شریف درگاہ کے سجادہ نشین دیوان سید نصیرالدین چشتی نے کہا کہ رئیس میاں چشتی نے حضرت شیخ سلیم چشتی کی درگاہ کی خدمت، صوفیانہ روایات کے تحفظ و فروغ اور تصوف کی تعلیمات کی ترویج کے لیے اپنی زندگی وقف کردی۔ انہوں نے نئی نسل کو صوفی روایات کی اخلاقی اور انسانی اقدار سے جوڑنے کی کوشش بھی کی، جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
چہلم کے موقع پر مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کی جانب سے بھیجے گئے تعزیتی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ان میں سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، مرکزی وزیر و راشٹریہ لوک دل کے صدر جینت چودھری، رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی، جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر محمود مدنی سمیت متعدد اہم شخصیات کے پیغامات شامل تھے۔ پیغامات میں رئیس میاں چشتی کی دینی و روحانی خدمات، صوفی روایات کے فروغ اور امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ان کی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب میں خانقاہ فریدیہ، حیدرآباد کے سجادہ نشین محمد شجاع الدین فریدی، درگاہ شاہ راجو، تلنگانہ کے سجادہ نشین، آستانہ عالیہ قادریہ کے سجادہ نشین سید سنوان شاہ قادری، درگاہ سیدنا سرکار کے سجادہ نشین سید محتشم علی ابوالعلائی، سید اشاعت علی ابوالعلائی، سید کیف علی ابوالعلائی اور خانقاہ رمضانیہ کے سجادہ نشین قاسم علی شاہ سمیت بڑی تعداد میں علما، مشائخ اور عقیدت مند موجود رہے۔ آصف زماں رضوی نے رئیس میاں چشتی کی شان میں عقیدت و محبت سے سرشار نظم پیش کی، جس کے دوران ماحول روحانی جذبات سے بھر گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
