ریس کورس کی تاریخی مسجد پر انہدام کا سنگین خطرہ، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے وفد کا دورہ، ہر ممکن جدوجہد کا عزم

صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ایک وفد نے متعلقہ مسجد کا دورہ کیا

<div class="paragraphs"><p>صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی مولانا قاسم نوری / تصویر پریس ریلیز</p></div>
i

نئی دہلی: نئی دہلی کے مرکزی علاقے ریس کورس میں واقع تاریخی مسجد کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہو گئی ہے اور اسے انہدام کا سنگین خطرہ لاحق ہے۔ مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع ہے، جبکہ اب نمازیوں کی آمد و رفت پر بھی پابندیاں عائد کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی اور ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی ہدایت پر آج جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے ایک وفد نے متعلقہ مسجد کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی مولانا قاسم نوری نے کی۔ وفد نے مسجد کے امام مولانا محمد ہارون سے ملاقات کر کے صورتِ حال کی تفصیلات معلوم کیں اور ان کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا۔۔

واضح ہو کہ ریس کورس کی یہ مسجد کئی دہائیوں سے قائم ہے اور دہلی وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ اسے قومی ورثے کی اہمیت کا حامل بھی بتایا جاتا ہے۔ مسجد میں بیک وقت تقریباً 800 نمازیوں کی گنجائش ہے ۔

اطلاع کے مطابق، مسجد کے اطراف میں واقع جھگیوں اور مکانات کو ہٹانے سے متعلق عدالتی کارروائی کا فیصلہ اگست میں آیا تھا، جس کے بعد وہاں انہدام کی کارروائی کی گئی۔ بعد ازاں مسجد سے متعلق معاملہ بھی عدالت میں داخل کیا گیا لیکن اس سلسلے میں دائر عرضی خامیوں کی بنیاد پر خارج ہوگئی۔ گزشتہ کئی دنوں سے مسجد کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع ہونے، نمازیوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ اور مسجد کو خالی کرانے کی ہدایات نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔


معاملے کی ہنگامی نوعیت کے پیش نظر وفد نے مسجد کی قانونی حیثیت، وقف بورڈ میں رجسٹریشن، ورثے سے متعلق ریکارڈ اور عدالتی کارروائی کے جائزے کے لیے ضروری دستاویزات طلب کیں، تاکہ تمام حقائق کی روشنی میں مناسب اقدامات کیے جاسکیں۔ تاہم، متعدد مرتبہ مطالبہ کیے جانے کے باوجود امام صاحب نے مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کیں۔ اس سلسلے میں کوشش جاری ہے اور ہر ممکن جد وجہد کی جائے گی ۔

وفد میں مولانا قاسم نوری صاحب کے علاوہ مولانا قاری عارف قاسمی، نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی سینئر آرگنائزر جمعیۃ علماء ہند، حافظ یوسف اعظمی ناظم تنظیم جمعیۃ علماء صوبہ دہلی اور مولانا ارشد ندوی امام و خطیب مجیدیہ مسجد وغیرہ شریک تھے۔

اس موقع پر مولانا قاسم نوری نے کہا کہ ریس کورس مسجد کا معاملہ محض ایک مسجد یا مقامی آبادی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ ملک کے دارالحکومت کے انتہائی اہم علاقے میں واقع ہے اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ بھی اس کے قریب ہے۔ ایسے حساس مقام پر واقع ایک تاریخی مسجد کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر ملک بھر کے ساتھ عالمی سطح پر بھی توجہ مرکوز ہونا فطری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ انتظامیہ کو مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور عبادت کے حق کا احترام کرنے کے ساتھ ملک کی عزت، وقار اور بین الاقوامی ساکھ کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ایسے حساس معاملات میں بے حسی کے بجائے سنجیدگی، حکمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔ حکومت کو ایسے کسی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے ملک کی شبیہ متاثر ہو یا بین الاقوامی سطح پر اس کے وقار کے بارے میں سوالات اٹھیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملے کا فوری، منصفانہ اور قانونی حل تلاش کیا جائے اور مسجد کے مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش کو دور کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔