جماعت اسلامی ہند کی مجلس شوریٰ میں ملک کی بدحال معیشت پر اظہارِ تشویش

لاک ڈاؤن سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا، کروڑوں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوئے، ہزاروں لقمہ اجل بن گئے اور بڑے پیمانے پر محنت کشوں نے نقل مکانی کی۔

تصویر سوشل میدیا
تصویر سوشل میدیا
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: 29 اگست کو جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک آن لائن پریس کانفرنس کا انعقاد ہوا۔اس پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے مجلس شوریٰ کے سہ روزہ اجلاس منعقدہ 23 تا 25 اگست 2020 میں پاس قرار داد پر تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں چار اہم بنیادی ایشوز پر قرار دادیں پاس ہوئی ہیں۔ان میں ملک میں بگڑتی معاشی صورتحال، جمہوری اقدار میں کرائسس، عالمی خصوصاً مسلم ممالک کی ابتر صورت حال اور مسلم طبقہ سے خصوصی اپیل کے تعلق سے قراردادیں پاس ہوئیں۔

اس قرار داد میں ملک و ملت کے اہم مسائل پر غور و فکر ہوا اور کچھ اہم ایشوز پر اقدامات کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ اس وقت پورا ملک کورونا کی زد میں ہے اور سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے،ایسے وقت میں ہمیں اپنے خالق حقیقی کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ ساتھ ہی کورونا کے سبب مرنے والوں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کے ساتھ ہی اس وبا سے متاثر ہونے والے یا اس کے سبب مالی پریشانیوں سے دوچار ہونے والوں اور اظہار رائے کے جرم میں انتظامیہ اور پولس کے مظالم کا شکار ہو نے والوں سے اظہار ہمدردی کیا گیا۔


جماعت اسلامی ہند کی جانب سے عالم اسلام کی موجودہ صورت حال پربھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی ملک کے مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریاں یاد دلایا گیا۔ پریس میٹ میں مجلس شوریٰ کی جانب سے ملک کی معاشی بحران پر تبصرہ ہواجس میں کہا گیا کہ بغیر کسی پیشگی تیاری کے 24 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کرنا اور اس میں بار بار توسیع کرنا 130 ملین لوگوں کو سنگین بحران سے دوچار کر دیا جبکہ اس سے پہلے نومبر 2016 میں نوٹ بندی کی وجہ سے لوگ پہلے سے ہی پریشان تھے۔ لاک ڈاؤن نے کروڑوں لوگوں کو فاقہ کشی پر مجبور کیا، ہزاروں لقمہ اجل بن گئے اور بڑے پیمانے پر محنت کشوں نے نقل مکانی کی۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور، جی ڈی پی بہت نیچے آگئی اور شرح ترقی منفی ہوجانے کے درپے ہے۔ لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کی طرف توجہ دے اور نظام معیشت، نظام صحت کو بہتر بنانے کے علاوہ کرپشن کے خاتمے پر توجہ دے۔ نجی کاری کی طرف بڑھتے قدم کو روکنے کے ساتھ ہی بجٹ کے بڑے حصے کو عوام کے رفاہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے مختص کرے۔

شوریٰ کی ان باتوں کو بھی خاصی اہمیت دی گئی کہ عوام میں بیداری کے ساتھ ہی احساس ذمہ داری کا ہونا ضروری ہے۔نیز بھائی چارے اور باہم کفالت کے رجحان کو فروغ دینے کو ہر شخص اپنی ذمہ داری سمجھے۔پریس کانفرنس میں شوریٰ کی جانب سے سیاسی بحران پر فکرمندی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس وقت ملک میں خود مختاری اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگایا جارہا ہے۔عدلیہ کے اعلیٰ ترین اداروں کے فیصلے پر بھی پوری دنیا میں تنقید ہورہی ہے، حزب اختلاف کا رول ناقابل ذکر ہوکر رہ گیا ہے اور موجود دور حکومت میں اقلیتوں، دلتوں، کمزور طبقات بالخصوص مسلم مخالف پالیسیاں ملک کی جمہوری شناخت کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔این آر سی، سی اے اے اور این پی آر کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے والوں کو لاک ڈاؤن کے دورا ن جس طرح الزامات لگا کر قید و بند سے دوچار کیا جارہا ہے، وہ نہات قابل مذمت ہے۔میڈیا اور سوشل میڈیاکا کردار بھی جانبدارانہ لگتا ہے،حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔


کانفرنس میں شوری کی یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ عالم اسلام خاص طور پر یمن، شام، لبنان اور لیبیا خانہ جنگی کی حالت میں ہیں جس کے سبب لاکھوں جانیں تلف ہوئیں اور ناقابل شمار مالی نقصانات ہوئے۔اس خرابی کو دور کرنا عالمی طاقتوں خصوصا امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے،عالمی سطح پر مہم چلا کر اس کا سد باب ہونا چاہئے۔ فلسطین کے سلسلے میں امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ حالیہ معاہدہ قابل مذمت ہے۔کسی بھی ملک کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنا فیصلہ فلسطین پر تھوپے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کو چاہئے کہ وہ جس مضبوطی کے ساتھ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے،اسی موقف پر قائم رہے۔

قومی صورت حال پر تبصرہ میں یہ بات سامنے آئی کہ حالیہ برسوں میں جب سے فرقہ پرستی اور فسطائیت کو سرکاری چشم پوشی حاصل ہوئی ہے، صورت حال خاصی سنگین ہوگئی ہے۔ نفرت و فسطائیت اور مسلمانوں سے متعلق پیدا کی گئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ایک موثر طریقہ خدمت خلق اور فلاح انسانیت کی سرگرمیاں اور اسلامی اخلاقیات کے عملی دعوتی مظاہر ہیں جس کی روشن مثال ملک کے مسلمانوں نے کورونا کے دوران پیش کی ہے۔ اس دوران جماعت اسلامی ہند نے بھی ملک بھر میں مہماتی انداز سے ریلیف کا کام کیا اور ملک و ملت کی رہنمائی کے لئے ہر وقت اپیلیں جاری کیں۔ مسلم امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدمت و دعوت کی راہ پر صبرو تحمل اور عزم و استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے۔اس کے علاوہ تعلیمی لحاظ سے بھی مسلمانوں کی صورتحال بہت توجہ طلب ہے اوریہ منظم جدو جہد کی متقاضی ہے۔ ملک کی نئی تعلیمی پالیسی کی کمزوریوں پر تنقید کے ساتھ اس میں موجود امکانات کو اپنی تعلیمی ترقی کے لئے استعمال کرے۔مسلمانوں کی این جی اوز، تنظیموں اور اداروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام کام ملک کے قانون کے مطابق تمام ضروری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انجام دیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔