اسقاطِ حمل سے سودی اسکیموں تک، جمعیۃ کے اکیسویں فقہی اجتماع میں عصری مسائل پر اہم شرعی تجاویز منظور
جمعیۃ علماء ہند کے اکیسویں فقہی اجتماع میں اسقاطِ حمل، طبی خدمات، سودی اسکیموں، سافٹ ویئر، ملازمتوں اور کاروباری معاملات سمیت متعدد عصری مسائل پر شرعی تجاویز منظور کی گئیں

نئی دہلی: ادارۃ المباحث الفقہیہ، جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام تین روزہ اکیسویں فقہی اجتماع 23 سے 25 ستمبر تک مدنی ہال، آئی ٹی او، نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس میں معاصر زندگی سے متعلق طبی، معاشی اور سماجی مسائل کے شرعی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجتماع میں دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء، جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد، مظاہر علوم سمیت ملک کے متعدد دارالافتاء سے 300 سے زائد مفتیان اور فقہائے کرام نے شرکت کی۔
اجتماع میں اسقاطِ حمل کے مسئلے پر اہم تجویز منظور کی گئی۔ اس کے مطابق جنین میں نفخِ روح 120 دن کے بعد ہوتا ہے، جبکہ اس سے قبل دھڑکن وغیرہ کا محسوس ہونا نفخِ روح کی علامت نہیں۔ عام حالات میں اسقاطِ حمل کی اجازت نہیں، تاہم چار ماہ مکمل ہونے سے پہلے کسی معتبر شرعی عذر کی صورت میں اس کی گنجائش ہے۔ چار ماہ کے بعد اگر حمل کی وجہ سے ماں کی موت کا غالب اندیشہ ہو تو حتی الامکان ماں اور جنین دونوں کی جان بچانے کی کوشش کی جائے گی اور ماں کی جان بچانے کے لیے جنین کے قبل از وقت آپریشن کی اجازت ہوگی۔
اجتماع میں خواتین کے علاج سے متعلق بھی رہنما اصول طے کیے گئے۔ مسلمان ڈاکٹر کے لیے امراضِ نسواں کے شعبے میں کام کرنا جائز قرار دیا گیا، تاہم شرعی حدود کی حتی الامکان پابندی پر زور دیا گیا۔ خواتین کے لیے گائینوکولوجی اور نرسنگ کی تعلیم مخلوط اداروں میں ضرورت کے تحت حاصل کرنے کی گنجائش بھی تسلیم کی گئی، تاہم پہلے خواتین کے لیے مخصوص اداروں میں داخلے کی کوشش کی ہدایت کی گئی۔ خاتون ماہر ڈاکٹر کی موجودگی میں مرد ڈاکٹر سے معائنہ یا زچگی کرانے سے اجتناب کی ہدایت کی گئی، جبکہ عدم دستیابی یا دیگر غیر معمولی حالات میں گنجائش بتائی گئی۔
معاشی معاملات میں اجتماع نے سودی اسکیموں کی تشہیر اور لوگوں کو اس کی ترغیب دینے کو ناجائز قرار دیا۔ تاہم اگر کسی سیلزمین کی بنیادی ذمہ داری جائز سامان فروخت کرنا ہو اور وہ گاہک کے پوچھنے پر سودی فنانسنگ کا محض عملی طریقہ بتائے، جبکہ سودی قرض کی ترغیب دینا اس کا مقصد نہ ہو، تو اس کی گنجائش بتائی گئی۔
اجتماع میں ویب سائٹ، سافٹ ویئر اور دیگر پروگرام تیار کرنے اور ان کی خرید و فروخت کو بھی جائز قرار دیا گیا، اگرچہ ان کا جزوی استعمال سود جیسے ناجائز امور میں ممکن ہو۔ ایسی کمپنیوں میں ملازمت کو بھی جائز قرار دیا گیا جن کا تیار کردہ ڈیٹا جائز اور ناجائز دونوں کاموں میں استعمال ہوسکتا ہو۔
اسی طرح عمومی ڈلیوری معاہدے کے تحت اشیا کی ترسیل کو جائز قرار دیتے ہوئے معلوم ہونے کی صورت میں حرام اشیا کی ترسیل سے حتی الامکان اجتناب کی ہدایت کی گئی۔ شراب وغیرہ کی نقل و حمل سے مسلمانوں کو خصوصی طور پر بچنے کو کہا گیا۔ بینک یا سینما ہال میں معمار، ڈیکوریٹر یا فرنیچر ساز کے طور پر کام کرنے کی گنجائش بتائی گئی، تاہم احتیاط کو بہتر قرار دیا گیا۔
موسیقی کے آلات کی خرید و فروخت کو ناجائز، جبکہ راکھی، کڑا، منگل سوتر اور کرسمس ٹری جیسی غیر مسلم مذہبی شعار سے متعلق اشیا کی فروخت کو مکروہ قرار دیا گیا۔ کفر و الحاد پر مبنی باطل مواد کی کتابت و طباعت کو ناجائز قرار دیتے ہوئے ایسے فوٹو اسٹیٹ یا پریس کے کام کی گنجائش بتائی گئی جس میں تصویر یا مواد بذاتِ خود مقصود نہ ہو۔
اجتماع میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ معاصر مسائل کے شرعی احکام طے کرتے وقت مسئلے کی نوعیت، مقصد، نیت اور عملی نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے اصولِ فقہ کی روشنی میں تفصیلی غور و خوض کیا جائے۔
اجتماع کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا نعمت اللہ اعظمی، مولانا رحمت اللہ میر کشمیری، مفتی زین الاسلام قاسمی اور مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کی۔ پہلی نشست میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی اور امیر الہند مولانا سید ارشد مدنی نے خطاب کیا۔ اختتامی نشست میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔
ادارۃ المباحث الفقہیہ کے کنوینر مولانا عبدالملک رسول پوری کے مطابق منظور کردہ تجاویز کا مکمل متن ادارۃ المباحث الفقہیہ کی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
