سہارنپور مسجد کا انہدام قانون و انصاف کا خون: جمعیۃ علماء ہند
جمعیۃ علماء ہند کا اعلیٰ سطحی مرکزی وفد ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں سہارنپور پہنچا اور مسجد کے معاملے میں قانونی اور سماجی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا

سہارنپور: سہارنپور کی تاریخی کلکٹریٹ مسجد کے اندوہناک انہدام کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی بہت فکر مند ہیں۔ ان کی خصوصی ہدایت پر گزشتہ روز جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صوبائی وفد نے دورہ کیا تھا۔ آج جمعیۃ علماء ہند کا اعلیٰ سطحی مرکزی وفد ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں سہارنپور پہنچا اور مسجد کے معاملے میں قانونی اور سماجی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
مرکزی وفد نے اہلِ شہر، مقدمے سے وابستہ قانونی ماہرین، بااثر سیاسی شخصیات اور جمعیۃ علماء کے مقامی ذمہ داران سے تفصیلی ملاقات کی اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر سنجیدہ مشاورت کی۔ وفد نے سابق رکنِ پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، موجودہ رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود، اراضی سے وابستہ مرحوم یعقوب خان کے پوتے فیروز خان، شاہ ہارون خان، ایڈوکیٹ نوشاد اور مقدمے کے فریق ایڈوکیٹ تنویر وغیرہ سے خصوصی تبادلۂ خیال کیا۔
ان نشستوں میں مسجد کے انہدام، انتظامیہ کے ظالمانہ و غیر منصفانہ رویے اور قانونی چارہ جوئی کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا کہ جس دستاویز کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا، وہ کاغذ عدالتی ریکارڈ میں سرے سے موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی اسے باضابطہ طور پر درجِ ریکارڈ کیا گیا۔ مزید یہ کہ اس میں ’قیصرِ ہند‘ یا ’سرکارِ ہند‘ کے عنوان سے جو حوالہ دیا جا رہا ہے، اس سے متنازعہ زمین کی ملکیت کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا بلکہ وہ دوسری کھتونی سے متعلق ہے؛ اس لیے اس پورے معاملے میں قانون و عدل کے بنیادی تقاضوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔
بعد ازاں وکلا کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں معاملے کے تمام پیچیدہ قانونی پہلوؤں کا عمیق جائزہ لیا گیا۔ اس مشاورت میں دستیاب ریونیو ریکارڈ، مسجد سے وابستہ تاریخی دستاویزات، ملکیت کے دعوے اور عدالتی کارروائی کے تمام نکات زیرِ بحث آئے۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو کر سامنے آئی کہ مظلوموں کو حق دلانے کے لیے ایک منظم اور پختہ قانونی جدوجہد ناگزیر ہے۔ چنانچہ دستیاب ٹھوس دستاویزات اور مستند ریکارڈ کی روشنی میں جلد از جلد اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے اور مناسب قانونی ریلیف حاصل کرنے کے تمام امکانات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی دستاویزات اور شواہد یکجا کر لیے گئے ہیں، جنہیں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی خدمت میں پیش کیا جائے گا اور ان کی رہنمائی و مشورے سے اگلا قدم اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کے انہدام کا طریقۂ کار اور کارروائی میں دکھائی گئی غیر معمولی عجلت اہلِ شہر اور انصاف پسند حلقوں کے لیے سخت بے چینی کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ فریق کو اپنے دفاع اور آئینی حقوق کے استعمال کا موقع دیے بغیر یکایک بلڈوزر چلا دیا جائے یہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ عدالت سے رجوع کا حق محض کوئی رسمی رعایت نہیں بلکہ دستورِ ہند کی روح اور آئینی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے؛ کسی بھی انتظامی کارروائی کو اس انداز میں انجام نہیں دیا جانا چاہیے کہ متاثرہ فریق کے لیے اعلیٰ عدالت سے رجوع کا راستہ ہی عملاً بند ہو کر رہ جائے۔
مولانا حکیم الدین قاسمی نے دردمندانہ لہجے میں کہا کہ سہارنپور میں جو اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے، اس پر پورا شہر ملول اور رنجیدہ ہے۔ یہ سانحہ محض کسی ایک مذہب، یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، آئینی حقوق اور عدل و انصاف کے بنیادی اصولوں پر گہری ضرب ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اپنی تاریخ میں ہمیشہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر حق کی لڑائی لڑی ہے اور سہارنپور کے معاملے میں بھی اسی راستے پر پوری قوت سے گامزن رہا جائے گا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں عہد دہرایا کہ ہم انصاف کے ہر دستیاب قانونی دروازے پر دستک دیں گے، اور اہلِ شہر کو اس جدوجہد میں جہاں بھی قانونی معاونت کی ضرورت ہوگی، جمعیۃ علماء ہند ایک مضبوط ڈھال بن کر ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ ملک میں قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور عبادت گاہوں سمیت ہر شہری کے حقوق کا تحفظ جمہوری نظام کی اولین ذمہ داری ہے۔
انھوں نے اس بات پر قلبی مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا کہ اس آزمائش کی گھڑی میں بھی سہارنپور کے باشعور عوام نے امن و امان، باہمی رواداری اور تاریخی بھائی چارے کا دامن تھامے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس صدمے پر ہندو اور مسلمان دونوں ہی یکساں غمزدہ ہیں، اور یہی مشترکہ ساجھیداری اور گنگا جمنی یکجہتی دراصل اس ملک کی اصل طاقت ہے۔ عوام کے اسی اتحاد و شعور سے فرقہ پرستی اور تعصب کی تاریک سوچ کو شکست دی جائے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
