الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ یوپی پولیس و انتظامیہ کی منمانی کے خلاف واضح اور دو ٹوک انتباہ: مولانا محمود مدنی

مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ امن، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کی داعی رہی ہے، تاہم آئینی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔

<div class="paragraphs"><p>محمود مدنی / پریس ریلیز</p></div>
i
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا پُرزور خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کی واضح، غیر مبہم اور دو ٹوک توثیق ہے۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص اتر پردیش میں محض نماز ادا کرنے یا دیگر مذہبی اجتماع پر ایف آئی آر درج کی گئیں، گرفتاریاں عمل میں آئیں اور مذہبی عبادت کو بلاجواز امن و امان کا مسئلہ بنا کر پیش کیا گیا۔ تاہم ’دیر آید، درست آید‘ کے مصداق الٰہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اب نہایت واضح اور صاف آئینی رہنمائی فراہم کرتا ہے اور ایسی تمام کارروائیوں کے خلاف ایک سخت آئینی تنبیہ ہے کہ بنیادی حقوق کو انتظامیہ کی صوابدید کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا۔ نیز آئین شہریوں کو عبادت کا حق عطا کرتا ہے، جسے ریاست اپنی مرضی سے نہ سلب کر سکتی ہے اور نہ ہی معطل۔


مولانا مدنی نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد قریب ہے اور اس مقدس مہینے میں خصوصی طور پر تراویح اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امید ہے کہ گزشتہ رمضان کی طرح اتر پردیش پولیس اس طرح کی غیر آئینی کارروائیوں سے باز رہے گی اور لوگوں کی عبادت میں خلل نہیں ڈالے گی۔ مولانا مدنی نے ذمہ داران کو متوجہ کیا کہ وہ فیصلے کی کاپی اپنے ساتھ محفوظ رکھیں۔

مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ امن، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی کی داعی رہی ہے، تاہم آئینی حقوق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔ اگر عدالتی فیصلوں کے باوجود شہریوں کی مذہبی آزادی بالخصوص عبادت پر روک لگائی گئی تو آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنے سے آئندہ بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔