کیا شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکمران بی این پی میں ضم ہو جائے گی؟

دہلی میں شیخ حسینہ کی عوامی تقریر اور دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کے ان کے اعلان کے درمیان، بی این پی کے رکن پارلیمنٹ ناصر الدین چودھری نے اپنی پارٹی میں عوامی لیگ کے انضمام کی وکالت کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے دہلی میں اپنی پہلی عوامی تقریر کرنے اور ملک واپس آنے کا وعدہ کرنے کے چند دن بعد، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)کے ایک رکن پارلیمنٹ نے اپنی پارٹی کو اب کالعدم عوامی لیگ کے ساتھ انضمام کی بات کہی ہے۔ بی این پی بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کی جماعت ہے جس کی بنیاد ضیاء الرحمن اور خالدہ ضیاء نے رکھی تھی۔

ڈھاکہ کے پرتھم الو کی ایک رپورٹ کے مطابق سنم گنج-2 سے بی این پی کے رکن پارلیمنٹ ناصر الدین چودھری نے کہا کہ حسینہ کی عوامی لیگ حکمران جماعت کی دشمن نہیں ہے۔ تاہم، بی این پی کی دیگر شخصیات اور بنگلہ دیش کی حکومت نے چودھری کے خیالات سے اختلاف رائے کا اظہار کیا ہے۔


بدھ یعنی 5 اگست کو شیخ حسینہ نے دہلی میں فارن کرسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ یہ تقریب دو سالوں میں سابق وزیر اعظم کا پہلا عوامی خطاب تھا۔ اس سے قبل، جولائی اور اگست 2024 میں طلباء کے احتجاج نے حسینہ کی عوامی لیگ کی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کیا اور وزیر اعظم کو ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔

پریس کانفرنس کے دوران حسینہ نے بتایا کہ وہ اس سال دسمبر میں 1971 کی جنگ آزادی کی برسی کے موقع پر بنگلہ دیش واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ بنگلہ دیشی قوم پرستوں کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد تھی، جو ہندوستانی فوجی مداخلت کے بعد خطے میں پاکستانی افواج کی شکست کے ساتھ ختم ہوئی۔ اس سال فروری میں انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے والی طارق رحمان کی قیادت والی بی این پی حکومت نے طویل عرصے سے حسینہ کی ہندوستان سے حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈھاکہ نے پہلے نئی دہلی پر زور دیا تھا کہ وہ نام نہاد "مفرور حسینہ" کو پلیٹ فارم فراہم نہ کرے۔


حسینہ کی پریس کانفرنس کے چند دن بعد، جمعرات کو ایک ریلی میں، بی این پی کے سنم گنج-2 کے رکن پارلیمنٹ، ناصر الدین چودھری نے عوامی لیگ کو اتحادی قرار دیا اور تجویز پیش کی کہ دونوں جماعتیں مستقبل میں ضم ہو سکتی ہیں۔ پرتھم الو کی ایک رپورٹ کے مطابق، چودھری، جو پہلی بار 1996 میں بی این پی کے ٹکٹ پر جیتے تھے، نے یہ تبصرے ڈیرائی میونسپلٹی کے تھانہ پوائنٹ پر پارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ انہوں نے کہا کہ "عوامی لیگ ہماری دشمن نہیں، وہ ہمارے اتحادی ہیں، ہم نے ان کے ساتھ مل کر جنگ آزادی لڑی، عوامی لیگ جلد بی این پی میں ضم ہو جائے گی۔" ان تبصروں کے باوجود چودھری کی آواز ایک تنہا آواز معلوم ہوتی ہے۔ بنگلہ دیشی وزیراعظم کے مشیر نے پہلے حسینہ کی پریس کانفرنس کو جولائی کے شہداء کی توہین قرار دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔