اس طرح کیوں گونج رہیں پونے کی باتیں!... راجندر چندرکانت رائے

بی جے پی-آر ایس ایس کے اندر کھسیاہٹ پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خواتین کے نظریات کو بکاؤ مان کر چلتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کو لٹکائے رکھنے کی وجہ یہی ذہنیت ہے۔

<div class="paragraphs"><p>چھاتروں کی گونج، تصویر ’ایکس‘ @RahulGandhi</p></div>
i

اب تک کی سیاست ملک کے بالغ افراد سے مخاطب رہی ہے۔ لیکن جنتر منتر والی نوجوان نسل کی جرأت مندانہ اور کامیاب تحریک کے بعد اب وہ نوجوانوں اور نوعمروں سے مخاطب ہونے کے لیے مڑ گئی ہے۔ راہل گاندھی ’چھاتروں کی گونج‘ نامی غیر سیاسی پروگراموں کی سیریز کے ذریعہ اسے مزید مؤثر بنا رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں پونے میں بھی ایک پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس بار صرف لڑکیوں کو مدعو کیا گیا تھا، جبکہ پہلے کے پروگراموں میں طلبا و طالبات کی مشترکہ شرکت رہی تھی۔ ’چھاتروں کی گونج‘ ایک طرح سے طلبا کی منادی بن چکی ہے، جو تعلیمی نظام میں جاری کئی طرح کی خامیوں کے خلاف نہ صرف حکومت کو خبردار کرتی ہے، بلکہ ملک کی سب سے نئی نسل کو آگے آکر للکارنے کا حوصلہ بھی فراہم کرتی ہے۔

پونے کے پروگرام سے اسے ایک اور موڑ ملا۔ وہ بوسیدہ نظامِ امتحان کے ذریعے طلبا کے مستقبل کو برباد کر دینے کی مخالفت سے ایک قدم آگے بڑھ کر اس بار سیاسی اقدامات کی تاریخ میں بھی ایک قدم آگے بڑھتا دکھائی دیا۔ بالواسطہ طور پر ہندوستانی معاشرے میں گہری گرفت بنا چکی قدیم مردانہ بالادستی کی ذہنیت سے بھی مقابلہ کرنے کی للکار اس میں ظاہر ہوئی۔ قدیم قبائلی ثقافت میں مردوں کے ذریعہ زمین، مویشیوں اور عورت پر غلبہ حاصل کر لینے کو ہی فتح اور بہادری سمجھنے کی روایت قائم ہوئی۔ معاشرہ تہذیب کی سیڑھیاں چڑھتا رہا، لیکن بہت سی قدیم جبلتیں اس کے لاشعور میں باقی رہ گئیں۔ ایسی ہی ایک یاد عورتوں کو کمزور، بے عقل اور مردوں کے مقابلے میں دوسرے درجے کی مخلوق سمجھنا ہے۔ تمام گالیوں میں عورت ہی کو نشانہ بنانے کے پیچھے بھی اسی قدیم جبلت کی لکیر دیکھی جا سکتی ہے۔


ہندوستانی خواتین نے اپنی صلاحیت، چابک دستی اور ذہانت سے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں کمزور نہیں ہیں۔ قدرت نے انہیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ نرم، زیادہ حساس اور زیادہ جذباتی بنایا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسرے درجے کی ہو گئی ہیں۔ مسابقتی امتحانات میں پرچہ لیک ہونے سے لڑکوں کا جو اور جتنا نقصان ہوتا ہے، لڑکیوں کا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ ان کی پڑھائی روک دی جاتی ہے۔ والدین کی طرف سے ان کی شادی کر دینے کی ضد اور سخت ہو جاتی ہے۔ ان کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی ذاتی شخصیت تشکیل دینے سے محروم ہو جاتی ہیں۔

راہل گاندھی نے نئی نسل کے ساتھ جڑ کر، سیاست کی مسلسل یک رخی ہوتی جا رہی شبیہ میں، معاشرے کی ناگزیر ضرورت کو شامل کرنے کی شروعات کی ہے۔ اس سے پہلے مہاتما گاندھی نے یہی کام کیا تھا۔ انہوں نے خواتین کی ترقی کے لیے پردہ رواج، کم عمری کی شادی، جہیز کی رسم کی مخالفت، خواتین کی تعلیم اور معاشرے میں برابری کی وکالت کرنے والی سرگرمیوں کو جوڑا تھا۔ انہوں نے گرام سوراج اور سودیشی نظریات کے ذریعے گاؤں اور گھریلو صنعتوں کو فروغ دے کر دیہی ہندوستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے پروگرام کیے تھے۔ انہوں نے نئی تعلیم کے ذریعے بنیادی تعلیم کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے حق میں مسلسل مصروف رہے اور اسی کی خاطر انہوں نے اپنی جان بھی دے دی۔


پونے میں اسٹیج کی اسکرین پر منوسمرتی کے ایک ’شلوک‘ کا انگریزی ترجمہ دکھایا گیا تھا۔ منوسمرتی میں ایسے 2 شلوک ملتے ہیں، جن کا تقریباً یکساں مفہوم ہے۔ منوسمرتی کے باب 5 میں شلوک 148 اور باب 9 میں شلوک 3۔ ان دونوں شلوک کا مطلب ہے ’’عورت کو بچپن میں اپنے والد کی، جوانی میں شوہر کی اور شوہر کی موت ہو جانے کے بعد بیٹوں کی حفاظت میں رہنا چاہیے۔ اسے کبھی بھی آزاد نہیں رہنا چاہیے۔‘‘

اس شلوک کا استعمال راہل گاندھی نے علامت کے طور پر کیا۔ ان کی کوشش اس احساس اور خیال کو ظاہر کرنا تھا، جو ہزاروں سال بعد بھی ہمارے لاشعور میں دبا ہوا ہے۔ منوسمرتی گرنتھ جس دور میں مرتب کیا گیا تھا، اس میں اس وقت کے معاشرے اور اس کی سماجی اقدار کی تفصیل ملتی ہے۔ وقت کے ساتھ معاشرہ اور معاشرے کی اقدار بدلتی رہتی ہیں۔ ہندوستانی معاشرہ بھی بہت سی تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے آج کی حالت تک پہنچا ہے۔ تبدیلیوں کے باوجود کچھ قدامت پرستیاں پھر بھی باقی رہ جاتی ہیں اور وہ ’سنسکار‘ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک قدامت پرستی عورتوں کے تئیں معاشرے کا یہ نظریہ ہے کہ انہیں اپنی مختلف حالتوں میں کسی نہ کسی مرد کی سرپرستی میں رہنا چاہیے۔ وہ خود مختار رہنے کی اہل نہیں ہیں۔


پونے کے پروگرام میں کئی ہزار نوجوان اور نوعمر لڑکیوں نے شرکت کی تھی اور ان میں سے بہت نے اسٹیج سے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو اپنی زبان، انداز اور اشاروں کے ذریعے ظاہر کیا تھا۔ جو بول رہی تھیں، وہ ہمدردی، دکھ اور غصے سے بھری ہوئی تھیں۔ جو سن رہی تھیں، وہ عورت کی آواز کو اسٹیج پر جگہ ملنے کی خوشی سے سرشار تھیں۔ ان کی زندگی کی حقیقت سامنے آ رہی تھی۔ وہ دل کی بات سنانے کا نہیں، دل کی بات سننے کا اسٹیج تھا۔ میڈیا اسے دور دور تک پہنچا رہا تھا۔

ہندوستانی سیاست کے لیے یہ بالکل نیا تجربہ تھا۔ جو عورت و مرد کی برابری کے حامی ہیں، وہ خوش ہو رہے تھے، جبکہ عورت کو کمتر اور نظرانداز کیے رکھنے کی ذہنیت میں مبتلا گروہوں نے اسے اپنے اوپر کیے جانے والے حملے کے طور پر لیا۔ بالواسطہ طور پر احیائی ذہنیت پر یقین رکھنے والی بی جے پی اور سنگھ کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہو گئی ہے۔ بی جے پی حکومت کی دکھاوے کی ناری شکتی وندنا کے مقابلے میں یہ حقیقی ناری شکتی وندنا ثابت ہوئی ہے۔ وہ خواتین کے ووٹوں کو قابلِ خرید سمجھ کر چلتے ہیں اور یہ بھی سوچتے ہیں کہ انہیں بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ جو ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ (خواتین ریزرویشن بل) ستمبر 2023 میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے، وہ اسے نافذ کرنے کے بجائے اب تک ٹھنڈے بستے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ مکمل اپوزیشن کی حمایت سے منظور ہونے والے بل کو نافذ کرنے کا مطالبہ حزب اختلاف بار بار دہرا رہا ہے۔ لیکن بی جے پی ملک کو بتا رہی ہے کہ وہ ابھی منظور ہونا باقی ہے۔ وہ حد بندی بل کو اپنی مفاد پرستی کی تکمیل کے لیے ناری شکتی وندن قانون کے خول میں ڈال کر چپکے سے منظور کرانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے، جو ممکن نہیں ہو پا رہی ہے۔


ایک دھرم آچاریہ نے راہل گاندھی کے پونے پروگرام کو منوسمرتی کے ذریعے سناتن پر حملہ قرار دیا ہے۔ ان پر ہنسنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے لیے کبیر داس کی یہ سطریں ہی کافی ہیں:

امبر برسے، دھرتی بھیگے، یہ جانے سب کوئی

دھرتی برسے، امبر بھیگے، بوجھے برلا کوئی

آسمان سے پانی برسنا سب جانتے ہیں، لیکن زمین کے برسنے سے ہی بادل بنتے ہیں، یہ جاننے میں محنت، عقل اور وقت لگتا ہے۔ کبیر کی اس اُلٹ بانی کی طرح ان دنوں ہندوستانی سیاست میں بھی اُلٹ بانیوں کا دور چل رہا ہے۔ اپنے آپ کو سمجھدار سمجھنے کا زعم رکھنے والے اسے سمجھنے سے قاصر ہو رہے ہیں اور ناسمجھ سب کچھ سمجھ رہے ہیں۔

(راجندر چندرکانت رائے معروف افسانہ نگار اور شعبۂ تعلیم کے کارکن ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔