احتجاج کے علاوہ عوام کے پاس راستہ ہی کیا بچا؟... دیپانکر بھٹاچاریہ
دیپانکر بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت کا وجود اب لازمی طور سے عوام کی سیاسی سمجھ داری اور مستعدی پر منحصر ہے۔

ہندوستان نے گاندھی جینتی کے موقع پر اس سے پہلے ایسا احتجاج کبھی نہیں دیکھا۔ سوشل میڈیا کے ایک چٹپٹے ’میم‘ کے الفاظ میں کہیں تو 2 اکتوبر وہ دن ہوتا ہے جب گاندھی کے قاتلوں کی ستائش کرنے والوں کو بھی مجبوری میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا پڑتا ہے۔ سچائی، عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے اپنے اصولوں سے دنیا کو ترغیب دینے والے مہاتما گاندھی عام، غیر مسلح لوگوں کی پُرامن مزاحمت کی طاقت کی علامت تھے۔ ان کے 157ویں یومِ پیدائش پر پورے ہندوستان میں وہ وراثت پھر زندہ ہوگئی، جب نوجوانوں نے ان کے عدم تشدد پر مبنی مزاحمت کے نظریے کو پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنایا۔
جو لوگ یہ ماننے لگے تھے کہ گاندھی غیر متعلق ہوچکے ہیں، انہیں گہرا دھچکا لگا۔ کولکاتا میں ایک نکڑ پر مارکسی کمیونسٹ پارٹی کی میٹنگ کا وہ منظر کہیں زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہیے تھا، جہاں ایک پُرتشدد دائیں بازو کے ہجوم کے حملے کے باوجود ایک خاتون عارضی اسٹیج پر مہاتما گاندھی کی تصویر تھامے ڈٹی رہی۔ جب ہجوم کرسیاں پھینک رہا تھا، بینر اور پوسٹر پھاڑ رہا تھا اور فحش گالیاں دے رہا تھا، وہ چٹان کی طرح غیر متزلزل کھڑی رہی۔ سینکڑوں طلبا کارکنوں اور نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک، عام شہریوں نے دہلی میں چھاؤنی بنائے گئے جنتر منتر کے آس پاس سیکورٹی فورسز کی خوف زدہ کرنے والی ناکہ بندی کو چیلنج کیا۔ انہیں جس بربریت کے ساتھ حراست میں لیا گیا، وہ کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی (جنتر منتر 1.0 کی یادیں ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں)۔ جہاں بزرگ خاموشی سے مارچ میں حصہ لے رہے تھے، وہیں جنتر منتر کے آس پاس نوجوانوں کے گروہ نعرے لگا رہے تھے، گٹار بجا رہے تھے، سوال پوچھ رہے تھے، بیریکیڈ گرا رہے تھے، پولیس کی ناکہ بندی سے پھسل کر نکل رہے تھے اور کیمروں کے سامنے لطیفے سنا رہے تھے۔ جب انہیں بسوں میں ٹھونسا گیا تو وہ کھڑکیوں سے کود کر واپس احتجاج میں شامل ہوگئے۔ دہلی میں تو ایک نوجوان خاتون ایک بس کی چابی ہی لے کر بھاگ گئی۔ ممبئی کے شیواجی پارک میں سینکڑوں لوگ کسی فرمان کے تحت نہیں، بلکہ اپنی مرضی سے قومی ترانہ گا رہے تھے۔ ایک وائرل ویڈیو میں جہاں ایک خاتون پولیس اہلکار نوجوان خاتون مظاہرین اور ان کی ماؤں کو ’بے شرم‘ کہہ کر گالیاں دیتی دکھائی دی، وہیں ایک دوسری ویڈیو میں مظاہرین ڈیوٹی کے دوران بے ہوش ہونے والی ایک خاتون پولیس اہلکار کے گرد حلقہ بناکر اسے ہوا کرتے نظر آئے۔
ایک طرف نوجوان پُرامن احتجاج کی گاندھی وادی وراثت کو دہرا رہے تھے، تو دوسری طرف حکومت نے شہری نافرمانی کو کچلنے کے لیے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نوآبادیاتی طریقوں کی یادیں تازہ کر دیں۔ ملک بھر کے شہریوں کے مطالبات تین باتوں پر مرکوز ہیں: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا فوری استعفیٰ، ایس آئی آر کو مکمل طور پر منسوخ کرنا اور غلط طریقے سے خارج کیے گئے ہر ووٹر کے حقِ رائے دہی کی بحالی۔ شہریوں نے 2023 کے اس قانون کو منسوخ کرنے کی اہمیت سمجھ لی ہے، جس نے حکومت کو اپنی پسند کا الیکشن کمیشن منتخب کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی (جس میں اپوزیشن کی کوئی نمائندگی نہیں ہے) اور الیکشن کمشنروں کو تاحیات قانونی چھوٹ دے کر قانون سے بالاتر کردیا۔ الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات اور اس کے بعد بحران سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی دھماکہ خیز رپورٹ (25 ستمبر 2026) نے عوامی غصے کو مزید بھڑکا دیا۔ اخبار نے 6 اکتوبر کو تین میں سے دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے 10 ماہ کے دوران درج کرائی گئی 14 اعتراضات کے بارے میں ایک اور تحقیقاتی رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ کے مطابق 11 اپیلیٹ ٹریبونلوں کے سربراہوں نے 11 اگست کو میٹنگ کی اور اپیلیں دائر کرنے کے پورٹل میں کم از کم پانچ بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی۔ جو کبھی محض ایک اندیشہ تھا، وہ اب حقیقت بن چکا ہے: ہندوستان کے انتخابی جمہوریت اور آفاقی بالغ حقِ رائے دہی کے آئینی حق کے ساتھ ایک بہت بڑا ادارہ جاتی فراڈ کیا گیا ہے۔
اب جبکہ پورا ملک 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام کاٹے جانے پر برہم ہے، الیکشن کمیشن نے تمام چیف الیکٹورل افسران (سی ای او) کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر چھوٹ جانے والے ووٹروں سے رابطہ کریں! ’لیفٹ آؤٹ‘ کی اصطلاح سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ناموں کو فہرست سے باہر کرنے کی اس چال پر پردہ ڈالنے کے لیے وضع کی گئی ہے، جس کا مقصد انتخابی توازن کو بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے حق میں جھکانا ہے۔ جس وقت الیکشن کمیشن یکم اکتوبر کو یہ سرکلر جاری کر رہا تھا، اسی وقت سی پی آئی (ایم ایل) کے کارکن پٹنہ میں حقِ رائے دہی سے محروم ووٹروں کی عوامی سماعت کر رہے تھے۔ پارٹی کارکنوں نے 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی جانب سے لڑی گئی 20 نشستوں میں سے 10 حلقوں کے 50 منتخب بوتھوں پر جون سے ستمبر کے درمیان گھر گھر جاکر سروے کیا تھا۔ انہوں نے بالکل وہی کام کیا، جو الیکشن کمیشن نے اب بی ایل اوز کو کرنے کے لیے کہا ہے: ایس آئی آر کے بعد کی ووٹر لسٹ کا جون 2025 کی ایس آئی آر سے پہلے کی فہرست کے ساتھ موازنہ کرکے حذف کیے گئے ووٹروں کی شناخت کرنا۔ اس سروے سے انکشاف ہوا کہ غلط طریقے سے نام کاٹے جانے کی شرح 17 فیصد تھی۔
بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے فارم 6 اور فارم 7 کو نہ صرف بڑے پیمانے پر ووٹروں کو باہر کرنے کا ہتھیار بنایا ہے، بلکہ ووٹر لسٹ میں منتخب طور پر نام شامل کرنے کا ذریعہ بھی بنا دیا ہے۔ 6 اکتوبر 2026 کو ’رپورٹرز کلیکٹو‘ نے انکشاف کیا کہ ایس آئی آر کے ابتدائی مرحلے میں اتر پردیش کی ووٹر لسٹ میں 16.18 لاکھ ووٹروں کے نام شامل کیے گئے، جن کے نہ تو نام پہلے فہرست میں درج تھے اور نہ ہی ان کی کوئی تفصیلات دستیاب تھیں۔
اب جبکہ فارم 6 میں کی گئی تبدیلیاں من مانی، غیر مجاز اور غیر قانونی ثابت ہوچکی ہیں، کیونکہ فارم کی دفعات میں کوئی بھی ترمیم کرنا صرف پارلیمنٹ کا خصوصی اختیار ہے، الیکشن کمیشن نے بغیر کوئی وجہ بتائے ان متنازع دفعات کو واپس لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ان ترامیم کو منظوری دیے جانے کے اس کے دعوے کو بھی چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے مسترد کردیا ہے۔ یہ تبدیلیاں واضح طور پر جین-زی ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے روکنے کے ارادے سے کی گئی تھیں۔ فارم 6 پہلی بار ووٹر بننے والوں کے اندراج کا ذریعہ ہے۔ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے ووٹروں کو دوبارہ شامل ہونے کی شرط کے طور پر اسی فارم کا استعمال کرنے پر مجبور کرنا پوری طرح غیر قانونی ہے۔ شروع ہی سے اعتراضات درج ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن اس پر اڑا رہا۔
اہل ووٹروں کو فہرست سے باہر کرنے کے لیے فارم 7 کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال اس سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوا ہے۔ پہلے سے بھرے ہوئے فارم 7 کے بنڈلوں کی برآمدگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلم ووٹروں اور بی جے پی و اس کے اتحادیوں کے خلاف ووٹ دینے والے ممکنہ طبقات کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ جب کسی ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے لیے فارم 7 کے تحت شکایت درج کی جاتی ہے تو نام حذف کرنے سے پہلے متعلقہ ووٹر کو باقاعدہ نوٹس دیا جانا چاہیے اور اسے جواب دینے کا پورا موقع ملنا چاہیے۔ اس ضابطے کی مسلسل دھجیاں اڑائی گئیں۔
قصداً نشانہ بنائے جانے کی سب سے حیران کن مثال مغربی بنگال میں دیکھنے کو ملی۔ اپیلیٹ ٹریبونل نمبر 11 کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ریٹائرڈ جسٹس اندرجیت چٹرجی نے انکشاف کیا کہ خود مغربی بنگال کے ایڈیشنل چیف الیکٹورل افسر نے ان کے ٹریبونل کے سامنے فارم 7 کے تحت 2.54 لاکھ اپیلیں دائر کی تھیں، جن میں ان ووٹروں کو فہرست سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جنہیں عدالتی افسران اہل قرار دے چکے تھے۔ ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی پہلی رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو نے درج کیا تھا کہ نہ تو انہیں، نہ ہی ان کے ساتھی الیکشن کمشنر وویک جوشی کو اور نہ ہی مغربی بنگال کے سی ای او کو اس بات کا کوئی علم تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 16 لاکھ سے زیادہ اپیلیں، جن میں زیادہ تر خودکار طریقے سے دائر کی گئی تھیں، دائر کرنے کی منظوری کس نے دی تھی۔
ہندوستان کی پارلیمانی جمہوریت کا ادارہ جاتی ڈھانچہ، اختیارات کی علیحدگی کا اصول اور نگرانی و توازن کا نظام، جو آزادی کے بعد ہندوستان میں جمہوریت کے وجود کی بنیاد رہے ہیں، آج اپنی سخت ترین آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ، جو الیکشن کمیشن پر روک لگا سکتا تھا اور جسے ایسا کرنا چاہیے تھا، اس نے انتخابی نظام کے ساتھ اتنے بڑے کھلواڑ کی عملاً کھلی چھوٹ دے دی۔ اگر اسے ٹالا نہ گیا ہوتا تو ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ بل کی جانچ کرنے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اور سپریم کورٹ کے درمیان 6 اکتوبر کو مجوزہ میٹنگ، قانون سازی اور عدلیہ کی حدود دھندلی پڑنے کی ایک اور کھلی مثال بن جاتی۔
ادارہ جاتی سطح پر سڑن پیدا ہو جانے کے بعد جمہوریت کا وجود اب تقریباً پوری طرح ہندوستان کے عوام کی سیاسی پختگی اور بیداری پر منحصر ہوگیا ہے۔ ’انڈیا‘ اتحاد کی 30 ستمبر کی میٹنگ اور بائیں بازو کے طلبا کارکنوں، جین-زی مظاہرین، ترقی پسند شہریوں، آزاد میڈیا اہلکاروں اور غیر این ڈی اے اپوزیشن جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت ایک فیصلہ کن جمہوری تبدیلی کی امید جگاتی ہے۔ کیا ہم اس فاشسٹ شکنجے کو توڑنے میں کامیاب ہوں گے؟ اس کے لیے یہاں نہیں، سڑکوں پر نظر رکھیے۔
(مضمون نگار دیپانکر بھٹاچاریہ سی پی آئی (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
