یہ تنازعہ انتخاب تک وزیر اعلیٰ بھگونت مان کا کرے گا پیچھا... ہرجندر
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو ’گرو مخالف‘ قرار دے کر اکال تخت نے اپوزیشن کو ایک بہت بڑا جذباتی و سیاسی ایشو سونپ دیا ہے۔

ایک ویڈیو اس وقت پنجاب کی سیاست میں زبردست ہلچل مچا رہی ہے۔ اس وائرل فوٹیج کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے کسی ذاتی کمرے میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس میں بھگونت مان سے مشابہ ایک شخص شراب پیتا ہوا اور سکھ گروؤں کی تصاویر پر شراب چھڑکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ ویڈیو کی صداقت کو لے کر شدید تنازعہ جاری ہے، لیکن اس کے سیاسی اثرات سامنے آنے شروع ہو چکے ہیں۔ تنازعہ اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب سکھوں کی اعلیٰ ترین مذہبی تنظیم اکال تخت نے اس معاملے پر مان کو ’گرو دوشی‘ (گرو مخالف) اور ’خالصہ پنتھ مخالف‘ قرار دے دیا۔ اکال تخت نے وزیر اعلیٰ مان پر نہ صرف سکھ جذبات کو مجروح کرنے کا الزام عائد کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ انہوں نے ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار شدہ قرار دے کر ادارے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
بھگونت مان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا شخص وہ خود نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے منفی پروپیگنڈا مہم چلانے کا الزام لگایا ہے۔ اس تنازعہ کی شروعات اسی سال درج کرائی گئی ایک شکایت سے ہوئی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ مان نے ’گرو کی گولک‘ کے بارے میں متنازعہ تبصرے کیے تھے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں سکھ گروؤں اور ہلاک شدہ شدت پسند لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے کی تصاویر کے ساتھ قابل اعتراض سلوک کیا تھا۔
اکال تخت کے جتھہ دار گیانی کلدیپ سنگھ گرگج کے مطابق، مان جنوری میں وہاں پیش ہوئے تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس کے بعد اکال تخت نے وزیر اعلیٰ سے ان فارنسک تجربہ گاہوں کے نام تجویز کرنے کو کہا تھا جو آزادانہ طور پر ویڈیو کی جانچ کر سکیں۔ گرگج نے بتایا کہ انہیں اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد اکال تخت نے مرکزی حکومت سے منظور شدہ دو فارنسک تجربہ گاہوں سے ویڈیو کی جانچ کرائی۔ دونوں اس نتیجے پر پہنچیں کہ ویڈیو حقیقی ہے اور اس میں اے آئی کے استعمال یا کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے کوئی آثار موجود نہیں ہیں۔
فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے گرگج نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کا عہدہ قابلِ احترام ہوتا ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے اکال تخت کے سامنے جھوٹ بولا۔‘‘ اس تنازعہ نے برسر اقتدار عام آدمی پارٹی کو ایسے وقت میں انتہائی مشکل صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے جب پنجاب اسمبلی انتخابات میں صرف چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ اگرچہ اکال تخت کے پاس کسی منتخب وزیر اعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا کوئی آئینی اختیار نہیں ہے، پھر بھی سکھ ووٹروں کے درمیان اس کا اخلاقی اور مذہبی اثر و رسوخ کافی وسیع ہے۔
مان کو ’گرو مخالف‘ قرار دے کر اکال تخت نے اپوزیشن کو ایک بہت بڑا جذباتی سیاسی مسئلہ فراہم کر دیا ہے۔ اگرچہ قانونی اور انتخابی قواعد سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم میں براہِ راست حکم نامے کو ہتھیار بنانے سے روکتے ہیں، لیکن ایسے حکم کے سماجی اور نفسیاتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب کا دیہی سکھ ووٹر مذہبی اداروں سے گہرا تعلق رکھتا ہے، وہ اس تنازع کو عام سیاسی گھوٹالوں سے بالکل مختلف زاویے سے دیکھ سکتا ہے۔ اکال تخت کی جانب سے سکھ برادری سے مان کے ساتھ ’تعلقات ختم کرنے‘ کی اپیل نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پنجاب کی سیاست کے سینئر مبصر جسبیر سنگھ پٹی کا ماننا ہے کہ اس سے غیر معمولی انتظامی اور سماجی مخمصے پیدا ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں، ’’مان حکومت کے تحت کام کرنے والے سکھ بیوروکریٹس اور افسران کے لیے یہ ایک بڑا مخمصہ ہوگا۔ وہ اپنے ہی سربراہ سے تعلقات کیسے منقطع کر سکتے ہیں؟‘‘
حکومت کی مشکلات اسی دن (15 جون) اکال تخت کی جانب سے جاری کی گئی ایک اور سرزنش سے مزید بڑھ گئیں۔ تخت نے پنجاب حکومت کے ’جگت جوت شری گرو گرنتھ صاحب ستکار (ترمیمی) ایکٹ، 2026‘ پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اسے اہم سکھ اداروں سے مناسب مشاورت کے بغیر نافذ کیا گیا۔ ادارے نے حکومت پر مذہبی تنظیموں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو نظر انداز کرنے اور ’’ہٹ دھرم اور متکبرانہ‘‘ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ ساتھ ہی وزیر اعلیٰ مان کو چھوڑ کر پنجاب کابینہ کے تمام سکھ وزرا اور مختلف جماعتوں کے سکھ اراکینِ اسمبلی کو 29 جون کو اکال تخت کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ غیر سکھ وزرا اور اراکینِ اسمبلی سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت برسر اقتدار جماعت کے اندر خاصی بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔ انتخابات قریب ہیں۔ کئی اراکینِ اسمبلی کو جماعتی وفاداری اور ووٹروں کی توقعات کے درمیان توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔ پنجاب کی سیاسی ثقافت میں مذہبی حکم نامے کی کھلی خلاف ورزی کرنے کی جرأت بہت کم عوامی نمائندے کر پاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ تنازع اسی حکمتِ عملی کے مرکز پر ضرب لگاتا ہے جسے مان حکومت اپنے پورے دورِ اقتدار میں اپناتی رہی ہے۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت مسلسل اپنی پنتھک ساکھ مضبوط کرنے اور خود کو سکھوں کا سب سے بڑا حامی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار پروفیسر منجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ مان حکومت نے سکھ علامات اور مذہبی شناخت کے تئیں اپنی وابستگی ظاہر کرنے میں کئی بار اپنے پیش روؤں کو بھی پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ منجیت کہتے ہیں کہ ’’وہ یہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے تھے کہ ان کی حکومت سکھ مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے آنند پور صاحب میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا۔ اکالی دل نے بھی کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔‘‘ اپوزیشن نے اس تنازعہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں کی۔ سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنّی نے مان پر اکال تخت کے تئیں متکبرانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا اور یاد دلایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ تک اکال تخت کے سامنے حاضر ہوئے تھے اور سزا بھی قبول کی تھی۔ چنّی نے مزید الزام لگایا کہ مان سکھ روایات کا احترام نہیں کرتے اور اپنے طرزِ عمل سے پنجاب کو شرمندگی سے دوچار کر چکے ہیں۔
اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد پرتاپ سنگھ باجوا نے اسے ایک انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا، جس کے اثرات پنجاب کی سرحدوں سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکم اس ویڈیو کی فارنسک جانچ کے بعد جاری کیا گیا ہے، جس نے دنیا بھر کے سکھوں کے جذبات کو گہری ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس دوران شیرومنی اکالی دل نے مان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر سڑکوں پر احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے۔ ’وارث پنجاب دے‘ سمیت دیگر سکھ سیاسی تنظیموں نے بھی وزیر اعلیٰ پر تنقید تیز کر دی ہے۔ اگرچہ آئینی صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ بھگونت مان پنجاب اسمبلی میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار ہیں، کسی مذہبی منظوری کی وجہ سے نہیں۔ اکال تخت انہیں اقتدار سے نہیں ہٹا سکتا۔
آئین آج اگرچہ مان کی کرسی کی حفاظت کرتا ہے، لیکن وہ ان کی جماعت کو اس حکم نامے سے پیدا ہونے والی سیاسی ہلچل سے نہیں بچا سکتا۔ جیسے جیسے پنجاب 2027 کے اسمبلی انتخابات کے قریب بڑھ رہا ہے، اصل امتحان یہ نہیں ہوگا کہ مان اس تنازع سے نکل پاتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ آیا عام آدمی پارٹی اس انتخابی اثر کو برداشت کر پائے گی جو پنجاب کے سب سے بااثر مذہبی ادارے کی مخالفت میں کھڑی دکھائی دینے سے پیدا ہو سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
