راہل گاندھی کی شکل میں ایک عوامی لیڈر کا عروج

راہل گاندھی کا رخ بالکل صاف ہے۔ وہ خود کو ہندوستانی آئین کے محافظ کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا پیغام سیدھا لیکن اثردار ہے... مساوات، انصاف اور بھائی چارہ کی آئینی گارنٹیاں کمزور کی جا رہی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

سیدہ حمید

میں نے پہلی بار جواہر لعل نہرو کا ہاتھ تب پکڑا تھا، جب 9 سال کی تھی اور انہوں نے کارٹونسٹ شنکر یعنی کیشو ’شنکر‘ پلئی کی جانب سے شروع کیے گئے رسالے ’شنکرز ویکلی‘ میں شائع ہونے والی میری کہانی کے لیے بطور انعام ’ایک واکی ٹاکی گڑیا‘ دی تھی۔ پیار سے گڑیا مجھے دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’’یہ گڑیا تو تم سے بھی لمبی ہے!‘‘ 60 سال بعد، جب ’بھارت جوڑو یاترا‘ دہلی سے گزری، تب ان کے پڑپوتے کے ساتھ چلتے ہوئے مجھے ویسی ہی اپنائیت اور انسانی وابستگی کا احساس ہوا۔

ہندوستان کی موجودہ سیاست میں ان دونوں رہنماؤں کو سب سے زیادہ بدنام کیا گیا ہے۔ شاید اس لیے کیونکہ یہ دونوں ہی ہندوستان کے بارے میں آر ایس ایس کی ’اکثریت پسند‘ سوچ کو پوری طرح مسترد کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کا سیاسی موقف بالکل واضح ہے۔ وہ خود کو ہندوستانی آئین کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران اپنی تقریروں میں وہ آئین کی کتاب ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھتے، اس چیز کی علامت کے طور پر جس کے بارے میں وہ مانتے ہیں کہ وہ خطرے میں ہے۔ ان کا پیغام سیدھا لیکن مؤثر ہے... مساوات، انصاف اور بھائی چارہ کی آئینی گارنٹیوں کو منصوبہ بند طریقے سے کمزور کیا جا رہا ہے، اور تمام شہریوں کو ان کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے۔


ان کی باتوں میں موجود ایمانداری نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔ جب وہ نوجوانوں کے مسائل اٹھاتے ہیں، انہیں زور و شور سے پیش کرتے ہیں، تو نوجوانوں کو وہ اپنے جیسے لگتے ہیں، وہ انہیں اپنا ساتھی سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں اس متکبر حکومت کو ہلا کر رکھ دینے والے ’جین-زی‘ مظاہرین بھی اس کی تصدیق کریں گے۔ ناپ تول کر اور گھسی پٹی باتیں کرنے والے پرانے رہنماؤں کے برعکس راہل گاندھی نے کھل کر اور بار بار آر ایس ایس-بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے اور ان پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔ طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’یہ آر ایس ایس، بی جے پی اور ان کے ذریعے مقرر کیے گئے لوگوں کی ملی بھگت ہے‘‘، اور ان پر ہندوستان کے تعلیمی نظام کو برباد کرنے کا الزام لگایا۔ اس نسل کے لیے جو مودی حکومت کے دور میں اقتدار کے مرکزیت اختیار کرنے کو دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی ہے، ایسی صاف اور براہ راست بات سننا اچھا لگتا ہے۔

راہل گاندھی کے سیاسی سفر میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ 7 ستمبر 2022 سے 30 جنوری 2023 تک، انہوں نے کنیا کماری سے سری نگر تک 4,000 کلومیٹر سے زیادہ کی پیدل یاترا کی، جس میں 12 ریاستیں اور 2 مرکز کے زیر انتظام خطے شامل تھے۔ یہ یاترا پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ والی مہم نہیں، لوگوں سے براہ راست جڑنے کا ایک کھلا تجربہ تھا- راہل نے بولنے سے زیادہ لوگوں کی باتیں سنیں اور جن برادریوں سے ملے، انہیں ہی طے کرنے دیا کہ بات چیت کی نوعیت کیسی ہو۔


یاترا اس لیے کامیاب رہی کیونکہ اس نے اس سوچ کو مسترد کیا کہ قیادت کا مطلب صرف کنٹرول کرنا ہے۔ اس نے ایسے مواقع فراہم کیے جہاں اَن سنی آوازیں کسی قومی رہنما سے بات چیت کو شکل دے سکتی تھیں۔ دراصل، یہ شہریوں کے ساتھ اعتماد قائم کرنے کی ایک کوشش تھی، اور نوجوان فطری طور پر جانتے ہیں کہ میڈیا مہم کے ذریعہ اعتماد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ یاترا نے قومی سیاست کے حوالے سے ایک متبادل نظریہ پیش کیا۔ یہ اس امکان کا اظہار ہے کہ ہم، یعنی ہندوستان کے لوگ، پولرائزیشن اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر سکتے ہیں اور ایک بار پھر تنوع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی سیاست کو اپنا سکتے ہیں۔ ہم اس شبہ اور ’نفرت‘ کو پرے دھکیل سکتے ہیں جو ہماری سیاست کی شناخت بن چکی ہے، اور سب کی شمولیت اور ’محبت‘ والی سیاست کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

اپنے سیاسی طرزِ عمل میں راہل گاندھی اس امکان کو حقیقت میں بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مظلوم اور حاشیے پر پڑے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ 3 اہم تحریکوں کا خیال آتا ہے... کسانوں کا احتجاج، منی پور میں نسلی تشدد اور پہلوانوں کا دھرنا۔ وہ کسانوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ انہیں پیٹ رہے ہیں، انہیں دھمکا رہے ہیں، جبکہ حکومت کو کسانوں سے بات کرنی چاہیے اور کوئی حل نکالنا چاہیے، اور اس کا واحد حل ان قوانین کو منسوخ کرنا ہے۔‘‘ انہوں نے کسانوں سے کہا ’’ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹیں‘‘ (اپنے احتجاجی مقامات سے)۔ انہوں نے اسے عام کسانوں اور اڈانی-امبانی جیسی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے درمیان لڑائی کے طور پر پیش کیا۔ اس احتجاج میں کوئی اگر مگر نہیں تھا۔ یہ اس تحریک کی بھرپور حمایت تھی جسے دبانے کی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔


منی پور کی بات کریں، تو راہل ان ابتدائی سیاسی رہنماؤں میں سے تھے، جنہوں نے راحت کیمپوں کا دورہ کیا، متاثرہ خواتین اور بچوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا کہ ’’ہمارے وزیر اعظم وہاں نہیں گئے۔ وزیر اعظم منی پور کو ہندوستان کا حصہ نہیں مانتے۔‘‘

جب ہندوستان کے سرکردہ پہلوان ہندوستانی کشتی فیڈریشن کے اس وقت کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، راہل گاندھی ہریانہ میں ان کے اکھاڑے میں پہنچے۔ انہوں نے پہلوانوں سے بات چیت کی، ان کی ورزشوں میں حصہ لیا اور انصاف کی ان کی لڑائی کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔


حال ہی میں، جب پورے ہندوستان میں طلبا نیٹ-یو جی پیپر لیک کو لے کر سڑکوں پر اترے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے لگے، وہ پھر ان کے ساتھ کھڑے نظر آئے، ان کی حمایت کی، ان کے مطالبات کو زور و شور سے اٹھایا اور حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا۔ ان کی قیادت میں چلنے والی ’چھاتروں کی گونج‘ ریلیاں اس تحریک کو پورے ملک تک پہنچا رہی ہیں۔ کوٹا، دہرادون اور پریاگ راج میں ریلیاں ہو چکی ہیں، اور یہ تحریر لکھے جانے تک 22 اگست کو پونے میں چوتھی ریلی طے تھی۔

ان کا پیغام صاف ہے کہ ’’کئی بار پیپر لیک ہوئے ہیں اور 2 کروڑ نوجوانوں کا مستقبل برباد ہو گیا ہے۔ اگر حکومت آپ کی حفاظت نہیں کر سکتی، تو اپوزیشن کرے گی۔‘‘ انہوں نے 3 ایسے مطالبات رکھے جن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں تھا... (اس وقت کے) وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی، جنہیں انہوں نے ’بدعنوان، نااہل اور غلط سوچ رکھنے والا‘ قرار دیا؛ نوجوان مظاہرین پر بربریت کرنے والی پولیس کے خلاف کارروائی، اور وزیر اعظم کی جانب سے باضابطہ عوامی معافی۔


راہل احتجاج کرنے والے طلبا کے ساتھ کھڑے رہے، محض دور کھڑے ایک سرپرست کے طور پر نہیں، بلکہ ایک فعال ساتھی کے طور پر، جو ان کی توانائی کو سیاسی پلیٹ فارم کی جانب موڑنے میں مددگار رہی۔ اقتدار سے چمٹے سیاسی بزرگوں کے تئیں طلبا کی بے چینی کو سمجھتے ہوئے انہوں نے کہا ’’طلبا ہندوستان کا مستقبل ہیں، نریندر مودی ماضی ہیں، اور ماضی کبھی مستقبل سے نہیں لڑ سکتا۔‘‘

مودی کے دور میں بڑی ہوئی ہندوستان کی ’جین-زی‘ نسل کے لیے یہ سب کھوکھلی سیاسی بیان بازی نہیں ہے۔ وہ ایسے ملک میں بڑے ہوئے ہیں جہاں بے روزگاری عروج پر ہے، پیپر لیک عام بات ہے اور بہتر مستقبل کی امید کم سے کم نظر آتی ہے۔ انہوں نے دیکھا ہے کہ نظام نے انہیں کس طرح مایوس کیا ہے اور انہیں ایسے شخص کی تلاش ہے جو اس نظام کا حصہ بننے سے انکار کر دے۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راہل گاندھی پر ’خاندانی سیاست دان‘ ہونے کا کتنا ہی ٹھپہ لگے، اقتدار کے سامنے وہ سچ بولتے ہیں، بے خوف ہو کر بولتے ہیں، اور ایک ایسے رہنما ہیں جنہیں ہماری سیاست میں بنیادی تبدیلی سے کم کچھ بھی منظور نہیں۔


ان کی سیاسی وراثت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اور نوجوان نسل وراثت میں ملے مراعات پسند نہیں کرتی ہے۔ ان کی پارٹی کانگریس پر اکثر مضبوط تنظیمی ڈھانچہ نہ بنا پانے کا الزام لگتا رہا ہے، اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ راہل گاندھی کی ڈیجیٹل اور احتجاج پر مبنی مہم اپوزیشن کو جیت دلانے والی مضبوط طاقت کے طور پر تیار کر پائے گی یا نہیں۔ پھر بھی یہی وہ شخص ہیں جو کہتے ہیں ’’گزرا ہوا کل کبھی بھی آنے والے کل سے نہیں لڑ سکتا۔‘‘ لاکھوں نوجوان ہندوستانیوں کے لیے، یہ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ان کے ارادے کا اظہار ہے۔ راہل گاندھی میں انہیں ایک ایسا رہنما نظر آتا ہے جو ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

(سید حمید کے ساتھ تنویر حسین خان۔

سیدہ حمید مصنفہ، سماجی کارکن اور پلاننگ کمیشن کی سابق رکن ہیں، اور تنویر حسین خان اننت ناگ، جموں و کشمیر کے محقق اور سماجی کارکن ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔