وطن واپسی کی نہ ختم ہونے والی راہ… کے اے شاجی

تمل ناڈو میں دہائیوں سے مقیم سری لنکائی تمل پناہ گزیں دوراہے پر ہیں۔ ہندوستان میں شہریت ملنے سے رہی اور وطن واپسی غیر یقینیوں سے بھرا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سری لنکائی تمل، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

کے. مہیندرن بمشکل 11 برس کے رہے ہوں گے، جب ان کا خاندان جنگ زدہ سری لنکا سے جان بچا کر فرار ہوا تھا۔ حملہ آور جب 10 سال سے زیادہ عمر کے لڑکوں کی تلاش میں گھر گھر چھاپے مار رہے تھے، تو وہ اور ان کے بھائی تمل اکثریتی شہر منّار میں اپنے گھر کی چھت اور فالس سیلنگ کے درمیان چھپ کر سانس روکے بیٹھے رہے۔ خاندان کسی طرح ساحلی ماہی گیروں کے گاؤں پیسالی پہنچا، جہاں انہوں نے 22 جولائی 1990 کو آبنائے پالک کو پار کرنے سے پہلے دہشت کے 15 دن گزارے۔ دھنش کوڈی کے ساحل پر والد اپنے بچوں کو کمر تک گہرے پانی سے گزار کر محفوظ کنارے تک لے آئے تھے۔

36 سال بعد 47 سالہ مہیندرن جنوبی تمل ناڈو کے پدوکوٹئی میں رہتے ہیں۔ ہندوستان آنے کے 7 سال بعد ہی ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ مہیندرن نے چنئی کے لوئیولا کالج سے تعلیم حاصل کی اور اب قسطوں پر فرنیچر فروخت کرتے ہیں۔ آج بھی جب کوئی ان سے ان کا ’اصل وطن‘ پوچھتا ہے تو ان کی زبان پر ’سیلون‘ آتا ہے۔ لیکن ان کی دونوں اولادیں بلا جھجک اپنا وطن تمل ناڈو بتاتی ہیں۔


یہی باریک فرق ہندوستان میں موجود تقریباً 90,000 سری لنکائی تمل پناہ گزینوں کے گہرے اندرونی تضاد اور تذبذب کو بیان کرتا ہے۔ اگست 2026 میں سری لنکا کی حکومت نے ان کی وطن واپسی کی ایک بڑی قانونی رکاوٹ ضرور دور کر دی ہے۔ سری لنکائی کابینہ نے خانہ جنگی کے دور میں بغیر قانونی پاسپورٹ یا غیر مجاز راستوں سے جان بچا کر فرار ہونے والے پناہ گزینوں کے لیے خصوصی رعایتوں کو منظوری دی ہے۔ اب جن کی سری لنکائی شناخت کی تصدیق ہو جائے گی، وہ سیکورٹی کلیئرنس کے بعد مجاز بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے ذریعے بغیر کسی قانونی مقدمے کے واپس آ سکیں گے، ان پر ’غیر قانونی‘ راستوں سے ملک چھوڑنے کا مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔

یہ رعایتی انتظام یکم اگست 2006 سے پہلے سے لے کر 19 مئی 2009 کے درمیان ملک چھوڑنے والوں پر نافذ ہوتا ہے۔ یہی وہ تاریخ ہے جب ایل ٹی ٹی ای کے سربراہ ویلوپلئی پربھاکرن کے مارے جانے کے ساتھ خونریز خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ سری لنکائی حکومت کے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ سنگین جرائم کے مشتبہ افراد کو بھلے ہی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے، لیکن باقی عام لوگوں کو عارضی پاسپورٹ جاری کیے جائیں گے۔


گزشتہ سال اگست میں ہندوستان سے وطن واپس لوٹنے والے 75 سالہ ایک بزرگ تمل پناہ گزین کو جافنا ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا تھا، جبکہ ان کے خلاف کوئی پرانا مجرمانہ ریکارڈ درج نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر پناہ گزینوں کے لیے مقدمات کے خوف سے ملی قانونی چھوٹ نے وطن واپسی کے اندر بیٹھے خوف کو کم نہیں کیا ہے۔ تمل ناڈو کے کیمپوں میں 3 دہائی سے زیادہ وقت گزارنے کے بعد بھی انہیں اندیشہ ہے کہ سری لنکا میں ان کا کیا انتظار کر رہا ہے۔ رامیشورم کے قریب منڈپم کیمپ میں رہنے والے وی. ویتھیلنگم پوچھتے ہیں کہ ’’وہ کیا سوچتے ہیں کہ ہم وہاں جا کر گزر بسر کیسے کریں گے؟‘‘

ہندوستان میں تقریباً 90,000 سری لنکائی تمل پناہ گزین رجسٹرڈ ہیں، اور تقریباً یہ سبھی تمل ناڈو میں ہیں۔ 56,600 پناہ گزین حکومت کے زیر انتظام 105 کیمپوں میں دن گزار رہے ہیں، جبکہ 32,800 افراد کیمپوں سے باہر رہ رہے ہیں۔ یہ ان 3,04,269 لوگوں کا ایک چھوٹا سا حصہ بھر ہے، جو 1983 کے بعد سے سنہالی اکثریتی تشدد کے ذریعے اقلیتی تملوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پناہ گزین بن کر تمل ناڈو کے ساحلوں پر پہنچے تھے۔


تعداد کا یہ بھاری فرق دہائیوں کی بے دخلی اور بکھراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ ہزاروں پناہ گزین یا تو وطن واپس چلے گئے، کئی کسی دوسرے ملک میں منتقل ہو گئے اور نہ جانے کتنے لوگوں نے یہیں دم توڑ دیا۔ بہت سے لوگ باضابطہ پناہ گزین نظام سے باہر نکل کر مقامی معاشرے میں گھل مل گئے۔ مرکزی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 1995 تک 99,469 لوگوں کو باضابطہ طور پر واپس بھیجا گیا تھا، جس کے بعد برسوں تک کوئی منظم بازآبادکاری پروگرام نہیں چلایا گیا۔ جو لوگ یہیں رہے، ان کے لیے ہندوستان محض عارضی پناہ گاہ نہیں رہا۔ یہیں ان کی اولاد ہوئی، ان کی شادیاں ہوئیں اور روزی روٹی کے نئے ذرائع قائم ہوئے۔

اس ملک کا نہ ہو پانا جہاں زندگی کو نئے سرے سے سنوارا، اور اس ملک کا ہونے کا سلیقہ بھول جانا جہاں سے کبھی جان بچا کر فرار ہوئے تھے… یہ تضاد انتہائی تلخ ہے۔ ہندوستان مستقل قانونی حیثیت دیے بغیر ہی ان کا گھر بن گیا ہے۔ سری لنکا ان کی قومیت طے کرتا ہے، لیکن بہت سے پناہ گزینوں کے لیے اب اس قومیت کا کوئی ٹھوس مطلب نہیں ہے۔ وہ پناہ گزینوں کے تحفظ اور ریاست کی فلاحی اسکیموں کے سہارے ہندوستان میں رہ سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں اور کام کر سکتے ہیں، لیکن انہیں ایک شہری کے بنیادی قانونی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ ان کی پوری زندگی پناہ گزین رجسٹریشن اور انتظامی منظوریوں کی محتاج بن کر رہ گئی ہے۔ دہائیوں کی رہائش بھی انہیں خود بخود ہندوستانی شہریت کا حق دار نہیں بناتی۔ شہریت ایکٹ کے تحت غیر قانونی تارکین وطن مانے جانے والے لوگوں کو رجسٹریشن یا خود بخود شہریت ملنے کے عمل سے عام طور پر محروم رکھا گیا ہے، جب تک کہ کوئی خصوصی قانونی رعایت نہ ہو۔ اس لیے تمل ناڈو کی مٹی میں پیدا ہونے کے باوجود پناہ گزین خاندانوں کی نوجوان اولاد کے سامنے شناخت کا یہ بحران قانونی طور پر حل نہیں ہو پاتا۔


شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 نے اس اجنبیت اور علیحدگی کو مزید گہرا کر دیا۔ اس قانون نے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے منتخب مظلوم اقلیتی گروہوں کے لیے شہریت کا راستہ تو آسان بنایا، لیکن سری لنکا کے تملوں کو چھوڑ دیا۔ نتیجہ قانونی بھنور۔ ایک تمل پناہ گزین ہندوستان میں اپنی زندگی کے 30 سے 40 قیمتی سال گزار سکتا ہے، روزی کما سکتا ہے، بچوں کو تعلیم دلا سکتا ہے، لیکن کاغذات میں وہ ہمیشہ ایک ’غیر ملکی‘ ہی رہتا ہے۔ ان کے لیے یہاں رہنے کا مطلب مستقل غیر یقینی ہے، اور وطن واپس جانے کا مطلب ایسے ملک میں جانا ہے جہاں ان کے پرانے گھر، روزگار اور سماجی رشتے ناطے کب کے زمین بوس ہو چکے ہیں۔

کئی لوگوں کے ملکیتی کاغذات گم ہو چکے ہیں، وہ جائیداد کے پرانے تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں یا ان کے پاس سر چھپانے کے لیے ایک دھور زمین تک نہیں بچی ہے۔ مہیندرن گہری تشویش میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ 3 دہائی بعد کیا زندگی کو صفر سے شروع کرنا یہاں کی پناہ گزین زندگی سے بھی بدتر نہیں ہوگا؟


زندگی کے سب سے زیادہ پیداواری سال ہندوستان میں گزارنے کے بعد سری لنکا لوٹنا غیر یقینی صورت حال کے ایک نئے چکر کو جنم دے گا، خاص طور پر ان نوجوانوں اور بچوں کے لیے جنہوں نے تمل ناڈو کے سوا کوئی معاشرہ دیکھا ہی نہیں۔ کئی نے ہندوستانی خاندانوں میں شادیاں کی ہیں، کئی کے بچے ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ 2024 میں جہاں 203 پناہ گزین واپس لوٹے تھے، 2025 میں صرف 92 نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ یہاں رہنے والی وسیع برادری کے سامنے یہ تعداد اونٹ کے منھ میں زیرے کے برابر ہے۔

تمل ناڈو میں پناہ گزینوں کی بازآبادکاری سے متعلق معاملات کی پیروی کرنے والے وکیل منوراج شنمگ سندرم کہتے ہیں کہ ’’اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ تازہ قانونی ترمیم کے بعد سری لنکا واپس جانے کی دوڑ مچ گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ وطن واپس نہیں جانا چاہتے، بلکہ یہ اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ آج وطن واپسی کی راہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو چکی ہے۔‘‘


خانہ جنگی 2009 میں اگرچہ ختم ہو گئی ہو، لیکن اس کے گہرے نفسیاتی زخم اور خوف آج بھی موجود ہیں۔ واپس لوٹنے والوں کو اپنی شناخت ثابت کرنی ہوگی اور سخت سیکورٹی کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔ جن لوگوں نے سرکاری فوجوں اور شدت پسندوں کی بندوقوں کے سائے میں جان بچا کر گھر چھوڑا تھا، ان کے لیے یہ عمل انتہائی بے آرام اور خوفناک ہو سکتا ہے۔ شناخت اور شہریت کے پرانے دستاویزات موجود نہ ہوں۔ کون سے کاغذات قابل قبول ہوں گے؟ اور تب کیا ہوگا جب کاغذات سرے سے موجود ہی نہ ہوں؟

سری لنکا نے یہ تسلیم کر کے ایک ضروری قدم ضرور اٹھایا ہے کہ جنگ کے دوران نقل مکانی کرنے والے مظلوموں کو کئی دہائی بعد قانونی مقدمات میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے۔ لیکن یہ محض پہلا قدم ہے۔ اس کی پوری جوابدہی صرف بے بس پناہ گزینوں کے کاندھوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ آبادیاتی امور کے ماہر ایس. اریدیاراجن کا کہنا ہے کہ ’’باعزت وطن واپسی کے لیے زمین اور مکان تک محفوظ رسائی، مضبوط اور شفاف دستاویزی نظام، روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع، نیز تعلیم اور صحت کی خدمات کی ضمانت ضروری ہوگی۔‘‘


مہیندرن آج بھی بند آنکھوں سے ’سیلون‘ کے خواب دیکھتے ہیں، اگرچہ وہ کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ تمل ناڈو نے ان کی اولاد کو ایک محفوظ زمین اور مستقبل دیا ہے۔ 3 دہائی کی جدوجہد کے بعد قانونی طور پر وطن واپسی اب ایک ٹھوس متبادل ضرور ہے۔ لیکن کیا اس متبادل کا استعمال اس انسانی وقار کے ساتھ کیا جا سکے گا جس کے یہ مظلوم محتاج ہیں؟ اصل اور سب سے بڑا سوال یہی ہے۔