’وارث پنجاب دے‘ کا دبدبہ اور بی جے پی کی تنہا پرواز... ہرجیشور پال سنگھ
وارث کی اصل پونجی وہ جذباتی اشتعال ہے جو سکھ نوجوانوں کی اس نسل میں دوڑ رہا ہے، جو مانتی ہے کہ تاریخ نے اس کے ساتھ دوہری دغا کی ہے۔

سکھبیر بادل ’وارث پنجاب دے‘ (پنجاب کے وارث) کو ’وائرس پنجاب دے‘ کہتے ہیں۔ انتخابات سے پہلے ان کا یہ حملہ اس نئی تنظیم کے ان دعوؤں کی وجہ سے ہے، جن میں وہ خود کو پنتھ اور صوبے کے مفادات کا حقیقی محافظ بتا رہی ہے۔ دوسری طرف وارث کے رہنما شرومنی اکالی دل کو بکاؤ بتاتے ہیں، جس نے مرکزی کابینہ میں جگہ کے لیے بی جے پی سے ہاتھ ملایا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کیمپس اسٹوڈنٹس کونسل انتخابات کا بھی حوالہ دیتے ہیں، جہاں اکالی دل کی طلبا تنظیم نے آر ایس ایس سے وابستہ اے بی وی پی کا ساتھ دیا تھا۔
ایک ایسی پارٹی کے لیے جس کا سربراہ امرت پال سنگھ ڈبروگڑھ جیل میں بند ہو، یہ زبردست سیاسی ہلچل ہے۔ 29 جولائی کو وارث کے کارکنوں نے امرت پال اور دیگر ’بندی سنگھوں‘ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا۔ شام ڈھلتے ڈھلتے واٹر کینن اور ٹوٹتے بیریکیڈس کی ویڈیوز فیس بک اور واٹس ایپ پر وائرل ہو رہی تھیں۔
2 سال پرانی اس تنظیم کا سب سے بڑا سیاسی داؤ حالیہ دل بدلی رہا۔ ڈاکھا سے باغی اکالی رکن اسمبلی منپریت ایالی (جو 2022 میں اکالی دل کے ٹکٹ پر جیتنے والے گنے چنے ارکان اسمبلی میں شامل تھے) جون 2026 میں تنظیم میں شامل ہو گئے۔ ایالی کو کسی مان منوّل کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کی اپنی پنچایت اور ضلع پریشد کے امیدوار پہلے ہی امرت پال کی تصویروں کے سہارے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔
وارث نے سب سے پہلے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کر کے چونکا دیا ہے۔ امرت پال کے قریبی ساتھی پپل پریت سنگھ کو مجیٹھا سے اکالی دَل کے قدآور لیڈر بکرم مجیٹھیا کے قلعہ میں اتارا گیا ہے، جو کسی انتخابی جوڑ توڑ سے زیادہ ایک علامتی سیاسی چیلنج ہے۔ بانی اور ’شہید‘ دیپ سدھو کے بھائی مندیپ سنگھ سدھو کو تلونڈی سابو سے ٹکٹ ملا ہے، تاکہ اس نام کو بھنایا جا سکے جو آج بھی بھیڑ جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موڑ سیٹ لکھا سدھانا کے حصے میں گئی۔ گینگسٹر سے سماجی کارکن بنے سدھانا کا سفر سدھانا گاؤں سے لے کر کسان تحریک اور مین اسٹریم سیاست تک پھیلا ہوا ہے، جو یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ دیہی پنجاب میں جرم، شناخت اور تحریک کس طرح ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رہتے ہیں۔
اس پوری مشق کی ریڑھ کی ہڈی ایک ایسا نعرہ ہے جو منشیات کے دلدل میں دھنسی ریاست کے لیے وضع کیا گیا ہے: ’امرت پال لے آؤ، نشہ بھگاؤ‘۔ یہ کسی پالیسی سے زیادہ ایک جذباتی ارداس جیسی لگتی ہے، لیکن دیہی پنجاب میں آج بھی ارداس کے نام پر ووٹ پڑتے ہیں۔
وارث کی اصل دولت وہ جذباتی ابال ہے جو سکھ نوجوانوں کی اس نسل میں دوڑ رہا ہے، جو مانتی ہے کہ تاریخ نے اس کے ساتھ دوہرا دھوکہ کیا ہے: پہلے شدت پسندی کی شکست اور پھر اس شکست سے اکالیوں کا مکر جانا۔ امرت پال گاؤں میں مسیحا جیسی شخصیت بن چکے ہیں۔ جیل کی سزا نے انہیں ’قربانی‘ کا ہالہ عطا کر دیا ہے۔ اس میں سوشل میڈیا کی مہارت، این آر آئی حمایت اور دیہی ماجھا و مالوا کے کچھ علاقوں میں مضبوط گرفت شامل کر لیجیے تو ایسا اجتماع تیار دکھائی دیتا ہے جو سکھ جذبات کو بھڑکانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سکے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ’وارث پنجاب دے‘ کے پاس کوئی آزمایا ہوا کیڈر نہیں ہے اور روزمرہ کے کام کاج کے لیے ترسیم سنگھ اور چند قریبی ساتھیوں کے علاوہ کچھ خاص نہیں۔ تنظیم کا ایک سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹریشن تک نہیں ہوا ہے۔ ابھی سے ہی اس پر ایک اور خاندانی تنظیم بننے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ سابق شدت پسندوں کے اہل خانہ اور سدھرے ہوئے گینگسٹروں سے بھری اس کی امیدواروں کی فہرست گلیوں اور چوپالوں میں اس کی ساکھ بھلے ہی بڑھاتی ہو، لیکن شہری ڈرائنگ روم کو یہ بالکل راس نہیں آ رہی۔ شہری، ہندو اور دلت ووٹر فی الحال اس سے دور ہیں۔
تمام داغوں، بے حرمتی کے بدنما داغ، منشیات کے الزامات اور ’وارث پنجاب دے‘ اور عآپ کی طرف ٹکسالی لیڈران کی مسلسل ہجرت کے باوجود ’اکالی دل‘ پنجاب کی واحد پنتھک پارٹی ہے جس کے پاس اقتدار سنبھالنے کا تجربہ ہے۔ اس کی صدی پرانی تنظیم، سکھبیر بادل کی جارحانہ قیادت اور دیہی مالوا میں گہری جڑیں اسے زمینی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابات اور مقامی اداروں کے نتائج بتاتے ہیں کہ پارٹی کسی معجزاتی واپسی کے بجائے سست رفتار راستے پر آگے بڑھ رہی ہے۔
اپنے روایتی پنتھک ووٹ بینک پر خطرہ منڈلاتا دیکھ کر سکھبیر بادل نے حالیہ ریلیوں میں توپ کا رخ وارث کی طرف کر دیا ہے۔ 2026 میں پنجاب کی پنتھک سیاست کی ستم ظریفی یہی ہے: جس پارٹی کو ہر کوئی مردہ قرار دینا چاہتا ہے، وہ دم توڑنے سے انکار کر رہی ہے؛ جبکہ جس پارٹی کو لے کر ہر طرف تجسس ہے، اسے ابھی یہ ثابت کرنا باقی ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر چل بھی سکتی ہے یا نہیں۔
الگ تھلگ بی جے پی
1996 کے بعد پہلی بار بی جے پی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 2027 کا اسمبلی انتخاب تنہا لڑے گی۔ تمام 117 نشستوں پر میدان میں اترنے کے فیصلے کو کچھ لوگ 2017 میں آپ کے انتخابی آغاز کے بعد پنجاب کا سب سے بڑا سیاسی جوا مان رہے ہیں۔ دوسری طرف کچھ اسے اوقات سے بڑی خواہش قرار دے رہے ہیں۔ جو بھی ہو، پنجاب کی سیاسی منڈی میں ایک نئی اور شور شرابے والی دکان سج چکی ہے۔
بی جے پی کی پوری حکمت عملی جرم، بدعنوانی اور ’چِٹا‘ (منشیات) پر مرکوز ہے۔ اس کی ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ کنڈی بیلٹ کے پٹھان کوٹ سے شروع ہو کر فتح گڑھ صاحب سے گزرتے ہوئے مالوا کے کپاس اور منشیات کے گلیارے تلونڈی سابو تک جاتی ہے، جس میں شاہانہ شان و شوکت شامل کرنے کے لیے پٹیالہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ راستہ انتہائی چالاکی سے منتخب کیا گیا ہے۔ منشیات واحد مسئلہ ہے جس پر جاٹ ہو یا دلت، سکھ ہو یا ہندو، پنجاب کا ہر خاندان پوری طرح متفق نظر آتا ہے۔ تاہم، یہ یاترا تنازعات میں گھری ہوئی ہے؛ فتح گڑھ صاحب، سمرالا اور دینانگر میں اسے کالے جھنڈے دکھائے گئے، جبکہ بٹالہ میں سابق مرکزی وزیر رونیت بٹو کے قافلے پر پتھراؤ تک ہوا۔
بی جے پی پنجاب کی سست 6.1 فیصد شرح نمو کے مقابلے ہریانہ کے 9.5 فیصد ترقیاتی ماڈل کو پیش کر رہی ہے۔ اس کی مفت ریوڑیوں کا پٹارا اس طرح تیار کیا گیا ہے جو عام آدمی پارٹی کی سیدھی نقل نہ لگے، لیکن دلکش دکھائی دے۔ خواتین کے لیے 2,100 روپے کی ’لاڈو لکشمی‘ اسکیم، مفت ڈائلیسس، ضرورت مند خاندانوں کو 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر اور فصلوں کے ایک بڑے دائرے پر ایم ایس پی کی قانونی ضمانت۔ سیدھا پیغام ہے: ’آ کر دیکھو، پڑوسی ہریانہ کتنا اچھا چل رہا ہے‘۔
2020 میں اکالی دل سے رشتہ ٹوٹنے کے بعد بی جے پی نے اپنا ووٹ شیئر دوگنا کر لیا ہے۔ مودی مرکوز پولرائزیشن نے اسے شہری پنجاب، دامن کے علاقوں اور جنوب مغربی پنجاب میں ایک محدود مگر ٹھوس ہندو عوامی بنیاد دی ہے۔ مرکز کے لامحدود وسائل، ایک فعال تنظیمی ڈھانچے اور ایک قابل اعتماد متبادل کے طور پر اکالی دل کے تقریباً صفایا ہونے سے پیدا ہوئے خلا کو پُر کرنے کے لیے بی جے پی خود کو ہندوؤں اور شہری دلتوں کے درمیان سب سے موزوں سمجھ رہی ہے۔
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی پارٹی کا سب سے مؤثر انتخابی چہرہ ہیں۔ ایک او بی سی کسان کے بیٹے کے طور پر سینی وہ زمین فراہم کرتے ہیں جو پنجاب بی جے پی کے پاس کبھی نہیں تھی۔ وہ کسانوں سے ان کی اپنی بولی بانی میں بات کرتے ہیں، جس سے بی جے پی پر لگنے والی ’شہری ہندو پارٹی‘ کی مہر کمزور پڑتی ہے۔ پنجاب کا کثیرالثقافتی تانا بانا اور بھگوا پارٹی کے مسلم و پاکستان مخالف ایجنڈے سے اس کی فطری دوری، ریاست کو بی جے پی کے لیے لوہے کا چنا بنا دیتی ہے۔ جاٹ اکثریتی دیہی پنجاب بی جے پی کی اپیلوں سے تقریباً اچھوتا ہے۔ تین سیاہ زرعی قوانین کے گہرے زخم تازہ ہیں۔ نوجوت سدھو تنازعہ کے تلخ انجام کے بعد سے بی جے پی کے پاس کوئی کرشماتی سکھ چہرہ باقی نہیں بچا ہے۔
آر ایس ایس کے خلاف پنجاب کا کٹر پنتھک نظریہ بھی انتہائی سخت ہے۔ پارٹی کا اپنا روایتی کیڈر کانگریس اور اکالی دل کے تھکے ہارے لیڈران کی تھوک درآمد سے خاصا ناراض ہے۔ حال ہی میں مقرر کیے گئے ریاستی صدر کیول سنگھ ڈھلوں کسی عوامی حمایت والے لیڈر یا تنظیم کار کے بجائے پردے کے پیچھے بساط بچھانے والے سپہ سالار زیادہ ہیں۔ ایک ایسی ریاست میں جہاں شناخت مبینہ ’ترقی‘ پر بھاری پڑتی ہے، بی جے پی آج بھی اجنبی جیسی دکھائی دیتی ہے۔
یہ صورت حال اس بنیادی سوال کی طرف لے آتی ہے جس کی بحث سے سب بچ رہے ہیں- کیا 2027 سے پہلے شِعاد کے ساتھ پرانی جوڑی دوبارہ زندہ ہوگی؟ اکیلے انتخاب لڑنے کا فیصلہ بی جے پی کو اپنی زمین ناپنے اور مجبوری کے بجائے مضبوط سودے بازی کی پوزیشن سے بات کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اگر اس کی یہ اکیلی پرواز منہ کے بل گرتی ہے، تو انتخاب کے آخری مرحلے میں مفاہمت اور ایک بے بس اکالی دل کی میز پر واپسی کی امید کی جاسکتی ہے۔
(ہرجیشور پال سنگھ ’ایس جی جی ایس کالج‘، چندی گڑھ میں تاریخ کے پروفیسر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
