نشہ کا بحران انتخابی نعروں سے دور نہیں ہوگا... ہرجندر

پنجاب کو ایسے منصوبہ کی ضرورت ہے جسے پارٹی پر مبنی سیاست سے اوپر رکھا جائے، سخت پولیس کارروائی ہو، سنجیدہ بازآبادکاری ہو، سرحد کنٹرول مضبوط ہو، بندرگاہوں کی نگرانی ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار ہو۔

<div class="paragraphs"><p>پنجاب میں نشہ بحران، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

ہرجندر

دسمبر 2015 میں چلتے ہیں۔ تخت دمدما صاحب کے قریب تلونڈی سابو میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیپٹن امرندر سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے 4 ہفتہ کے اندر وہ پنجاب میں منشیات کے کاروبار کی کمر توڑ دیں گے۔ 2017 میں وہ وزیر اعلیٰ بن کر واپس آئے۔ سامنے نشے کی لت کے بھنور میں پھنسا پنجاب تھا۔ آج وہ منشیات کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست ضرور شمار کرا سکتے ہیں، لیکن منشیات کے کاروبار کی کمر نہیں ٹوٹی۔ اب جب اسمبلی انتخابات میں تقریباً 4 ماہ باقی ہیں تو پنجاب میں پھر ویسا ہی خواب بیچا جا رہا ہے... نشہ سے پاک پنجاب کا۔

امرندر سنگھ اب بی جے پی میں ہیں۔ بی جے پی نے حال ہی میں 13 روزہ ریاست گیر ’نشہ مکت پنجاب یاترا‘ نکالی۔ مقصد تھا منشیات کے مسئلے کو ووٹ میں تبدیل کرنا۔ ہریانہ، راجستھان اور اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ کو میدان میں اتارا گیا۔ پارٹی صدر نتن نوین اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی مہم کا حصہ بنے۔ منشیات کی عادت سے تباہ خاندانوں کے افراد کو اسٹیج پر لایا گیا تاکہ مسئلے میں جذباتی وزن بھی شامل ہو جائے۔ یاترا ختم ہونے کے قریب امرندر نے ’دی ٹریبیون‘ کے صحافیوں سے ٹاؤن ہال طرز پر بات چیت کی۔ وہاں انہوں نے ایک ایسی بات کہی جو پوری مہم پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے... ’’بی جے پی پنجاب کو سمجھ ہی نہیں سکی ہے۔‘‘


منشیات کا مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ کوئی پارٹی اسے دوسری پارٹی کے حوالے کرنے کو تیار نہیں۔ پنجاب کی شاہراہوں کے کنارے لگے ہورڈنگز پر منشیات کے خلاف جنگ چل رہی ہے۔ ہر پارٹی یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ اصل لڑائی وہی لڑ رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان اس حساس مسئلے کی سیاسی قیمت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر پنجاب کو منشیات سے تباہ ریاست کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ڈی جی پی گورو یادو اعداد و شمار کے ساتھ حکومت کا دفاع کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یکم مارچ 2025 سے این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 7,582 ایف آئی آر درج ہوئی ہیں اور سزا کی شرح 89 فیصد رہی ہے۔ حکومت انہی اعداد و شمار کو ’وار نشے یاں ورودھ‘ مہم کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

لیکن ہر کوئی ان اعداد و شمار سے مطمئن نہیں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ منشیات کے بحران کو صرف ایف آئی آر اور سزا کی شرح سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ سوال یہ بھی ہے کہ حکومت ان آوازوں کے ساتھ کیا کرتی ہے جو اس کی ناکامی پر سوال اٹھاتی ہیں۔ منشیات مخالف کارکن موہن جیت سنگھ نے وزیر اعلیٰ کو کالا جھنڈا دکھایا تھا۔ الزام ہے کہ پولیس نے انہیں ہراساں کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی منشیات پالیسی پر سوال اٹھانے والوں کے لیے مشکلات کھڑی ہو جاتی ہیں۔


7 ستمبر کو 50 سالہ گلزار سنگھ کی خودکشی نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا۔ الزام ہے کہ ایک دن پہلے، 6 ستمبر کو ایک پروگرام میں انہوں نے اپنے علاقے میں منشیات کی سپلائی کو لے کر وزیر خزانہ ہربال سنگھ چیمہ سے سوال کیا تھا اور اس کے بعد انہیں پریشان کیا گیا۔ گلزار کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں تھے۔ وہ ایک نشے کے عادی شخص کے والد تھے۔ ان کا مسئلہ کسی پارٹی کا نہیں، ان کے گھر کا تھا۔ اس خودکشی نے پنجاب کے ان ہزاروں خاندانوں کے درد کو آواز دی ہے جنہیں لگتا ہے کہ ان کی تکلیف اس وقت تک نہیں سنی جاتی جب تک وہ اقتدار کو بے چین نہ کرے۔ اس واقعہ کے بعد پنجاب کانگریس پہلی بار اس مسئلے پر متحد ہو کر سامنے آئی۔ پنجاب کے انچارج اے آئی سی سی جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے عام آدمی پارٹی کی حکومت اور بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت، دونوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں اقتدار میں آنے سے پہلے عآپ نے تین ماہ میں پنجاب کو نشہ سے پاک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جبکہ اب بھی منشیات آسانی سے دستیاب ہیں۔

شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھبیر بادل بھی میدان میں اتر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے چار سال بعد حکومت کے اپنے اعداد و شمار ہی زمینی صورت حال کی خوفناک تصویر دکھا رہے ہیں۔ 29 اگست کو بابا بکالا میں راکھڑ پونیا کے انعقاد کے موقع پر اکالی دل (وارث پنجاب دے) نے اقتدار میں آنے پر منشیات کے بحران پر جامع وائٹ پیپر لانے کا وعدہ کیا۔ انتخابات قریب آتے ہی ہر پارٹی دوسرے پر انگلی اٹھا رہی ہے اور ہر پارٹی نشہ سے پاک پنجاب کا وعدہ کر رہی ہے۔ لیکن سیاسی مبصر پروفیسر منجیت سنگھ کو ان وعدوں میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق ایسے وعدوں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیونکہ منشیات کا مسئلہ کافی پیچیدہ ہے۔ یہ معاشرے کے بہت بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر سیاسی پارٹی انتخابات آتے ہی اسے مسئلہ بنا لیتی ہے۔ پروفیسر منجیت سنگھ کا نتیجہ انتہائی تلخ ہے... کوئی سنجیدہ نہیں ہے۔ نہ کوئی ٹھوس منصوبہ ہے، نہ روڈ میپ اور نہ بجٹ کا اندازہ۔ سب سے بڑھ کر سیاسی عزم بھی نہیں ہے۔


نعروں اور ہورڈنگز سے الگ یہ ایسا بحران ہے جس کی جڑیں 3 دہائیوں سے زیادہ گہری ہیں۔ عوامی صحت کے علاوہ یہ معیشت اور سلامتی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں۔ سیاسی رنگ بدلتے رہے۔ وعدے بدلتے رہے۔ لیکن بحران بڑھتا رہا۔ ہر حکومت نے کئی اقدامات کرنے کے دعوے کیے، پھر بھی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ بڑا سوال یہ ہے کہ اتنے برسوں کی کوششوں کے باوجود مسئلہ جڑ سے کیوں نہیں گیا۔ مختلف سروے، پارلیمانی کمیٹیوں اور منشیات پر انحصار سے متعلق مطالعات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں۔ چِٹّے کا استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ ان میں نابالغوں اور نوجوانوں کی تعداد خاص تشویش کا موضوع ہے۔

اب یہ صرف قانون و انتظام کا معاملہ نہیں رہا۔ منظم جرائم، ہتھیاروں کی اسمگلنگ اور پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی تحقیقات میں بار بار ایسے نارکو ٹیرر نیٹ ورک کے اشارے ملتے ہیں جن کا تعلق سرحد پار بیٹھے آپریٹروں سے جوڑا جاتا ہے۔ منشیات اب پنجاب کے سماجی المیے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کا سوال بھی ہے۔ پنجاب میں منشیات پیدا نہیں ہوتی ہیں۔ جن فصلوں سے زیادہ تر منشیات بنتی ہیں، ان کی کاشت یہاں نہیں ہوتی۔ لیکن پاکستان سے لگی طویل سرحد اس کی اسمگلنگ کے راستے کھولتی ہے۔ اس راستے سے کبھی افیون اور پوست کی بھوسی کا کاروبار اہم تھا۔ آج ہیروئن اور زیادہ طاقتور مصنوعی منشیات کا دور ہے۔ سرحد پار سے ڈرون کے ذریعے منشیات پہنچائی جا رہی ہیں۔


اس صدی کے آغاز میں ہندوستانی اور پاکستانی پنجاب، دونوں ’گولڈن کریسنٹ‘ کا حصہ تھے۔ افغانستان سے آنے والی افیون اور اس سے جڑی منشیات کی ایک بڑی ٹرانزٹ راہداری۔ لیکن دو دہائیوں میں کہانی بدل گئی۔ جو علاقہ کبھی راستہ تھا، وہ بازار بن گیا۔ پنجاب اب خود ایک بڑی صارف منڈی بن چکا ہے۔ کچھ ماہ پہلے عآپ کے سربراہ اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ پہلے زیادہ تر منشیات پاکستان سے سرحد پار کرکے پنجاب پہنچتی تھیں۔ اب صرف تقریباً 20 فیصد منشیات اس راستے سے آتی ہیں، جبکہ 80 فیصد گجرات کی مختلف بندرگاہوں سے پہنچتی ہیں۔ یہ نریندر مودی پر سیاسی حملہ ہو سکتا ہے، لیکن اسے پوری طرح مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مندرا اور دیگر بندرگاہوں سے حالیہ برسوں میں منشیات کی بڑی کھیپ پکڑی جا چکی ہیں۔

ویسے پنجاب جیسی سرحدی ریاست اکیلے اس بحران سے نہیں لڑ سکتی۔ اسے مرکز کی فعال مدد چاہیے- خفیہ معلومات میں، سرحدی انتظام میں اور سپلائی روٹ پر کنٹرول میں۔ ایسے میں ایک دوسرے پر الزام ڈالنے کی سیاست مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ذمہ داری سے بچنے کا راستہ بن جاتی ہے۔ پھر آتا ہے خالی ہاتھوں کا سوال۔ دیہی اور شہری بے روزگاری منشیات کے بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ پنجاب بے روزگاری کے معاملے میں ملک کی پانچ سرفہرست ریاستوں میں ہے۔ جس نوجوان کے پاس کام نہیں، مستقبل کی کوئی امید نہیں، وہ منشیات کے کاروباریوں کے لیے آسان نشانہ ہے۔ صرف پولیس کے ذریعے اس مسئلے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ روزگار کے مواقع کے بغیر منشیات کے خلاف لڑائی ادھوری رہے گی۔


ایسے میں پنجاب کو انتخابی نعروں کی نہیں، ایک ایسے منصوبے کی ضرورت ہے جسے جماعتی سیاست سے اوپر رکھا جائے۔ اس میں سخت پولیس کارروائی ہو، سنجیدہ بازآبادکاری ہو، سرحدی کنٹرول مضبوط ہو، بندرگاہوں کی نگرانی ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار ہو۔ یہ پنجاب کی ایک پوری نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ لیکن تین دہائیوں سے پنجاب صرف منشیات کے خلاف لڑنے کے وعدے سن رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔