تمل ناڈو اسمبلی انتخاب: ساتھ کی قیمت اور بی جے پی کی حکمت عملی... کے اے شاجی
بی جے پی کسی اتحاد میں صرف جونیئر پارٹنر بنے رہنے کے لیے شامل نہیں ہوتی۔ وہ اسے بطور انٹری پوائنٹ استعمال کرتی ہے، تنظیم کو مضبوطی عطا کرتی ہے، اور دھیرے دھیرے اثر قائم کرتی ہے۔

ٹیمپل سٹی مدورائی کے بیرونی علاقہ میں موجود سیاسی طور پر حساس اسمبلی حلقہ تروپرن کنڈرم میں اے آئی ایم ڈے ایم کے-بی جے پی اتحاد کی تلخی سامنے آ گئی ہے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کی یہ روایتی سیٹ تب تنازعہ کا مرکز بن گئی جب پارٹی نے اسے بی جے پی کو دینے سے انکار کر دیا۔ حال ہی میں، پرانی روایات (جس میں مویشی کی بلی اور مقدس جیوتی کو دوسری جگہ لے جانا شامل تھا) کو لے کر اٹھے مقامی تنازعات کو بی جے پی نے ہندو جذبات کو بھڑکانے کے لیے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا۔ پھر بھی، جب آخری فہرست تیار ہوئی، تو اے آئی اے ڈی ایم کے نے یہ سیٹ اپنے پاس ہی رکھی اور علاقے میں گہری پکڑ رکھنے والے لیڈر وی وی راجن چیلپا کو امیدوار بنایا۔
اے آئی اے ڈی ایم کے کے سماجی مساوات کا حصہ رہے مسلمان بھی اس اتحاد سے غیر مطمئن ہیں۔ جہاں ایک طرف بی جے پی ہے جو اے آئی اے ڈی ایم کے کے روایتی ووٹوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سیاسی بنیاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف تروپرن کنڈرم میں اے آئی اے ڈی ایم کے کارکن دبے لفظوں میں مانتے ہیں کہ بی جے پی پورا زور نہیں لگا رہی۔ بوتھ سطح پر تال میل ٹھیک نہیں ہے اور کارکنوں کو جمع کرنے میں وہ تیزی نظر نہیں آ رہی جس کی امید اتنے اہم انتخابی مقابلے میں تھی۔
پورے تمل ناڈو میں اس رشتے میں بڑھتی بے چینی نظر آ رہی ہے۔ سیٹوں کے معاملے میں اے آئی اے ڈی ایم کے اب بھی بڑی پارٹی ہے، لیکن بی جے پی دھیرے دھیرے دائرہ بڑھا رہی ہے۔ یہ عدم توازن مغربی تمل ناڈو میں زیادہ نظر آتا ہے، جسے اے آئی اے ڈی ایم کے کا قلعہ مانا جاتا رہا ہے۔ کوئمبٹور، ایروڈ، سیلم اور نمکل جیسے اضلاع میں بی جے پی کا اثر بڑھ رہا ہے۔ پارٹی کے جانے پہچانے چہروں میں سے ایک سابق آئی پی ایس افسر اور تمل ناڈو بی جے پی صدر کے. انّامالائی نے عوامی طور پر تو نظم و ضبط برقرار رکھا ہے، لیکن ذرائع کے مطابق پارٹی میں بے چینی ہے۔ جہاں لیڈر ذاتوں اور شہری ووٹرس کے درمیان بڑھتی عوامی مقبولیت پر کھل کر بات کرتے ہیں، وہیں وہ سیٹوں کی تقسیم پر ناراضگی بھی ظاہر کرتے ہیں۔
چنئی کے سیاسی مبصر اور ’سوشل سائنس کلیکٹیو‘ کے عہدیدار ایم. ترووینکڈم کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی کسی اتحاد میں صرف جونیئر پارٹنر بنے رہنے کے لیے شامل نہیں ہوتی۔ وہ اتحاد کو ایک انٹری پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتی ہے، تنظیم کو مضبوطی دیتی ہے، اور دھیرے دھیرے اثر بڑھاتی ہے۔ تمل ناڈو میں ہم ابھی اسی عمل کا ابتدائی دور دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ دونوں میں گہرے نظریاتی اختلافات بھی ہیں۔ تمل ناڈو کا سیاسی منظرنامہ، جس کی جڑیں دراوڑ تحریک میں ہیں، تاریخی طور پر بی جے پی کے نظریہ کے خلاف ہے۔
اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی کی قیادت والے اتحاد میں اس کی واپسی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں خراب کارکردگی کی وجہ سے ہوئی۔ تاہم، اس اتحاد نے پارٹی کی ایک واضح نظریاتی پوزیشن بتانے کی صلاحیت کو مشکل بنا دیا ہے۔ خاص طور پر سیکولرزم اور سماجی انصاف جیسے مسائل پر، جو کبھی دراوڑ سیاست کے مرکز میں تھے۔ تروپرن کنڈرم جیسی سیٹوں پر یہ تناؤ ایک محتاط پیغام کے طور پر سامنے آتا ہے، جو نہ تو بی جے پی کے نظریاتی نقطہ نظر کو پوری طرح اپناتا ہے اور نہ اس کا واضح انکار کرتا ہے۔ نتیجتاً مسلمان ووٹرس پارٹی سے دور ہو رہے ہیں، جبکہ روایتی حامیوں کا ایک حصہ پارٹی کی سمت کو لے کر غیر یقینی کا شکار ہے۔
جے للیتا کے دور میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد حکمت عملی پر مبنی تھے۔ جے للیتا نے یقینی بنایا تھا کہ نظریاتی حدود برقرار رہیں۔ چنئی کے سیاسی تجزیہ کار ایس. سندرراجن کہتے ہیں، کہ ’’جے للیتا نے بی جے پی سے قربت رکھی، لیکن اپنی جگہ نہیں چھوڑی۔ آج ہم جو دیکھ رہے ہیں، وہ قربت نہیں، سمجھوتہ ہے۔‘‘ سالوں کے اندرونی اختلافات کے بعد ایڈپّاڈی کے. پلانیسوامی کی قیادت میں جو یکجہتی حاصل ہوئی ہے، وہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے لیے سیاسی خوداعتمادی میں تبدیل نہیں ہو پائی ہے۔ سابق کوآرڈینیٹر او. پنیرسیلوم کو پارٹی سے نکالنا اور وی. کے. ششی کلا اور ٹی. ٹی. وی. دنکرن کا مسلسل سایہ، اشارہ ہے کہ اقتدار کی مرکزیت ہوئی، لیکن پارٹی میں اتحاد دیکھنے کو نہیں ملا۔
دوسری طرف بی جے پی طویل حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ تمل ناڈو میں اس کی حکمت عملی اتحاد کے ذریعے داخل ہونا، اپنی طاقت بڑھانا، خاص ذات والے گروپوں پر توجہ مرکوز کرنا اور بیانیے کا رخ بدلنا ہے۔ یہاں تک کہ جن سیٹوں پر وہ انتخاب نہیں لڑتی، وہاں بھی اس کے نظریات کی چھاپ دکھائی دینے لگی ہے۔ تروپرن کنڈرم اس کی مثال ہے، جہاں بی جے پی نے سیاسی بحث کو متاثر کیا ہے۔
لیڈروں کا ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جانا اس تبدیلی کو مزید واضح کرتا ہے۔ تمل ناڈو بی جے پی صدر کے. نینار ناگیندرن، جو پہلے اے آئی اے ڈی ایم کے میں وزیر تھے، بڑے بدلاؤ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے تحت اے آئی اے ڈی ایم کے کے اندر غیر یقینی کا سامنا کر رہے لیڈر اور کارکن پالا بدل رہے ہیں۔ چنئی کے سیاسی تجزیہ کار اور مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے ریٹائرڈ فیکلٹی سی. لکشمنن کہتے ہیں کہ ’’اصل کہانی شاید انتخابات کے بعد شروع ہو۔ اگر اے آئی اے ڈی ایم کے مضبوط چیلنج پیش نہیں کر پاتی ہے، تو بی جے پی زیادہ نمایاں اپوزیشن طاقت کے طور پر ابھرے گی۔ تبھی ہم بدلتی سیاسی وفاداری دیکھ رہے ہیں۔‘‘ دراوڑ منیتر کزگم کی حکمت عملی پلانیسوامی کو ’تمل ناڈو کے نتیش کمار‘ کے طور پر پیش کرنے کی ہے۔ اس کی گونج کو سمجھنے کے لیے دیکھنا ہوگا کہ بہار میں نتیش کی سیاست نے کیسے بی جے پی کے مسلسل توسیع کے حالات بنائے، اور وہ بھی بغیر اپنے اقتدار کو فوری کمزور کیے۔
نتیش پہلی بار 2005 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کے درمیان اپنی حمایت کو بی جے پی کے اعلیٰ طبقات اور شہری ووٹرس کے درمیان موجود بنیاد کے ساتھ جوڑا۔ وقت کے ساتھ انہوں نے ہدف شدہ فلاح اور حکومتی اقدامات کے ذریعے ’انتہائی پسماندہ طبقات‘ اور حاشیے کے گروہوں کو شامل کر کے اتحاد کو وسعت دی۔ تاہم، اس اتحاد کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ وسیع عوامی مقبولیت بی جے پی کے لیے بھی قابل رسائی ہو گئی۔ ان کے بعد کے داؤ پیچ (2013 میں بی جے پی سے الگ ہونا، 2017 میں واپس آنا، 2022 میں پھر باہر نکلنا اور 2024 میں دوبارہ شامل ہونا) نے بہار کے سیاسی مساوات کو بار بار بدلا۔ پھر بھی بی جے پی اپنی آزاد تنظیمی طاقت اور نظریاتی موجودگی بڑھاتی رہی اور آخرکار اتحاد میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ یہی ’نتیش ماڈل‘ کا نچوڑ ہے۔ ایک علاقائی لیڈر اپنا عہدہ اور اپنی شناخت تو برقرار رکھتا ہے، لیکن اس کا طویل مدتی فائدہ ایک قومی پارٹی کو ملتا ہے۔
تمل ناڈو میں بھی شاید اسی عمل کے ابتدائی مراحل نظر آ رہے ہیں۔ بھلے پلانیسوامی، نتیش کی طرح بار بار پالا نہ بدلیں، لیکن انجانے میں ہی سہی، وہ ویسا ہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم، نتیش کمار کے ساتھ اس موازنہ کی بھی کچھ حدود ہیں۔ نتیش کی اصل طاقت ان کی وہ صلاحیت تھی، جس سے وہ مختلف ذاتوں کو ملا کر ایک ایسا مضبوط اتحاد کھڑا کر پاتے تھے، جسے بی جے پی آسانی سے توڑ نہیں پاتی تھی۔ طویل عرصہ تک وہ اس اتحاد کی بنیاد بنے رہے، نہ کہ اس پر انحصار کرنے والے۔
اے آئی اے ڈی ایم کے کے اندر پلانیسوامی کا ابھرنا، جے للیتا کے انتقال کے بعد تنظیم کے اندر کی حکمت عملی کا ہی نتیجہ تھا۔ ان کا انتظامی تجربہ اور پارٹی کو استحکام دینے میں ان کا کردار ہی ان کی طاقت ہے۔ لیکن ان میں پوری ریاست کو جوڑنے والا جذباتی ربط نہیں، جو ایم جی رامچندرن اور جے للیتا، دونوں کی پہچان تھا۔ ان کی قیادت کے تئیں پارٹی کارکنوں میں ویسی گہری وفاداری بھی نظر نہیں آتی۔
انتخابی سیاست اور عوامی پالیسی کے میدان میں اپنے کام کے لیے جانے جانے والے چنئی کے تجزیہ کار سمنت رمن اس فرق کی طرف اشارہ کرتے ہیں– ’’نتیش نے ایسی سیاسی بنیاد بنائی جس کی بی جے پی کو ضرورت تھی۔ تمل ناڈو میں مساوات بن رہے ہیں۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے پاس وراثتی بنیاد ہے، لیکن منقسم۔ اسی لیے یہ اتحاد شروع سے ہی ڈھانچہ جاتی طور پر غیر مساوی ہے۔‘‘
دراوڑ منیتر کزگم (ڈی ایم کے) کا پلانیسوامی کو نتیش کے طور پر پیش کرنا، تال میل بٹھانے میں آنے والے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ نتیش والے راستے پر نہ چلا جائے۔ ایک ایسا راستہ جہاں کوئی علاقائی پارٹی، قلیل مدت کی استحکام کی خواہش میں، سیاسی اقتدار میں طویل مدت کے بدلاؤ کے حالات پیدا کر دیتی ہے۔ یہ توازن مشکل ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست میں یہ نہ صرف اے آئی اے ڈی ایم کے کے مستقبل کو، بلکہ اپوزیشن سیاست کے خدوخال کو بھی طے کر سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔