سیاسی

پی ایم مودی کے امبانی پر فرانس حکومت مہربان

وزیراعظم مودی کے رافیل طیارے خریدنے کے اعلان کے چھ ماہ بعد ہی فرانس کے ٹیکس محکمہ نے انل امبانی کی کمپنی کا تقریباً 1100 کروڑ روپئے کا ٹیکس معاف کردیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ فرانس کے ساتھ کیے گئے رافیل جنگی طیارہ معاہدے میں بدعنوانی کے معاملے میں مودی حکومت کو تقریباً ہر روز صفائی دینی پڑ رہی ہے۔ وہیں اس معاملے میں وزیراعظم مودی کے قریبی کہے جا رہے صنعتکار انل امبانی کی مشکلیں لگاتار بڑھتی جا رہی ہیں۔ فرانس کے ایک مشہور اخبار ’لاموند‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق فروری سے اکتوبر2015 کے درمیان فرانس حکومت نے ہندوستانی کاروباری انل امبانی کی ایک کمپنی کوتقریباً 1100کروڑ روپئے کی ٹیکس چھوٹ دی۔ اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد عام انتخابات کے دوران ہندوستان میں سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ ابھی چند روز کی بات ہے جب کہا جا رہا تھا کہ رافیل اسکینڈل چھپا جا رہا ہے، کم از کم انتخابات کے دوران اس مبینہ گھپلے کو لے کر مودی حکومت مطمئن نظر آرہی تھی۔ حکومت نے اپنے تشہیری نظام کے ذریعہ بڑی چالاکی سے عوام کے درمیان یہ خیال عام کرنے کی کوشش کی تھی کہ رافیل اسکینڈل پر سپریم کورٹ سے حکومت کو کلین چٹ مل چکی ہے۔ مگر بدھ کو سپریم کورٹ نے رافیل ڈیل معاملے کی فائل پھر سے کھولتے ہوئے مرکزی حکومت کے اعتراضات کوٹھکرا دیا۔ ان دستاویزات پرحکومت نے اپنے استحقاق کادعویٰ کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ رافیل طیاروں کی خرید سے متعلق تمام عرضیوں کوخارج کرنے والے 14 دسمبر2018 کے فیصلے کو لے کر دائر نظرثانی درخواستوں پر اب غور کیا جائے گا۔

حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے کو لے کر طرح طرح کی تشریحات موجودہ تھیں لیکن رافیل معاملے پر ایک نظر ثانی پٹیشن بھی سپریم کورٹ میں زیرغور تھی۔ اسی عرضی کو خارج کروانے کے لئے مودی حکومت قومی سلامتی سے جڑا معاملہ بتا کر کہہ رہی تھی کہ اب رافیل اسکینڈل پرکوئی غور نہیں ہوسکتا۔ کل ملا کر رافیل اسکینڈل میں آگے کوئی غور نہ ہو اس کے لئے حکومت نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا تھا۔ حکومت کم از کم یہ ضرورچاہتی تھی کہ انتخابات نپٹ جانے تک رافیل سودے کی کوئی بحث نہ ہو لیکن لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے ایک دن پہلے ہی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آگیا کہ وہ اس معاملے پر تفصیل سے سننے کو تیار ہے۔ بڑی عدالتیں اپنے کسی فیصلے پر نظر ثانی کے لئے صرف اس صورت میں ہی تیار ہوتی ہیں جب عدالت کو معاملے میں جان دکھائی دیتی ہے۔ بہرحال اس میں بالکل بھی شک نہیں کہ انتخابات کے عین موقع پر رافیل اسکینڈل کے زندہ ہو جانے سے حکمراں پارٹی کے لئے بڑی مشکل پیدا ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ سب سے زیادہ خوشی اور فخر کا مقام یہ ہے کہ ملک کے عدالتی نظام پر ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم ایسے سیاہ دور میں پہنچ گئے ہیں جس میں ہماری جمہوریت کے باقی تمام حصے اعتماد سازی کے بحران سے گزر رہے ہیں۔ ایک عدلیہ ہی ہے جو اپنے واحد تنظیمی ڈھانچے کی وجہ سے سبھی کو قابل قبول سمجھی جاتی ہے۔ عدالتی فیصلہ جن کے خلاف جاتا ہے وہ بھی سر جھکا کر اسے تسلیم کرتے ہیں۔ ملک کو پتہ ہے کہ اگرعدالتی نظام سے اعتماد اٹھ گیا تو باقی کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو رافیل اسکینڈل پرسپریم کورٹ کے اہم فیصلے سے عدالتی نظام پر اعتماد اور مضبوط ہوا ہے۔

کسی بھی حکومت کے پاس بڑے سے بڑے بحران سے نمٹنے کے سینکڑوں طریقے ہوتے ہیں لیکن یہ بدعنوانی کا معاملہ ہے۔ وہ بھی عام بدعنوانی نہیں بلکہ سیاسی بدعنوانی کا معاملہ ہے۔ ویسے تو سیاست میں بدعنوانی کے الزام اب اتنے زیادہ سنسنی خیز نہیں مانے جاتے لیکن انتخابات کے موقع پر بدعنوانی کے الزامات کا بوجھ کوئی بھی حکومت اٹھا نہیں پاتی۔ اسی لئے انتخابات کے عین موقع پرحکومت پر رافیل اسکینڈل کے بادلوں کا منڈرانا حکومت کی زمین ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ حکومت رافیل کے محاذ پر اپنے دفاع کے لئے اب سب کچھ جھونک سکتی ہے۔ وہ کیا کرے گی؟ اس کا اندازہ لگانا ہو تو اس حکمت عملی کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ جارحانہ حملہ ہی سب سے اچھا دفاع ہوتا ہے۔ اس طرح سے لگتا یہی ہے کہ مودی حکومت اپنے دفاع میں اپوزیشن پر بدعنوانی کے الزامات کو اچانک بڑھا سکتی ہے۔ تاکہ اور کچھ ہو یا نہ ہو کم سے کم الزامات کی دھار تو کم ہو جائے گی۔

فرانسیسی اخبار کی رپورٹ نے جہاں انل امبانی کے لئے نئی مشکل کھڑی کردی ہے وہیں پہلے سے ہی بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہی مودی حکومت کے ذریعہ انل امبانی کی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی بات کافی حد تک صحیح ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ فرانسیسی اخبار کے مطابق ’ریلائنس فلیگ ایٹلانٹک فرانس‘ (آرایف اے ایف) نام کی اس کمپنی کو 14 کروڑ 37 لاکھ یورو یعنی تقریبا 1100 کروڑ روپئے کی ٹیکس وصولی منسوخ کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس ٹیکس چھوٹ سے کچھ مہینے پہلے ہی وزیر اعظم نریندرمودی نے اپریل 2015 میں فرانسیسی کمپنی دسالٹ ایوی ایشن کے ساتھ 36 رافیل جنگی طیارے خریدنے کے منصوبہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ریلائنس پر فرانس میں کم از کم 151 ملین یورو کا ٹیکس بقایا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ آرایف اے ایف کی ملکیت انل امبانی کی ریلائنس کمیونی کیشنز کے پاس ہے۔ یہ ایک فرانسیسی کمپنی ہے۔ مودی کے رافیل طیارے خریدنے کے اعلان کے چھ ماہ بعد ہی فرانس کے ٹیکس محکمہ نے 151 ملین یورو کی جگہ 7.3 ملین یورو کی ادائیگی کومنظوری دے دی۔ تواس طرح فروری سے اکتوبر 2015 تک جب فرانس اور ہندوستان کے درمیان رافیل سودا ہو رہا تھا، تب انل امبانی کو143.7 ملین یورو (تقریباً 1100 کروڑ روپئے) کے ٹیکس کی چھوٹ مل گئی۔ یہ تو بہت ہی اچھی ڈیل ہوئی، ہے نا؟۔

راہل گاندھی صحیح ثابت ہوئے!

سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے تک میڈیا کے ایک طبقے کا ماننا تھا کہ کانگریس صدرراہل گاندھی رافیل پر کچھ زیادہ ہی بول رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یو پی اے میں کانگریس کی اتحادی پارٹیاں بھی اپنے نفع ونقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے مان کر چل رہی تھیں کہ زبردست خفیہ کوَچ میں محفوظ رکھے گئے رافیل اسکینڈل کی بحث دیر تک ٹھہر نہیں پائے گی۔ اسی لئے کانگریس پارٹی کے علاوہ دوسری اپوزیشن پارٹیوں نے رافیل سودے کی رازداری کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے لیکن اب جب سپریم کورٹ کے فیصلے سے رافیل اسکینڈل پہلے سے بھی زیادہ زور سے گونج اٹھا ہے تو راہل گاندھی کی باتوں کو تقویت تو ملی ہی ہے۔ اب راہل گاندھی کو اپنی انتخابی تقریروں میں یہ ثابت کرنے میں آسانی ہو جائے گی۔ رافیل پرعدالتی فیصلے سے راہل گاندھی کا حوصلہ ایک اور لحاظ سے بڑھے گا۔ ابھی کچھ دنوں سے وہ نوٹ بندی کو بھی ایک بڑا اسکینڈل بتا رہے ہیں۔ اب اپنی انتخابی ریلیوں میں وہ نوٹ بندی کے گھپلے کو بھی بتا رہے ہوں گے۔

Published: 14 Apr 2019, 8:10 PM