مودی کی ایران پالیسی ’حکمت عملی پر مبنی خود سپردگی‘… گردیپ سنگھ سپّل

ہندوستان اگر ایران کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے تو وہ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ کے مقابلے اپنے واحد جغرافیائی، بنیادی ڈھانچہ پر مبنی اور حکمت عملی پر مبنی متبادل سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر (مصنوعی ذہانت)</p></div>
i
user

گردیپ سنگھ سپل

’سفارت کاری‘ کو جب اپنا یہ نام نہیں ملا تھا، اس سے بہت پہلے ہی ہندوستان اور ایران کے درمیان مکالمہ جاری تھا۔ وادیٔ سندھ کا قدیم فارس کے ساتھ لاجورد (لیپیس لازولی) اور ہاتھی دانت کی تجارت تھی۔ سنسکرت اور اویستا زبانوں کی جڑیں ایک ہی ہیں۔ ہندوستان کی عدالتوں، زمین کے ریکارڈ، موسیقی اور ہندی زبان پر آج بھی فارسی اثر دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے مودی حکومت کی جانب سے ایران کو اچانک چھوڑ دینا نہ صرف خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے بلکہ ایک ’تہذیبی غداری‘ بھی ہے، جس پر نہ کوئی غور کیا گیا اور نہ کوئی اعلان ہوا۔ یہ بھی نہیں کہ تہران یا ہندوستان کی عوام کو اس معاملہ میں کوئی وضاحت دی گئی ہو۔ ہندوستان اور ایران کے درمیان اختلافات رہے ہیں، لیکن پہلے کبھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ سفارتی ذرائع کو نظر انداز کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو اس طرح اچانک اور خفیہ انداز میں ایک نئے طریقے سے متعین کیا گیا ہو۔

1947 میں ہندوستان کی آزادی سے ایک ساختیاتی تقسیم پیدا ہوئی۔ ایران، جو ہندوستان کا ایک بالکل پڑوسی تھا، اب اس کی سرحدیں ہندوستان سے دور ہو گئی تھیں۔ پاکستان ان دونوں ممالک کے درمیان آ گیا تھا۔ شاہ کا ایران مکمل طور پر مغربی خیمے میں تھا، جبکہ جواہر لال نہرو کا ہندوستان غیر وابستہ تھا۔ ایران-عراق جنگ میں جب ہندوستان نے عراق کا ساتھ دیا، تو دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہو گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 1979 میں خمینی کے اسلامی انقلاب نے ہی ان تعلقات کے لیے دوبارہ دروازہ کھولا۔ اب دونوں ہی ممالک امریکہ کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے دائرے سے باہر تھے، اور دونوں کے پاس پاکستان کی بڑھتی ہوئی علاقائی خواہشات کو تشویش کے ساتھ دیکھنے کی اپنی اپنی وجوہات تھیں۔


ہندوستان اور ایران کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط بنانے میں افغانستان کا بھی اہم کردار رہا۔ 1996 سے 2001 کے درمیان جب افغانستان میں طالبان اپنی حکومت قائم کر رہے تھے، ہندوستان اور ایران اس جدوجہد میں ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ پاکستان کی فوجی انٹلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کی حامی تھی۔ ہندوستان اور ایران نے روس کے ساتھ مل کر ’ناردرن الائنس‘ کو سیاسی حمایت، اقتصادی مدد اور ہتھیار فراہم کیے۔ یہ محض کاغذی بیانات یا مشترکہ اعلانات کی سفارتی چمک دمک والی شراکت داری نہیں تھی، بلکہ مشترکہ دشمنوں اور باہمی مفادات پر مبنی ایک مضبوط اتحاد تھا۔

1992 میں بابری مسجد کا انہدام ہوا تھا، اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے 1994 میں پاکستان نے ایک اہم قدم اٹھایا۔ اس نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں ہندوستان کے خلاف ’اسلامی تعاون تنظیم‘ (او آئی سی) کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔ تب ایران نے او آئی سی کے اجتماعی اتفاق رائے کو روک دیا اور ایک اسلامی جمہوریہ نے پاکستان کے بجائے ہندوستان کا ساتھ دیا۔ اس وقت سے تہران او آئی سی میں نئی دہلی کی ڈھال بنا رہا ہے۔


چابہار، سی پیک اور ایک اسٹریٹجک جواب

افغانستان میں پیدا ہونے والی بے چینی نے ہندوستان کو وہ چیز واپس دلائی جو تقسیم کے وقت اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔ یعنی پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک پہنچنے کا راستہ۔ 2015 میں چین نے ’چین-پاکستان اقتصادی راہداری‘ (سی پیک) کے ذریعہ ہندوستان کے مغربی حصے میں اپنی مستقل موجودگی قائم کر لی۔ اس نے پاکستان کی گوادر بندرگاہ کو اپنے سمندری مرکز کے طور پر منتخب کیا اور پورے ایشیا میں ’چین مرکز اقتصادی ڈھانچہ‘ قائم کرنے کے لیے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو‘ (بی آر آئی) کا خاکہ تیار کیا، جس کا مقصد ایسا انحصار پیدا کرنا تھا جو حکومتوں کی تبدیلی کے بعد بھی برقرار رہے۔

ہندوستان کا جواب تھا چابہار، جو پاکستان کی سرزمین کا ایک بھی میل عبور کیے بغیر ہندوستان کو افغانستان تک براہ راست رسائی دیتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چابہار 7,200 کلومیٹر طویل ملٹی ماڈل نیٹورک، انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) کا داخلی دروازہ ہے، جو ممبئی کو تہران اور باکو کے راستے ماسکو سے جوڑتا ہے۔ ہندوستان، ایران اور روس نے 2000 میں آئی این ایس ٹی سی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مکمل طور پر فعال ہونے پر یہ راہداری مال برداری کے وقت کو 40 دن سے کم کر کے 20 دن کر دے گی اور نقل و حمل کی لاگت میں بھی 30 فیصد کمی ہو جائے گی۔ اس طرح یہ ہندوستان کو وسطی ایشیا، روس اور یورپ تک پہنچنے کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ فراہم کرے گی، جو پاکستان اور چین کے پسندیدہ رکاوٹ پوائنٹس کو نظر انداز کرے گا۔


چابہار محض ایک بندرگاہ نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے، جس کے ذریعہ وہ چین کے ’سی پیک‘ اور ’بی آر آئی‘ کا زمینی سطح پر مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہ دراصل ہندوستان کے لیے یہ ظاہر کرنے کا بھی ایک ذریعہ ہے کہ وہ چین-پاکستان اتحاد کی وجہ سے زمینی طور پر محصور نہیں رہے گا۔ ہندوستان کی اسٹریٹجک فہرست سے صرف چابہار کو نکال دیجیے، تو ہندوستان اپنی مغربی رابطہ کاری کی برتری بیجنگ اور اسلام آباد کے ہاتھوں ہمیشہ کے لیے کھو دے گا، اور اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔

اسی لیے آنے والی ہر حکومت چابہار پروجیکٹ کی حمایت کرتی رہی۔ 2012 میں تہران کے دورے کے بعد منموہن سنگھ حکومت نے اس کی ترقی کے لیے 100 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا۔ مودی نے بھی 2016 میں تہران کا دورہ کیا اور ’شہید بہشتی ٹرمینل‘ معاہدے پر دستخط کیے۔ ہندوستان نے مئی 2024 میں اس ٹرمینل کا آپریشنل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مودی نے اسے ایک تاریخی کامیابی قرار دیا، اور یہ واقعی ایک تاریخی کامیابی تھی۔


’اسٹریٹجک خود مختاری‘ کی ایک مثال

جب 2011-12 میں امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کیں اور ایرانی بینکوں کو عالمی ڈالر نظام سے الگ کر دیا، تب ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دکھایا کہ ایک خود مختار خارجہ پالیسی کیسی ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں عوامی طور پر اعلان کیا کہ پابندیوں کے باوجود ہندوستان ایران سے تیل کی درآمد جاری رکھے گا، اور اس کے بعد انہوں نے تہران کے لیے ایک تجارتی وفد بھیجنے کا اعلان کر دیا۔

مارچ 2012 میں ایرانی بینکوں کو ’سوئفٹ‘ مالیاتی پیغام رسانی نیٹورک سے الگ کر دیا گیا تھا، جو بین الاقوامی بینکاری لین دین کا ایک عالمی نظام ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یوکو بینک کے ذریعے ’روپیہ-ریال ادائیگی نظام‘ بنا کر اس قدم کو چیلنج کیا۔ اس کے تحت تیل کا لین دین مکمل طور پر ڈالر نظام سے باہر اور واشنگٹن کی پہنچ سے دور رکھا گیا۔ اس سے جمع ہونے والی اضافی رقم کا استعمال ہندوستانی برآمد کنندگان کو اربوں روپے کے بقایہ جات ادا کرنے کے لیے کیا گیا۔ پھر جب 2022 کے بعد ہندوستان کو روس کے ساتھ تجارت کی ضرورت پیش آئی، تو یہی مالیاتی ڈھانچہ کارآمد ثابت ہوا۔


منموہن سنگھ کی ایران پالیسی نے ہندوستان کے لیے پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل تجارتی نظام کا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا۔ مغربی ممالک کے شدید دباؤ کے باوجود انہوں نے اگست 2013 میں صدر روحانی کی حلف برداری تقریب میں شرکت کے لیے اُس وقت کے نائب صدر حامد انصاری (جو تہران میں سابق سفیر رہ چکے تھے) کو بھیجا۔ بغیر کسی الفاظ کے پیغام بالکل واضح تھا، ہندوستان نے ایران کا ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔ یہی اسٹریٹجک خود مختاری کہلاتی ہے۔

مودی کا مکمل جھکاؤ

2019 میں ڈونالڈ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے ہندوستان نے ایران سے خام تیل کی تمام درآمدات روک دیں۔ ایران اس وقت ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا تیل سپلائر تھا اور ہندوستان کی مجموعی تیل خرید میں اس کا حصہ 16.5 فیصد تھا۔ ایرانی تیل کے ساتھ مال برداری میں رعایت، ادائیگی کی موافق شرائط اور ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں ادائیگی کی سہولت ملتی تھی۔ اسے چھوڑنے سے ہندوستان کو اربوں کا نقصان ہوا۔ اس کے باوجود چابہار منصوبہ اپنے طے شدہ راستے پر چلتا رہا اور دونوں ممالک کی دوستی بھی برقرار رہی۔ حال ہی میں 25 فروری 2026 کو ایران نے وشاکھاپٹنم میں منعقد ہندوستان کے ’ملن 2026‘ بحری مشق میں بھی حصہ لیا۔


26 فروری کو جب وزیر اعظم مودی اسرائیل گئے، تو سب کچھ بدل گیا۔ 2 دن بعد جب ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ شروع ہوئی، ہندوستان کے موقف میں واضح تبدیلی نظر آئی۔ اس نے ایران کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہونے پر مذمت نہیں کی۔ اس نے ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت پر اظہار افسوس نہیں کیا۔ ’ملن 2026‘ مشق سے واپس جا رہے ایرانی جنگی جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ کو جب سری لنکا کے سمندری علاقہ میں ایک امریکی آبدوز نے ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا، تو ہندوستان کا ردعمل محض ’انسانی تلاش اور بچاؤ‘ تک محدود رہا۔ ہندوستان کا ایک مہمان اسی کی سرزمین کے قریب حملہ کا شکار ہوا، لیکن ہندوستان نے اس سے نظریں موڑ لیں۔ یہ ہندوستان کی پالیسی نہیں تھی۔

امریکی دباؤ میں آ کر مودی حکومت نے 2026-27 کے مرکزی بجٹ میں چابہار کے لیے فنڈنگ صفر کر دی۔ ایران کے ساتھ ہندوستان کا دو طرفہ تجارت گھٹ کر 1.68 ارب امریکی ڈالر رہ گیا۔ چابہار میں ہندوستان کی بنیادی ڈھانچہ جاتی سرمایہ کاری ایک بے کار اثاثہ بننے کے خطرے میں ہے، جسے چینی یا روسی آپریٹرز کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ جو بندرگاہ ہندوستان نے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا تھا، ممکن ہے آخرکار اس کا کنٹرول چین کو ہی مل جائے۔ مودی کے اس اچانک فیصلہ کا مطلب ہے کہ ہندوستان اب افغانستان اور وسطی ایشیا تک پہنچنے کے اپنے واحد آزاد زمینی راستہ سے محروم ہو جائے گا۔ بحر عرب سے لے کر بحیرۂ کیسپین تک پھیلا پورا آئی این ایس ٹی سی رابطہ کاری راہداری اس کی زد میں آ گیا ہے۔


امریکہ نے واضح اشارہ دیا ہے کہ روسی تیل خریدنے کے لیے ہندوستان کو اس کی اجازت درکار ہے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کسی ابھرتی ہوئی طاقت کی خارجہ پالیسی نہیں ہے بلکہ ایک تابع ملک کی پالیسی ہے۔ اب اگر ہندوستان ایران کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے، تو وہ چین کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ کے مقابلے میں اپنے واحد جغرافیائی، بنیادی ڈھانچہ جاتی اور اسٹریٹجک متبادل سے محروم ہو جائے گا۔ یہ ایک اسٹریٹجک ’سیلف گول‘ ثابت ہوگا اور تاریخ اسے اسی شکل میں یاد رکھے گی۔

(مضمون نگار گردیپ سنگھ سپّل کانگریس ورکنگ کمیٹی کے مستقل مدعو رکن ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔