نوٹ بندی کے بعد دیش بندی کی حماقت ناقابلِ معافی... اعظم شہاب

کورونا نے حکمرانوں کو اس قدر ہیبت زدہ کر دیا ہے کہ انہوں نے پہلے تو اپنے آپ کو مقید کیا اور پھر اس کے بعد سارے ملک میں دیش بندی لاگو کردی۔ یہ دیش بندی اس سے قبل لگنے والی نوٹ بندی سے بھی بھیانک ہے۔

پی ایم مودی
پی ایم مودی
user

اعظم شہاب

کرونا کا کتنا بھی رونا رویا جائے لیکن میں اسے ایک چمتکاری وبا سمجھتا ہوں۔ اس نے پلک جھپکتے وہ سب کر دیا کہ جس کا تصور بھی محال تھا۔ اس نے حکمرانوں کو اس قدر ہیبت زدہ کیا کہ انہوں نے پہلے تو اپنے آپ کو مقید کیا اور پھر اس کے بعد سارے ملک میں دیش بندی لاگو کردی۔ یہ دیش بندی اس سے قبل لگنے والی نوٹ بندی سے بھی بھیانک تھی۔ اس نے تو گزرے زمانے کے نس بندی کی یاد تازہ کردی کہ جس میں لوگ دواخانوں اور ڈاکٹروں کے پاس پھٹکنے سے اس قدر ڈرتے تھے کہ کہیں علاج بیماری سے زیادہ نقصان دہ نہ ہوجائے۔

آج کل کورونا وائرس کی دہشت پر بھوک کا خوف غالب آچکا ہے۔ دہلی جیسے شہر سے کرفیو کو توڑ کر ہزاروں لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑے ہیں۔ کسی انتظامیہ کی مجال نہیں ہے کہ ان کو روک سکے۔ یہ بھوکے پیاسے لوگ سیکڑوں میل کی مسافت پیدل طے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو کورونا کا نہیں بلکہ فاقہ کشی کی موت کا خوف ہے۔ ان بے یارو مددگار لوگوں کے لیے نہ تو مودی کی مرکزی حکومت کچھ کر پارہی ہے اور نہ ہی کیجریوال کی ریاستی حکومت کسی کام آرہی ہے۔ یوگی جی ان کے لیے بسوں کے انتظام کا اعلان کر رہے ہیں اور شاہ جی ان کو منع کر رہے ہیں۔ عجیب افرا تفری کا عالم ہے کہ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے؟

کورونا کی وبا این آر سی یا فرقہ وارانہ فسادات کی طرح کوئی صرف ہندوستان کا معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ لیکن اس کے سبب اس طرح کا خروج (عام مہاجرت) دنیا کے کسی خطے میں نظر نہیں آئی جیسا کہ ہندوستان میں دیکھنے کو ملی۔ ہزاروں لوگ وزیر اعظم کی ذریعہ نافذ کردہ پابندی کو اپنے قدموں تلے روند کرنکل کھڑے ہوئے۔ شاہ جی کی مجال نہیں تھی کہ وہ انہیں روک پائیں اور واپس اپنے گھروں میں جانے کے لیے کہیں یا قید کریں۔ بھکمری کے خوف نے انہیں شاہ جی کی اس پولیس سے بے نیاز کردیا ہے جو دہلی فسادات میں آگ زنی و پتھر بازی کرتی ہوئی نظر آئی تھی۔ اس وفادار پولیس کو بھی ان بے یارومددگار لوگوں کے آگے اپنی سنگینوں کے سرکو خم کرنا پڑا۔ یہ ایک ایسا سیلاب تھا کہ اگر مودی اور شاہ بھی اس کی راہ میں آتے تو وہ انہیں خس و خاشاک کی مانند بہا لے جاتا۔ یہ محض اس لیے ہوا کہ دیش بندی کو نافذ کرنے سے قبل مناسب انتظامات نہیں کیے گیے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان مہاپورشوں کی ایسی بدنامی نہ ہوتی اور یہ دنیا اس عام مہاجرت کو نہیں دیکھتی۔

دہلی کانگریس کے رہنما اجے ماکن نے ان ہزاروں پریشان حال غریب، مزدور، خواتین اور بچوں کے شہروں سے اپنے گھروں کے لئے سینکڑوں کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرنے کو عصر حاضر کا ایک عظیم انسانی سانحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے حکومت کی ناکامی، پولیس کی بریریت اور انتظامیہ کی بے حسی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور دیگر رہنماوں نے بھی 21 دن کے لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پیدل اپنے اپنے گھروں کو جانے پرمجبور لوگوں کے حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور سرکار سے انہیں ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کی اپیل کی۔

اجے ماکن کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ جب بیرون ملک سے ہندوستانیوں کی وطن واپسی کے لئے جہاز بھیجے جا سکتے ہیں تو اپنے ملک کے اندر رہنے والے ان غریب لوگوں کے لئے حکومت سواری کا انتظام کیوں نہیں کر سکتی؟ کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے تو اندیشہ ظاہر کیا کہ دہلی وممبئی جیسے بڑے شہروں سے مع اہل و عیال یوپی و بہار پیدل جانے والے کورونا وائرس سے نہیں تو بھوک سے ضرور مر جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا انہیں بسوں سے ان کے گھروں تک چھوڑا نہیں جاسکتا؟

کورونا کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس نے نریندر مودی جیسے سنگدل اور گھاگھ وزیر اعظم کو معافی مانگنے پر مجبور کردیا۔ یہ وہی وزیر اعظم ہے کہ جس نے گجرات کے قتل عام پر ٹھیک سے افسوس کا اظہار تک نہیں کیا۔ اس وقت ٹائم جریدے نے جب معافی کی بابت استفسار کیا تو اس نے کہا کہ اگر میری گاڑی کے نیچے کتے کا پلاّ بھی آجائے تو مجھے موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ نوٹ بندی پر چوراہے پر کھڑا کرکے پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے کے بعد اس کو بھول گیا۔ جامعہ میں مطاہرین کو اس نے لباس سے پہچاننے کی کوشش کی اور شاہین باغ کے مظاہرے میں اتفاق یا تجربہ تلاش کرتا رہا۔ کورونا وائرس نے پہلے تو مودی کی ہولی کو بے رنگ کردیا اور اس کے بعد لاک ڈاؤ کی وجہ سے عوام کو درپیش پریشانیوں پر معذرت طلب کرنی پڑی۔

اپنے من کی بات میں وزیر اعظم نے کہا کہ سب سے پہلے میں ملک کے تمام باشندگان سے معافی مانگتا ہوں۔ میرا دل کہتا ہے کہ آپ مجھے ضرور معاف کر دیں گے۔ مجھے کئی ایسے فیصلے لینے پڑے جن کی وجہ سے آپ کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر میں اپنے غریب بھائی بہنوں کی طرف دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا کہ انہیں لگتا ہوگا کہ کیسا وزیر اعظم ہے! ہمیں مصیبت میں ڈال دیا، ان سے میں خاص طور پر معافی مانگتا ہوں۔ انسان اگر پہلی غلطی کرے تو اسے معاف کیا جانا چاہیے لیکن یہ تو وزیر اعظم کی عادت بن گئی ہے کہ ان کی دم مصیبت کی نلکی سے نکلنے کے بعد پھر ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد دیش بندی کی اس حماقت کو ملک کے عوام ہر گز معاف نہیں کریں گے اور انتخاب کے دوران اس غلطی کا واقعی مزہ ضرور چکھائیں گے۔

Published: 29 Mar 2020, 9:30 PM