تاریخ یقیناً ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اچھی باتوں کے لیے یاد رکھے گی... سونیا گاندھی

ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے بے مثال شرح نمو اور صارفیت و نجی سرمایہ کاری میں ایسے عروج کے ساتھ گہری معاشی تبدیلی کا آغاز کیا جس نے ہمیں متوسط آمدنی والے ممالک کی صف میں پہنچا دیا۔

<div class="paragraphs"><p>سونیا گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

29 جولائی 2026 ہماری حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم لیکن نظرانداز کیا گیا دن تھا۔ ایک قابل ذکر فیصلے میں سپریم کورٹ نے مبینہ ’کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے‘ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سی بی آئی کی جانب سے دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے سی بی آئی کی اختتامی رپورٹس کو مسترد کرنے اور سابق وزیر اعظم کے خلاف کسی ’مؤثر وجہ‘ کے بغیر منفی تبصرے کرنے پر ٹرائل کورٹ کی سرزنش کی۔

اس فیصلہ کے ساتھ ہماری عوامی گفتگو کے سب سے المناک ابواب میں سے ایک ’ڈاکٹر سنگھ کے خلاف مہم‘ کا اختتام ہوتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ڈاکٹر سنگھ غیر معمولی دیانت داری اور اصول پسندی کے حامل شخص تھے۔ ان کے خلاف مہم منظم اور مربوط تھی، جس میں نوکر شاہی سے لے کر میڈیا، عدلیہ، سول سوسائٹی اور یقینی طور پر آر ایس ایس و بی جے پی تک کے عناصر شامل تھے۔ آج ان کی بے بنیاد مہم اپنے ناگزیر انجام تک پہنچ چکی ہے، یعنی بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ ہر الزام سے باہر نکل کر سرخرو ہوئے ہیں۔


نریندر مودی حکومت نے جس طرح کام کیا ہے، اور جرائم و بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے ای ڈی و سی بی آئی جیسے اداروں کا جس طرح واضح اور سنگین طور پر غلط استعمال کیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دیانت داری اور جوابدہی کا ریکارڈ مودی حکومت کے طریقۂ کار سے بالکل برعکس ہے۔ مودی حکومت میں لیڈران کو یا تو جبر کے ذریعہ خاموش کر دیا جاتا ہے یا موقع پرستانہ انداز میں بی جے پی میں شامل کر لیا جاتا ہے، یا بعض غیر معمولی معاملات میں انہیں وزارتی عہدوں سے بھی نوازا جاتا ہے۔ جب بدعنوانی کے معتبر الزامات سامنے آتے ہیں تو مودی حکومت انہیں صاف نظر انداز کر دیتی ہے۔ حزب اختلاف میں رہیں تو بدعنوان، اور پارٹی بدلتے ہی اچانک پاک صاف!

یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ وزیر اعظم بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف سب سے زیادہ آواز بلند کرنے والے لوگوں میں شامل تھے۔ 8 فروری 2017 کو راجیہ سبھا میں ان کے طنزیہ اور انتہائی ناشائستہ ریمارکس، کہ صرف ڈاکٹر سنگھ ہی ’برساتی پہن کر نہانے کا فن‘ جانتے ہیں، ہماری پارلیمانی تاریخ کے پست ترین لمحات میں شمار ہوں گے۔ چونکہ پی ایم مودی اِن دنوں اُن پر حملہ کرنے والے ہندوستانی طلبا کو ’معاف‘ کر رہے ہیں، شاید وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ کے خلاف اپنے غیر شائستہ بہتان پر خود کو بھی معاف کر دیں۔


خیرات کی طرح خود احتسابی بھی گھر سے شروع ہونی چاہیے۔ آخرکار ڈاکٹر سنگھ پر جو حملے کیے گئے، ان کے پیچھے شاندار طرز حکمرانی کے ریکارڈ سے عوام کی نظر ہٹانے کی ایک بے چین خواہش کارفرما تھی۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے بے مثال شرح نمو اور صارفیت و نجی سرمایہ کاری میں ایسے عروج کے ساتھ گہری معاشی تبدیلی کا آغاز کیا جس نے ہمیں متوسط آمدنی والے ممالک کی صف میں پہنچا دیا۔ 2008 میں جب عالمی معیشت کو بحران اور تباہی کا سامنا تھا، ہندوستان نے اپنی لچک کا مظاہرہ کیا۔ ان کے دور میں روزگار کے نمونوں میں تبدیلی واضح طور پر نظر آئی، جب لاکھوں افراد زیادہ پیداواری پیشوں کی طرف منتقل ہوئے۔ تاہم گزشتہ دہائی کے دوران اس تنوع کا عمل پلٹ گیا ہے۔ سابقہ حکومت کے شروع کیے گئے پروگراموں اور شرح نمو میں تیزی کی بنیاد پر ہندوستان نے غربت اور محرومی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن طور پر کامیابی حاصل کرنا شروع کی۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو نکالنے کے طریقے میں دوبارہ تبدیلی کے باوجود یو پی اے حکومت کے 10 برسوں میں گزشتہ 12 برسوں کے مقابلے زیادہ معاشی نمو دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد غربت سے باہر نکلے۔

سماجی طور پر منموہن سنگھ حکومت نے ایک ایسے انقلاب کو ممکن بنایا جس نے تمام ہندوستانیوں، بالخصوص ہمارے معاشرے کے سب سے محروم طبقات کو حقوق فراہم کیے۔ اس نے حق تعلیم کے آئینی وعدے کو پورا کیا اور آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے مرکزی طور پر مالی اعانت یافتہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں او بی سی ریزرویشن متعارف کروا کر سماجی انصاف کو وسعت دی۔ جنگلاتی حقوق کے قانون نے کئی دہائیوں کی جدوجہد کے بعد ہمارے قبائلی اور جنگلات میں رہنے والی برادریوں کے آبائی حقوق کو تسلیم کیا۔ منریگا، جسے حال ہی میں مودی حکومت نے ختم کر دیا، دنیا میں قائم کیے گئے سب سے طاقتور سماجی تحفظ کے اقدامات میں سے ایک تھا۔ کووڈ وبا کے دوران، جب پوری معیشت شدید طور پر متاثر ہوئی تھی، منریگا ان 2 ذرائع میں سے ایک تھا جن کے ذریعے حکومت معاشرے کے غریب اور سب سے زیادہ کمزور طبقات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ دوسرا ذریعہ ڈاکٹر سنگھ کی حکومت کی ایک اور نمایاں کامیابی ’قومی غذائی تحفظ قانون 2013‘ تھی، جس نے کروڑوں خاندانوں کے لیے بنیادی غذائی راشن کی نشاندہی اور اس تک رسائی کی ضمانت دی۔ اب اس میں ترمیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عہدہ چھوڑنے کے فوراً بعد ڈاکٹر سنگھ نے خبردار کیا تھا کہ حقوق پر مبنی قانون سازی حملے کی زد میں آئے گی، اور افسوس ناک طور پر ان کے خدشات درست ثابت ہوئے ہیں۔


سیاسی طور پر وزیر اعظم کی حیثیت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی دہائی ریاست اور سول سوسائٹی کے جمہوری اداروں کی ترقی اور مضبوطی سے عبارت تھی۔ ڈاکٹر سنگھ نے تاریخی حق اطلاعات قانون کے ذریعہ حکومت میں شفافیت کے ایک نئے دور کا آغاز کیا، جس نے شہریوں کو حکومت کے اندرونی امور تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ آر ٹی آئی اب مکمل طور پر بے اثر ہو چکا ہے۔ آزاد میڈیا میں غیر معمولی وسعت آئی، جس کی خصوصیت ایسی بے خوفی تھی جو اس کی موجودہ کمزوری کے مقابلے میں اور بھی زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ سول سوسائٹی ایک ایسی قوت بن کر ابھری جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا تھا، اور ہمارے طلبا کو حکومت حتیٰ کہ وزیر اعظم کے خلاف بھی احتجاج کرنے کی آزادی حاصل تھی، بغیر اس کے کہ ان پر پیلیٹ گنوں یا اے کے-47 سے فائرنگ کی جائے۔

وزیر اعظم باقاعدگی سے 100 سے زیادہ غیر اسکرپٹیڈ پریس کانفرنسوں کے ذریعہ پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے خود کو جواب دہ بناتے تھے۔ اور یقیناً ہم اس تاریخی اور انقلابی ہندوستان-امریکہ جوہری معاہدے کو نہیں بھول سکتے، جس نے جوہری امتیاز اور ہندوستان کے خلاف کئی دہائیوں پر محیط ’انکار‘ کا خاتمہ کیا اور عالمی سطح پر ہندوستان کی آمد کا اعلان کیا۔ یہ ان کی سیاسی جرأت اور مسلسل کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ معاہدہ اب پھل دے رہا ہے۔ ڈاکٹر سنگھ عالمی فورمز پر ایک قابل احترام اور داد و تحسین پانے والے شخص تھے اور انہوں نے کبھی اپنی ان کامیابیوں اور حاصل ہونے والے اعزازات کی نمائش اور تشہیر کی ضرورت محسوس نہیں کی۔


ہندوستان کی معاشی صلاحیت پر ان کا یقین، ہر آخری شہری کو انصاف فراہم کرنے کی ان کی خواہش اور جمہوریت پر ان کا پختہ یقین ان کی حکومت کے فلسفے کی بنیاد تھے۔ آج کے متصادم دور میں ڈاکٹر سنگھ کی مدبرانہ قیادت، علمی بصیرت اور بنیادی شرافت کی شدید کمی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی دیانت داری کے خلاف شرارت پر مبنی اور ناقابل دفاع الزامات کھوکھلے ثابت ہو چکے ہیں، اور وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کے ریکارڈ کو تیزی سے سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ ان کا دور ہندوستان کی تاریخ میں فیصلہ کن معاشی، سیاسی و سماجی ترقی کا دور تھا۔

ہم سب کو یقیناً افسوس ہے کہ وہ آج کا دن دیکھنے اور اپنی دانش مندی سے قوم کی رہنمائی کرنے کے لیے ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ لیکن ہم سب کے لیے یہ اطمینان کی بات ہے کہ جنوری 2014 میں ان کی دور اندیش پیش گوئی ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔ تاریخ واقعی انہیں ایک خاموش، نرم مزاج لیکن نہایت مؤثر وزیر اعظم کے طور پر اچھی باتوں کے لیے یاد رکھے گی۔

(مضمون نگار کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن ہیں۔ یہ مضمون انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوا، جس کا ترجمہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔