معاف کرنا اور معافی یکساں عمل نہیں ہو سکتا... میناکشی نٹراجن

معافیوں کی ایک تاریخ رہی ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ خود ساختہ ’معافی ویر‘ نے انگریز حکمرانوں سے معافی مانگی تھی۔ اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ ایک فرمانبردار بیٹا ہے جو بھٹک گیا تھا۔

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
i

جمہوریت کا تقاضہ رہا ہے کہ اعلیٰ قیادت پوری عاجزی کے ساتھ معافی مانگا کرتی ہے۔ بادشاہت کے دور میں ضرور ’معاف‘ کیا جاتا تھا۔ عدالتی عمل میں کسی فیصلے کو قانونی طور پر معطل کیا جاتا ہے، جسے عام بول چال میں معافی کہا جاتا ہے۔ لیکن اِن دنوں ’معاف‘ کیا جا رہا ہے، تو کئی سوال سامنے آتے ہیں۔

یہ تو واضح ہے کہ وہ معافی والی ویڈیو اَندھ بھکتوں کے لیے ہے، تاکہ وہ مزید اندھیرے میں ڈوب جائیں، انہیں یہ مبینہ بڑپّن بہت بھائے۔ یہ ویڈیو ہرگز اس طبقے کے لیے نہیں تھی جو بے خوفی کے ساتھ سامنے آیا، اپنے متعدد ساتھیوں کے ڈپریشن میں جا کر موت کو گلے لگا لینے پر غمزدہ تھا، پولیس کی لاٹھیوں اور پیلیٹ گن سے نہیں ڈرا، بلکہ ڈٹا رہا۔ معافی یقیناً انہی کو مخاطب کر کے دی گئی تھی، لیکن انہیں منانے کے لیے ہرگز نہیں تھی۔ یہ معافی انہیں لبھا بھی نہ سکی۔ جلدی جلدی چند سرپرستوں کی جذباتی ویڈیوز بھی بنوا دی گئیں، جہاں وہ شکریہ ادا کر رہے ہیں کہ اس ویڈیو نے ان کے بگڑے ہوئے بچوں کو صحیح راستہ دکھا دیا۔


یہ بہت ممکن ہے کہ چند سرپرستوں نے واقعی شکریہ ادا کیا ہو۔ اس کی 2 وجوہات دکھائی دیتی ہیں۔ ہر نسل کو آنے والی نسل بگڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ ہم ایک ادارہ جاتی ذاتی اور طبقاتی سماجی ڈھانچے میں رہتے ہیں، اس لیے ہر نسل کو لگتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو آزادی دے رہی ہے، گویا وہ کوئی احسان ہو، جبکہ سب انسان آزاد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ سرپرستوں کا کردار معمولی نہیں ہے۔ صحیح اور غلط کے بارے میں حساس ماحول فراہم کرنا بے حد ضروری ہے، اسی کو ہم تہذیبی تربیت یا سنسکار کہہ سکتے ہیں۔ لیکن یہیں سے تضاد شروع ہوتا ہے۔ پورا تعلیمی نظام اس قدر تجارتی ہو چکا ہے کہ وہ محض پیسہ کمانے کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔ ایک بار مادی اہداف طے ہو جائیں تو حساسیت باقی نہیں رہتی۔ پھر یہ بات سرپرستوں کو اس وقت تک نہیں کھٹکتی جب تک سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق چلتا رہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی کھانے پینے، شریک حیات کے انتخاب یا روزمرہ زندگی گزارنے کے طریقے مختلف ہونے لگتے ہیں تو جھنجھلاہٹ اور کڑھن پیدا ہونے لگتی ہے۔ اوپر سے اگر اولاد سوال اٹھانے لگے، چیلنج کرنے لگے تو متوسط طبقے کی انا مجروح ہو جاتی ہے۔’اور دو آزادی‘ جیسے طنز کسے جاتے ہیں۔ یہ بھی سنایا جاتا ہے کہ ’’ہم تو اپنے ماں باپ کے سامنے بیٹھتے بھی نہیں تھے۔‘‘ یہ بھی درست ہے کہ اس ردعمل میں ممتا بھرا خوف اور اولاد کے لیے جائز فکر بھی شامل ہوتی ہے، کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے، کہیں اس کا کیریئر خراب نہ ہو جائے۔ کچھ اپنی محرومیاں بھی ہوتی ہیں، جو کئی بار باہر نہیں آ پاتیں۔

خاص طور پر پدر شاہی نظام میں باپ کبھی اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پاتا۔ وہ مکالمہ نہیں کرتا، حکم دیتا ہے، اس کی بات چلتی ہے یا پھر بڑبڑاتا ہوا خاموش ہو جاتا ہے۔ ماں کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ اسی نے بچے کو سر چڑھا رکھا ہے۔ پدر شاہی میں ماں کو پہلی بار اپنے نو عمر بچوں کا ساتھ ملتا ہے، تب وہ آواز اٹھاتی ہے، خاص طور پر اپنی بیٹیوں کے لیے۔ وہ سب کچھ جو وہ خود نہ کر سکی، اپنی بیٹی کو کرنے دیتی ہے۔ باپ دل ہی دل میں کُڑھتا ہے۔ اس کی یہ کیفیت بھی پدر شاہی ہی کی پیداوار ہے۔ یہی نظام اسے اپنے بچوں کا دوست بننے سے روکتا ہے، اپنے جذبات کے اظہار کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ اسے سکھایا گیا ہے کہ جذبات کا اظہار کمزوری ہے۔ بہت سی مائیں بھی ایسی ہوتی ہیں جو گھر میں اپنی بات نہیں رکھ پاتیں۔ اس لیے اس نسل کو معافی والی ویڈیو اچھی لگی۔ وہ اپنے بچوں سے خود تو یہ بات نہیں کہہ سکے، لیکن کسی نے تو انہیں ٹوکا۔ دل تو ہمارا بھی تھا کہ ہاتھ اٹھائیں، لیکن نہیں اٹھا سکے۔ یہی احساس پیدا ہوا۔ پدر شاہی غلبہ سکھاتی ہے۔ وہ تھپڑ تو مار سکتی ہے، مگر بیٹھ کر کھلی گفتگو اسے بدتمیزی لگتی ہے۔ کئی برسوں سے جمع بے شمار محرومیاں اس ویڈیو کے ذریعے ظاہر ہو گئیں۔


خاص طور پر اپنی بیٹیوں پر لگام نہ لگا سکنے کی کسک پوری ہوئی، یا پھر لگام لگایا جانا درست ثابت ہوا۔ ایسے میں سماج کی خاموشی بھی بہت کچھ کہتی ہے۔ کسی نے معزز وزیر اعظم سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ اور کن کن کو معاف کر رہے ہیں؟ کیا انہیں بھی معاف کیا جنہوں نے عصمت دری کی دھمکیاں دیں؟ اس پر کوئی ویڈیو کیوں نہیں؟ آخر وہ سب لاڈلی نہیں ہیں کیا؟ اسی ہفتے خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے شخص کو جرم سے آزاد کر دیا گیا، لیکن اسے تو اس سے بہت پہلے ہی بخشش مل چکی تھی۔ انٹرنیٹ پر یہ عصمت دری کی پہلی دھمکی نہیں تھی۔ بُلی سُلی ڈیل کے خلاف کسی کی کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ محبت کی شادی میں سرپرستوں کی لازمی رضامندی، لیو اِن کا اندراج اور مبینہ ’لو جہاد‘ کا الزام مذہبی مسئلہ نہیں، بلکہ عورت کی جنسیت پر قبضہ کرنے کی نیت ہے۔ اس تحریک میں طالبات نے قیادت سنبھالی تو بہت سے غلبے کو دھچکا لگا، پدر شاہی کی گرفت ڈھیلی پڑی، اس لیے اپنے مائی باپ ہونے کو برقرار رکھنے کے لیے ویڈیو بنائی گئی۔

لہٰذا زبان کی شائستگی ہر طرف برقرار رکھی جانی چاہیے تھی۔ لیکن جو خود شیشے کے گھر میں رہتے ہیں، وہ پتھر نہیں مار سکتے۔ گزشتہ ایک دہائی میں زبان کی شائستگی کب کب یاد رکھی گئی؟ سیاسی زبان کی پاکیزگی اس وقت کہاں چلی گئی تھی جب ملک کے پہلے وزیر اعظم اور انگریزوں کی جیل میں سب سے زیادہ 10 برس گزارنے والے تحریک آزادی کے صف اول کے لیڈر کی نہایت گھٹیا الفاظ میں مخالفت کی گئی؟ ان پر تنقید اس قدر نچلی سطح پر گر گئی جیسے کسی انتہائی عیاش شخص کا ذکر ہو رہا ہو۔ وہ شخص جو رات دن ہندوستان کے گاؤں اور شہروں میں گھوم گھوم کر سوراج کی شمع روشن کر رہا تھا، جس کے پاس اپنی ذاتی زندگی کے لیے بھی وقت نہیں تھا، جس کی پوری زندگی عوامی اور شفاف تھی، وہ وزیر اعظم بننے کے بعد بھی مشہور کارٹونسٹ شنکر سے کہہ گیا تھا ’’ڈونٹ اسپیئر می، شنکر۔‘‘ اس وزیر اعظم نے اختلاف کو بغاوت نہیں سمجھا، ذاتی مخالفت کو بھی موقع دیا تاکہ کہیں بلا مقابلہ رہ کر وہ خود آمر نہ بن جائے۔ اس پر چھچھورے الزامات لگانا معافی کے قابل نہیں، لیکن انہیں مزے لے لے کر فروغ دیا گیا تب شائستگی یاد نہیں آئی۔ تب یہ خیال نہیں آیا کہ آئندہ نسل کو ہم کس قسم کی لسانی تربیت دے رہے ہیں۔ جب بات خود پر آئی تو بہت برا لگا۔


پھر معافیوں کی ایک تاریخ بھی ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ خود ساختہ ’معافی ویر‘ نے انگریز حکمرانوں سے معافی مانگی تھی۔ اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ ایک فرمانبردار بیٹا ہے جو بھٹک گیا تھا، اس لیے حکومت اسے موقع دے تاکہ وہ اپنی غلطی سدھار سکے۔ مائی باپ حکومت نے اس فرمانبردار بیٹے کو مشروط معافی دے دی۔ اس کے بعد اس فرمانبردار نے کبھی ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا، بلکہ ان کی ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کو مزید مضبوط کیا۔ دو قومی نظریے کی وکالت کیا حکم کی تعمیل نہیں تھی؟ اس لیے جب معاف کیا جاتا ہے تو فرمانبردار بنانے کے لیے کیا جاتا ہے، ورنہ تو غدار وطن وغیرہ کہا جاتا ہے۔ شہری شعور کی تعمیر کا تقاضا ہے کہ اندھی اطاعت ٹوٹے، لیکن یہ حکمرانوں کو پسند نہیں، نہ ہی خاندان کی پدر شاہی کو پسند ہے۔ اسی لیے ان لیڈران پر غیر مہذب تبصروں کو بڑے شوق سے آگے بڑھایا گیا، جنہوں نے صرف انگریزوں ہی کو نہیں بلکہ ہر قسم کی غلامی کو للکارا تھا، جس میں پدر شاہی بھی شامل تھی۔ آج برا اس لیے لگا کہ بات ان تک پہنچ گئی۔

یہ زبان دراصل پدر شاہی کے سبب خاندانی ڈھانچے پر بھی ایک حملہ ہے، جو برسوں سے اندر ہی اندر کھوکھلا ہوتا جا رہا تھا۔ گھر اور خاندان اسی وقت خوبصورت ہوں گے جب وہ آزاد ہوں، اندھی اطاعت سے آزاد ہو کر محبت پر قائم ہوں۔ وہاں معافی کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔ پھر جو لوگ واقعی معاف کرتے ہیں، وہ اس کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔ چند سال پہلے 2 لیڈران نے اپنے والد کے قتل کے مقدمے میں شامل ایک خاتون ملزمہ کی سزا منسوخ کرنے کی خاموشی سے وکالت کی، تاکہ سزا کاٹتی ہوئی اس خاتون کے شیر خوار بچے کو یتیم نہ ہونا پڑے۔ لیکن جب جذباتی ہو کر ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے کیسے معاف کر دیا، تو انہوں نے صاف کہا کہ ’’ہم کون ہوتے ہیں معاف کرنے والے؟ ایک صورت حال تھی، جس کے کئی پہلو تھے۔ کون کس سے معافی مانگے؟‘‘ یہی جذبہ دراصل حقیقی انکساری کا ہے۔ کسی کو فرمانبردار بنانے کے لیے نہیں، بلکہ خود کو حقارت کی قید سے آزاد کرنے کے لیے۔ باقی سب محض ایک ’ایکٹ‘ (عمل) ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔