مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کی ’منطقی غلطیاں‘... یوگیندر یادو

بنگال کی سیاست سمجھنے والے مانتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے تعاون کے باوجود بی جے پی پیچھے چل رہی ہے۔ تو کیا ’اشومیدھ یگیہ‘ کی تکمیل کے لیے الیکشن والے دن ملک بھر سے جمع سیکورٹی فورسز کی مدد لی جائے گی؟

<div class="paragraphs"><p>مغربی بنگال حق رائے دہی کا استعمال کرتے ووٹرس کی فائل تصویر، ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/ECISVEEP">@ECISVEEP</a></p></div>
i
user

یوگیندر یادو

مغربی بنگال میں انتخابات نہیں ہو رہے بلکہ ’اشو میدھ یگیہ‘ ہو رہا ہے۔ ’وشوگرو‘ بننے کا خواب تو ٹرمپ نے چکناچور کر دیا، اب کم از کم اپنے ہی ملک میں ’چکرورتی‘ بننے کی تیاری جاری ہے۔ لیکن ایک رکاوٹ آ کھڑی ہوئی ہے۔ ’اشو‘ کیرالہ اور تمل ناڈو کے کنارے سے بچ کر نکل گیا، لیکن اسے بنگال میں پکڑ لیا گیا ہے۔ شہنشاہ کی عزت بچاتے ہوئے بنگال سے اس گھوڑے کو چھڑانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا، اس لیے اب بنگال پر چڑھائی کرنی پڑے گی۔ مقابلہ آسان نہیں ہے، اوپر سے بنگال کا تقریباً ایک تہائی ووٹر کسی بھی صورت میں بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتا۔ چانکیہ اسی سوچ میں ڈوبے تھے کہ ’اشو میدھ یگیہ‘ میں آنے والی اس رکاوٹ کو کیسے دور کیا جائے؟ پجاری گیانیش کمار نے یجمان کو ایک ترکیب بتائی: کیوں نہ ایک ’خصوصی انسداد رکاوٹ مہم‘ چلائی جائے، جسے انگریزی میں ’اسپیشل امپیڈیمنٹ ریموول‘ یعنی ’ایس آئی آر‘ کہا جائے۔

اس زاویے سے دیکھیں تو بنگال میں ایس آئی آر کے نام پر ہو رہا عجیب و غریب سلسلہ سمجھ میں آنے لگے گا اور کئی سوالوں کے جواب بھی ملنے لگیں گے۔ بنگال میں ایس آئی آر اتنا بڑا مسئلہ کیوں بن رہا ہے؟ الیکشن کمیشن غیر معمولی اقدامات کیوں اٹھا رہا ہے؟ یہ ’منطقی غلطیوں‘ کا کھیل کیا ہے؟ اور بنگال میں ہی اس طرح کی انوکھی چھنٹنی کیوں ہو رہی ہے؟


اب حقائق پر نظر ڈالیے۔ بنگال میں ایس آئی آر شروع ہونے کے وقت سے ہی الیکشن کمیشن کا اصرار تھا کہ وہاں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ ووٹر لسٹ میں بڑی تعداد میں ناجائز نام شامل ہیں، لیکن اس کا کبھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ درحقیقت دستیاب حقائق اس دعوے کی تردید کرتے تھے۔ ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے بنگال کی ووٹر لسٹ کا حجم تقریباً درست تھا۔ ریاست کی بالغ آبادی 7.67 کروڑ تھی جبکہ ووٹر لسٹ میں 7.66 کروڑ نام درج تھے۔ یعنی تقریباً اتنے ہی جتنے ہونے چاہیے تھے۔ ایس آئی آر سے پہلے نئے نام شامل کرنے کی درخواستیں بڑھی تھیں، لیکن 41 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر نام شامل کرنے کی کوئی سازش نہیں تھی۔ اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایس آئی آر کے بعد بنگال میں غیر معمولی طور پر کم نام کٹے ہوں۔ ’اَن میپڈ ووٹرز‘ یعنی وہ ووٹرز جو پچھلی فہرست میں کسی رشتہ دار سے منسلک نہ ہو سکے، بنگال میں 4.5 فیصد تھے، جو چھتیس گڑھ (3.5 فیصد) اور راجستھان و مدھیہ پردیش (1.6 فیصد) سے زیادہ تھے۔ پہلے مرحلہ میں بنگال میں 7.7 فیصد نام کٹے، جو راجستھان (7.6) اور مدھیہ پردیش (7.3) کے برابر تھے۔ اختصار یہ کہ ابتدائی مرحلے میں بنگال کی ووٹر لسٹ میں کچھ بھی غیر معمولی نہیں تھا۔

لیکن الیکشن کمیشن نے بنگال میں ’انسداد رکاوٹ‘ کا عزم کر رکھا تھا۔ اسی لیے پہلے مرحلے کے بعد اس نے سخت ناراضی ظاہر کی اور بنگال میں خصوصی مبصرین تعینات کیے۔ اتر پردیش میں صرف 4 مبصرین، جبکہ بنگال میں 30۔ اس کے علاوہ 8000 مائیکرو مبصرین بھی تعینات کیے گئے، جبکہ باقی ملک میں ایک بھی مائیکرو مبصر نہیں تھا۔ جب اس سے بھی بات نہ بنی تو ’منطقی غلطی‘ کا ہتھیار استعمال کیا گیا، یعنی کمپیوٹر سافٹ ویئر نے موجودہ درخواستوں کا 2002 کی فہرست سے موازنہ کر کے چھوٹی چھوٹی خامیوں کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے۔ نام کے ہجے میں فرق، والدین کی عمر میں تضاد، یا باپ بیٹے کی عمر میں کم فرق وغیرہ۔


ایسی غلطیاں دیگر ریاستوں میں بھی تھیں، لیکن وہاں انہیں نظرانداز کر دیا گیا، جبکہ بنگال میں 60 لاکھ متنازعہ معاملات سامنے لائے گئے۔ سپریم کورٹ نے ان کے حل کے لیے خصوصی جج مقرر کیے اور 35 دن میں فیصلے کا حکم دیا، جہاں ہر جج روزانہ کم از کم 250 کیس نمٹا رہا تھا۔ نتیجہ وہی نکلا جو متوقع تھا۔ پہلے مرحلے میں 58 لاکھ نام کٹ چکے تھے، شکایات کی بنیاد پر مزید 6 لاکھ شامل کر کے مجموعی طور پر 64 لاکھ۔ دیگر ریاستوں میں دوسرے مرحلے میں کچھ نام واپس شامل کیے گئے، لیکن بنگال میں اس کے برعکس مزید 27 لاکھ نام کٹ گئے۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 91 لاکھ نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو گئے۔ ’منطقی غلطی‘ کی بنیاد پر ان لوگوں کے نام بھی ہٹا دیے گئے جن کے پاس آدھار، پین کارڈ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ حتیٰ کہ پاسپورٹ تک موجود تھے۔ بتایا گیا کہ دوسرے مرحلے میں جن کے نام کٹے، ان میں تقریباً دو تہائی مسلمان تھے۔

سپریم کورٹ نے ان ووٹرز کو اپیل کا مشورہ دیا، لیکن ٹربیونل شروع ہونے سے پہلے ہی انتخاب کا دن آ پہنچا۔ عدالت نے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگلی بار ووٹ ڈال لینا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن نے بنگال میں اس ’رکاوٹ دوری‘ کے ذریعے بی جے پی کی جیت کا راستہ ہموار کر دیا ہے؟ بلاشبہ کوشش کی گئی ہے، لیکن نتیجہ اسی صورت بدل سکتا ہے جب بی جے پی خود جیت کے قریب ہو۔ موجودہ اشارے اس کی تصدیق نہیں کرتے اور سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی اب بھی پیچھے ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ’اشو میدھ یگیہ‘ مکمل کرنے کے لیے انتخاب کے دن ملک بھر سے لائی گئی سیکورٹی فورسز کا استعمال کیا جائے گا؟ اور کیا ایک فرد کے تکبر کو پورا کرنے کے لیے جمہوری اقدار کی قربانی دی جائے گی؟ اس کا جواب جلد سامنے آ جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔