شاہ جی! آپ ناکام ہوگئے... اعظم شہاب

جب صاحب کی حمایتی میڈیا سے نہیں بن پڑا تو تو اے بی وی پی کو میدان میں اتارا گیا اور اس کے ذریعے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ CAA ملک کی ضرورت ہے اور لوگ اس قانون کو پسند کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

ہزیمت اور ایسی ہزیمت کا اندازہ شاید امت شاہ جی کے وہم وگمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ شہریت والے اپنے قانون کی دفاع میں انہیں اپنے محفوظے تک کو میدان میں اتارنا پڑے گا اور ایک ایسے آدمی سے بھی انہیں مدد لینی پڑے گی جو پارٹی میں ان کے سب سے بڑے مخالف تصور کیے جاتے ہیں یعنی کہ نتن گڈکری سے۔ گزشتہ دس دنوں سے پورے ملک میں شہریت ترمیم قانون کے خلاف ہورہے احتجاج کا جواب جب صاحب کی حمایتی میڈیا سے نہیں بن پڑا تو تو اے بی وی پی کو میدان میں اتارا گیا ہے اور اس کے ذریعے جلسے جلوس کرواکر لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سی اے اے اور این آر سی ملک کی ضرورت ہے اور لوگ اس قانون کو پسند کررہے ہیں۔ خبر ہے کہ اس اے بی وی پی نے دہلی، ممبئی، پونے ،شولاپوروناگپور جیسے شہروں کے ساتھ ملک کے دیگر کچھ شہر وں میں جلوس نکال کر سی اے اے کی حمایت کی ہے اور ناگپور میں نکلنے والے اسی طر ح کے ایک جلوس میں نتن گڈکری بھی شریک ہوئے ہیں۔ ان جلوسوں میں سے ایک جلوس کو دیکھنے کا مجھے بھی اتفاق ہوا جس میںبی جے پی کا ایک سپاہی ایک اسٹول پر کھڑے ہوکر مودی وامت شاہ جی کے گن گان کرتا ہوا نظر آیا اور اسے گھیرے دو درجن تک لوگ اس کے ہر جملے پر بھارت مات کی جئے جئے کار لگارہے تھے۔

اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد یعنی کہ اے بی وی پی سنگھ اور بی جے پی کا ایسا ہراول دستہ ہے جس کا استعمال ہمیشہ محفوظے کے طور پر کیا جاتا ہے اور ایسے وقت میں کیا جاتا ہے جب اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ پہلے یہ حیثیت وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی تھی، لیکن پروین توگاڑیا کی بغاوت کے بعد اس کی دھار ذرا کم ہوگئی ہے۔ اس لئے جے این یو سے بی ایچ یو تک اور بنگال سے لے کر کیرالاتک ہرمشکل محاذ پر اسی اے بی وی پی کو میدا ن میں اتارا جاتا ہے جو خاص طور سے نوجوانوں کے درمیان بی جے پی کے موقف کی دفاع کرتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس دوران وہ خود اپنی دفاع کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔اے بی وی پی کے ان جلسوں کے دوران بھی کچھ مقامات سے خبر آئی ہے کہ کچھ لوگ عین پروگرام کے دوران اس کالے قانون کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔

کہاجاتا ہے کہ جب اہنکار یعنی کہ تکبر حد سے بڑھ جاتی ہے تو قدرت عقل پر مہرلگادیتی ہے۔ ایسی کیفیت کو ہمارے یہاں بدھی کا بھرشٹ ہونا کہتے ہیں۔ لیکن معلوم نہیں کیوں بی جے پی کا اب ہرلیڈر اسی کا مظاہرہ کرنے لگا ہے۔ یہاں مہاراشٹر میں 105سیٹیں لے کر حزبِ اختلاف میں بیٹھی ہوئی بی جے پی ابھی تک خودکو یہی نہیں سمجھاپارہی ہے کہ وہ حکومت میں نہیں ہے۔ گزشتہ روز ناگپور میں جاری اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی کی حرکتوں اور کرتوتوں کو سرِ عام اجاگر کیا تو گویا بی جے پی کے تمام لیڈروں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ کسی سے یہ بن نہ پڑرہا تھا کہ ان کی باتوں کا جواب دے۔ ریاست کے سب سے بڑے تیس مار خان دیوندر فڈنویس کی حالت تو یہ تھی جیسے کوئی بچہ چوری کرتے ہوئے پکڑ لیا جائے۔ لیکن شاید بی جے پی کی ہزیمتوں میں سے ایک ہزیمت کا قدرت نے ازخود یہ انتظام کردیا ہے کہ اس کو انہیں لوگوں سے جواب دلائے جو اس کی اندھیری رات کے ساتھی تھے۔

اے بی وی پی یا دیگر سنگھی تنظیمیں جو جلوس نکال رہی ہیں، اسے دیکھ کر بی جے پی اور خاص طور سے امت شاہ جی کی بیچارگی پر ترس آرہا ہے۔ اے بی وی پی کے لوگ سی اے اے اور این آر سی کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہیں اور اسے ملک کے لئے انتہائی ضروری قرار دے رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کا وہ مطالبہ کررہے ہیں، اسے حکومت نے کب لاگو کرنے سے انکار کیا؟ وہ تو انہیںنافذ کرنا ہی چاہتی ہے جس کے لئے اس نے تمام مخالفت کے باوجود منظور کرایا ہے۔ اے بی وی پی یہ جلوس سی اے اے کی حمایت میں نکال رہی ہے لیکن اس سے تو بی جے پی اور امت شاہ کی رہی سہی مٹی بھی پلید ہورہی ہے؟ یہ جلسے وجلوس بی جے پی کی مرکزی حکومت کی ارتھی کی طرح معلوم ہورہی ہیں؟ ایسا اس لئے ہورہا ہے کہ پورا ملک اس حقیقت سے واقف ہوچکا ہے کہ چانکیہ جی اپنی عزت بچانے کے لئے کوئی بھی ہتکھنڈہ استعمال کرسکتے ہیں اورسو وہ وہی کررہے ہیں۔

سی اے اے اوراین آر سی کی حمایت میں نکلنے والے یہ جلوس اس بات کا اعلان ہیں کہ بی جے پی اور خاص طور سے امت شاہ اپنی قوتِ ارادی بھی کھوچکے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جس طمطراق کے ساتھ انہوں نے پارلیمنٹ وراجیہ سبھا سے اس قانون کو پاس کرایا تھا، اسی طریقے سے اسے لاگو بھی کردیتے۔ لیکن اول تو52فیصد سے زائد آبادی والی ریاستوں نے اسے اپنے یہاں لاگو کرنے سے انکار کردیا ہے اور دوسرے یہ کہ وہ جن ریاستوں میں نافذ کرنا چاہتے ہیں، وہاں سے بھی اس کے خلاف آوازیں بلند ہونی شروع ہوگئی ہیں۔ اس لئے وہ اب یہ نہیںسمجھ پارہے ہیں کہ اسے لاگو کریں تو کہاں کریں۔

شہریت ترمیم قانون گوکہ این آر سی میں جگہ نہ پانے والے ہندووں ودیگر مذاہب کے لوگوں کو(مسلمانوں کو چھوڑ کر) شہریت دینے کے لئے لایا گیا ہے، لیکن اس کا ایک اور مقصد ملک کو مذہب کی بنیادپر تقسیم کرنا بھی تھا۔ معلوم نہیں اس قانون کے تحت دیگر مذاہب کے ہمارے کتنے بھائیوںکو شہریت ملے گی، لیکن اس قانون کوامت شاہ جی نے جس دوسرے مقصد کے لیے لایا تھا، اس کے بارے میں انہیں افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جانی چاہئے کہ مہاشے جی! آپ اپنے مقصد میں مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں۔ آپ کی کوشش یہ تھی کہ اس کے ذریعے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت بڑھا کر آپ اپنی پچاس سالہ راج کرنے کا خواب شرمندہ تعیبر کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس قانون نے ملک کے ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ملک کے ستر سے زائد شہروں میں ہونے والے سی اے اے مخالف احتجاجات میں مسلمانوں سے زیادہ ہندووبھائیوں نے شرکت کرکے امت شاہ جی کو یہ پیغام دیدیا ہے کہ تفریق کے جس مقصدکو وہ حاصل کرنا چاہتے تھے، اس میں وہ بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جب اہنکاریعنی کہ تکبر حد سے بڑھ جاتا ہے تو بدھی بھی بھرشٹ ہوجاتی ہے۔ یوں بھی جس پارٹی کا ہدف پچاس سال تک راج کرنے کا ہو، اس کا اس مقام تک پہونچنا فطری بھی ہوتا ہے۔ سو بی جے پی کے ساتھ ایسا ہی کچھ ہوا کہ اس اہنکار اسے ہزیمت درہزیمت سے دوچار کیے جارہا ہے اور اس کے لیڈران بیچارے اس ہزیمت کو بھی اپنی کامیابی قرار دیتے نہیںتھک رہے ہیں۔کوکا کولا یا کوئی اور سافٹ ڈرنک پی کر آنے والی ڈکار روکنے کی حالت سے تو آپ واقف ہی ہونگے۔ آج کل بالکل یہی کیفیت ہمارے وزیرداخلہ امت شاہ جی کا ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے ان کے شہریت ترمیم قانون کے خلاف احتجاج سے ان کا ڈکار بس آنا ہی چاہتا ہے کہ وہ زور لگاکر اس پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ چاہتے کہ لوگوں کو اندازہ تک نہ ہو کہ ان کا پیٹ پھول رہا ہے، آنکھیں سرخ ہورہی ہیں اور نتھنے پھڑک رہے ہیں، مگر جو لوگ اس کیفیت سے گزر چکے ہوتے ہیں وہ اس بات کواچھی طرح جانتے ہیں کہ اس کیفیت کو بہت زیادہ دیر تک دبایا نہیں جاسکتا۔

Published: 22 Dec 2019, 9:11 PM