اے آئی پکڑے گا مشتبہ خرچ، لیکن بدعنوانیوں پر کون کسے گا نکیل؟... کاشف کاکوی

سرکاری خریداری کو شفاف، مؤثر اور بدعنوانی سے پاک بنانے کے لیے مرکزی وزارت تجارت و صنعت نے 2016 میں جیم پورٹل شروع کیا تھا۔ لیکن مدھیہ پردیش میں اس کا اثر بالکل اس کے برعکس نظر آیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

ایک میونسپلٹی میں 5 روپے میں خریدی گئی فینائل کی بوتل کی قیمت دوسری جگہ 33,500 روپے درج کی گئی۔ ایک شہری بلدیاتی ادارے میں 2 لاکھ روپے کا کچرا اٹھانے والی ایک گاڑی دوسرے بلدیاتی ادارے میں محض 4 اضافی کوڑے دان جوڑ کر 6 لاکھ روپے میں خریدی گئی۔ ایک جگہ 306 روپے میں خریدی گئی 60 واٹ کی ایل ای ڈی لائٹ کے لیے بھوپال میں 11,800 روپے ادا کیے گئے۔

یہ اکاؤنٹس میں ہونے والی معمولی غلطیاں نہیں ہیں، بلکہ مدھیہ پردیش کے 374 شہری بلدیاتی اداروں کی جانب سے سرکاری ای مارکیٹ پلیس (جیم) کے ذریعے 3 سال کے دوران کی گئی 1,134 کروڑ روپے کی خریداری میں سامنے آنے والا قیمتوں کا بہت بڑا فرق ہے۔ سرکاری خریداری کو شفاف، مؤثر اور بدعنوانی سے پاک بنانے کے لیے مرکزی وزارت تجارت و صنعت نے 2016 میں جیم پورٹل شروع کیا تھا۔ لیکن مدھیہ پردیش میں اس کا اثر بالکل اس کے برعکس نظر آیا ہے۔


محکمہ شہری ترقی کے ایڈیشنل چیف سکریٹری سنجے دوبے کی 6 ماہ پہلے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو گزشتہ ہفتے وائرل ہو گئی۔ اس ویڈیو میں دوبے خریداری میں مشتبہ بے ضابطگیوں سے متعلق پریزنٹیشن دکھاتے ہوئے بلدیاتی افسران کو براہ راست گھیرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’آپ سب کو تھوڑا ڈرانا ضروری ہے تاکہ آپ سوتے نہ رہیں۔‘‘ بعد میں دوبے نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو ہر 6 ماہ بعد ہونے والے ایک معمول کے تربیتی اجلاس کا حصہ تھی، جس میں افسران کو نگرانی کے نظام، معیار کے پیمانوں اور نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات دی جاتی ہیں اور مالی بے ضابطگیوں اور غیر ضروری اخراجات کے خلاف خبردار کیا جاتا ہے۔ پیغام واضح تھا۔ حکومت کو معلوم تھا کہ میونسپلٹیاں کیا خرید رہی ہیں، کتنا ادائیگی کر رہی ہیں اور کہاں قیمتیں بڑھا چڑھا کر دکھائی گئی ہیں۔ دوبے کا الزام تھا کہ یہ فرق افسران کی جیبوں میں گیا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کچھ میونسپلٹیوں نے فی گاڑی 1.5 کروڑ روپے کی قیمت سے کچرا اٹھانے والی گاڑیاں خرید لیں، جبکہ ان کے پاس اتنی گاڑیوں کے لیے مناسب تعداد میں وارڈ بھی نہیں تھے۔ بھوپال میں بڑھی ہوئی قیمتوں پر اسٹریٹ لائٹس کا آرڈر 3.78 لاکھ روپے کا تھا۔

دوبے نے کہا کہ وہ سب سے کم قیمت پر خریداری کا مطالبہ نہیں کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اوسط بازاری قیمت پر بھی خریداری کی جاتی تو صرف جیم کے ذریعے ہونے والی خریداری میں ہی ریاست کے 250 کروڑ روپے سے زیادہ بچ سکتے تھے۔ بھوپال، گوالیار، اندور، رتلام، اجین، جبل پور، ساگر، ریوا، گنا اور چھندواڑہ میں مشتبہ بے ضابطگیاں درج کی گئیں۔ جن کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا، ان میں تقریباً 1,200 وینڈر شامل تھے۔ 66 کروڑ روپے کی خریداری کے ساتھ جبل پور سب سے بڑا خریدار شہری بلدیاتی ادارہ رہا۔ جبل پور ڈویژن میں مجموعی طور پر 202 کروڑ روپے کی خریداری ہوئی۔


بروڈیا کلاں میں مجموعی طور پر 29.29 کروڑ روپے کی خریداری میں 97 لاکھ روپے کے آکٹاگونل کھمبے خریدے گئے۔ دوبے نے کہا، ’’مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہاں اتنے کھمبے لگانے کی جگہ ہے یا نہیں، لیکن وہ خریدتے ہی چلے گئے۔‘‘ پریزنٹیشن میں خریداری کی تفصیلات بھی دی گئیں: کچرا اٹھانے والے ٹپر ڈمپرز کے لیے 65 کروڑ روپے، اسٹریٹ لائٹس کے لیے 49 کروڑ روپے، آکٹاگونل کھمبوں کے لیے 27 کروڑ روپے اور جراثیم کش ادویات کے لیے 18 کروڑ روپے۔ دوبے نے ’لیبر انڈسٹری‘ نامی سپلائر کی بھی نشاندہی کی، جو مبینہ طور پر دو تجارتی ناموں سے کام کر رہا تھا۔ ایک ادارے نے 38 کروڑ روپے اور دوسرے نے 12 کروڑ روپے کے سامان کی فراہمی کی۔ دونوں نے مل کر 21 میونسپلٹیوں میں 201 ٹھیکے مکمل کیے اور اکثر اپنا کاروبار ایک ہی مقام پر مرکوز رکھا۔ صرف بروڈیا کلاں میں ایک نے 11 کروڑ روپے اور دوسرے نے 8 سے 9 کروڑ روپے کے سامان کی فراہمی کی۔ ساگر ضلع کے کھرئی اور مندسور کا بھی حوالہ دیا گیا۔

افسران نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تجزیے کے ذریعے مختلف ناموں یا ہجوں کے ساتھ درج ایک جیسی مصنوعات کی شناخت کی گئی۔ مثال کے طور پر فینائل کو مختلف تفصیلات کے ساتھ درج کیا گیا تھا، لیکن نظام نے مصنوعات کی شناخت کرکے ان کی قیمتوں کا موازنہ کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی طریقہ ای ٹینڈر اور اخبارات میں شائع ہونے والے کوٹیشن پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ ویڈیو پر بڑے پیمانے پر بحث کے بعد لوک آیکت پولیس نے ان الزامات کے پیچھے موجود تجزیے کی جانچ شروع کر دی۔ اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل یوگیش دیشمکھ نے کہا کہ ’’ہم اس معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔ جلد ہی متعلقہ محکمے سے رپورٹ طلب کی جائے گی۔‘‘


25 اکتوبر کو دوبے نے بتایا کہ 80 سے زیادہ ٹھیکے داروں اور سپلائرز کے ساتھ 135 چیف میونسپل افسران سمیت 392 افسران کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔ 7 افسران کو برطرف کیا جا چکا ہے اور 3 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم وصول کی گئی ہے۔ مشتبہ خریداریوں کا پتہ لگانا صرف پہلا قدم ہے۔ فوری طور پر کئی سوالات برقرار ہیں۔ اس خرچ کی منظوری کس نے دی؟ کیا قصورواروں کو سزا ملے گی؟ کیا نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھایا جاتا رہے گا؟ فروری 2026 میں ریاستی حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیے گئے لوک آیکت کے اعداد و شمار ان خامیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔

2018 سے جنوری 2026 کے درمیان لوک آیکت پولیس کو 37,967 شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے صرف 3,716 (9.77 فیصد) شکایات قبول کی گئیں۔ مجموعی طور پر 2,041 مجرمانہ مقدمات درج کیے گئے، جبکہ باقی شکایات مسترد کر دی گئیں۔ حکومت نے بتایا کہ 979 مجرمانہ مقدمات میں تحقیقات جاری ہیں۔ دیگر 1,123 مقدمات، جن کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں، خصوصی عدالتوں میں فیصلے کے انتظار میں ہیں۔ 2024 میں لوک آیکت نے 176 چارج شیٹ داخل کیں، جن میں سے زیادہ تر 2012 سے 2017 کے درمیان درج کیے گئے مقدمات سے متعلق تھیں۔ مقدمہ درج ہونے اور چارج شیٹ داخل ہونے کے درمیان اوسط مدت چار سال رہی۔


اس طرح کی تاخیر جواب دہی کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہے۔ گواہوں کو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ریکارڈ دوبارہ جمع کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ سزا کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد بھی رکاوٹیں موجود ہیں۔ جہاں قانون کسی سرکاری ملازم کے خلاف مقدمہ چلانے سے پہلے سرکاری منظوری کو لازمی قرار دیتا ہے، وہاں مجاز اتھارٹی کو مزید کارروائی کی منظوری دینی ہوتی ہے۔ اگر ’مجاز اتھارٹی‘ ہی ملی ہوئی ہو تو کیا ’مزید کارروائی‘ کبھی ہو پائے گی؟ رپورٹ کیے گئے لوک آیکت کے 1,063 مجرمانہ مقدمات میں سے 393 کی تحقیقات مکمل ہو چکی تھیں۔ ان میں سے 134 مقدمات استغاثہ کی منظوری کے انتظار میں تھے۔ اعداد و شمار میں 208 چارج شیٹ اور سات مقدمات میں سزا سنائے جانے کا ذکر درج تھا۔

یہ اعداد و شمار لوک آیکت کے تمام مقدمات میں سزا کی حتمی شرح طے نہیں کرتے۔ مقدمات اپنی مدت اور عدالتی کارروائی کے مختلف مراحل کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کئی مقدمات میں فیصلے آنا باقی ہیں۔ اس کے باوجود، زیر التوا منظوریوں سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں: اس تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ جب منظوری دینے کا اختیار اسی حکومت کے افسر کے ہاتھ میں ہو، جس کے افسران تحقیقات کا سامنا کر رہے ہوں، تو انتظامی کنٹرول اور آزادانہ جواب دہی کے درمیان براہ راست ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔


دوسری نگرانی کرنے والی ایجنسی، اقتصادی جرائم شاخ (ای او ڈبلیو) کو بھی اسی طرح کے چیلنج کا سامنا ہے۔ 2020 سے جنوری 2026 کے درمیان اسے 19,775 شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں سے 2,624 کو متعلقہ زمرے میں باضابطہ طور پر درج کیا گیا، جبکہ 566 شکایات کے سلسلے میں مجرمانہ مقدمات درج ہوئے۔ 2020 سے 2025 کے درمیان جن 70 مجرمانہ مقدمات میں فیصلے آئے، ان میں سے 40 میں قصورواروں کو سزا سنائی گئی۔ باقی 30 مقدمات بریت کے ساتھ ختم ہوئے۔ کسی مقدمے میں فیصلے تک پہنچنے کی اوسط مدت 13 سال سات ماہ رہی۔ فیصلے تک پہنچنے والے مقدمات میں سزا کی 57 فیصد شرح بظاہر اچھی لگ سکتی ہے، لیکن یہ ان شکایت کنندگان کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی جن کے مقدمات ابھی تک غیر حل شدہ ہیں یا جن کی تحقیقات ابھی سماعت کے مرحلے تک نہیں پہنچی ہیں۔

13 سال بعد سزا سنایا جانا حقیقی جواب دہی کی عکاسی نہیں کرتا۔ ملزم کے لیے یہ طویل غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ عوام کے لیے اس کا مطلب ہے رقم کی وصولی میں تاخیر، سزا میں تاخیر اور ان خامیوں کو دور کرنے میں تاخیر جن کی وجہ سے بے ضابطگیاں ہوئیں۔ آر ٹی آئی کارکن اجے دوبے کا کہنا ہے کہ صرف بے ضابطگیوں کا پتہ لگا لینا انصاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق، ’’مدھیہ پردیش نے دکھایا ہے کہ خریداری کے اعداد و شمار اور اے آئی کے تجزیے سے مشتبہ اخراجات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ نگرانی کرنے والی ایجنسیاں بھی الزامات کی تحقیقات کرکے مقدمات عدالت تک پہنچا رہی ہیں۔ لیکن بڑھی ہوئی قیمتوں کا پتہ لگانا مجرمانہ بے ضابطگی ثابت کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ اسی طرح مقدمہ درج ہونا بھی وقت پر سزا ملنے کی ضمانت نہیں ہے۔‘‘