کتابوں سے خوفزدہ اقتدار اور اس کی سیاست... شیلندر چوہان

نالندہ کی راکھ سے لے کر نازی جرمنی کی کتابیں نذر آتش کرنے والی تقاریب اور آج کے بک اسٹالوں تک تاریخ بتاتی ہے کہ اقتدار کی آگ کاغذ کو جلا سکتی ہے، سوالات کو نہیں۔

علامتی تصویر سوشل میڈیا
i

کتابوں پر حملہ، آزادیٔ فکر پر حملہ ہے۔ مغربی بنگال میں دُرگا پوجا کے دوران مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) اور دیگر بائیں بازو کی تنظیموں کے کتابی اسٹالوں میں توڑ پھوڑ، آتش زنی اور انہیں ہٹانے کی کوششوں نے سیاست کی ایسی شکل کو بے نقاب کیا ہے، جس میں اختلاف رائے کے لیے عوامی زندگی میں جگہ مسلسل تنگ کی جا رہی ہے۔ باراسات میں کتابی اسٹالوں میں توڑ پھوڑ اور بجپور میں ایک اسٹال کو آگ لگائے جانے کی خبریں ہیں۔ کولکاتا کے جادوپور میں بھی اسٹال ہٹانے کو لے کر تنازعہ سامنے آیا ہے۔ بائیں بازو کی پارٹیوں نے ان حملوں کے لیے بی جے پی کے حامیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان الزامات کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی، لیکن ان واقعات کا وسیع تر سیاسی پس منظر غور طلب ہے۔

دُرگا پوجا بنگال کا محض مذہبی تہوار نہیں، بلکہ ایک وسیع سماجی و ثقافتی جشن بھی ہے۔ اس کے پنڈالوں کے آس پاس لگنے والے کتابی اسٹالوں کی روایت کئی دہائیوں پرانی ہے۔ کتابی اسٹال خیالات کی اشاعت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ ان کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ وہ قارئین کو اپنے عقائد سے باہر نکل کر دوسرے خیالات سے واقف ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔


جمہوریت میں کسی سیاسی پارٹی سے اپنے خیالات پیش کرنے کا حق صرف اس لیے نہیں چھینا جا سکتا کہ وہ منتظمین یا برسر اقتدار پارٹی کے نظریے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ خیالات کا مقابلہ خیالات سے ہونا چاہیے۔ مذہبی عقیدے، سیاسی وفاداری یا نظریاتی اختلاف کو عوامی مقامات پر داخلے کا معیار بنانا جمہوری شہریت کے تصور کے خلاف ہے۔ یہ انارکی ہے۔ اس تنازعہ کا ایک سنگین پہلو وہ سیاسی نقطۂ نظر ہے جو عوامی زندگی میں قبولیت کے لیے مذہبی شناخت کو شرط بنانا چاہتا ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ کسی مذہبی رسم میں حصہ نہیں لیتے، تلک نہیں لگاتے یا کسی مخصوص روایت کو قبول نہیں کرتے، انہیں دُرگا پوجا کے پنڈالوں کے قریب کتابی اسٹال لگانے کا حق کیوں ملنا چاہیے، تو معاملہ صرف بائیں بازو تک محدود نہیں رہتا۔

سوال یہ ہے کہ کیا عوامی ثقافت میں شرکت کے لیے مذہبی طرز عمل کا ثبوت دینا لازمی ہوگا؟ ہندوستان کا آئین شہری کو عقیدہ رکھنے، اس پر عمل کرنے، اس سے اختلاف کرنے اور کسی مذہب پر عمل نہ کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ مذہبی تہوار کسی ایک سیاسی نظریے کی ملکیت نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں شرکت کا حق نظریاتی سپردگی پر منحصر ہونا چاہیے۔ کتابوں سے بے چین ہونے والی سیاست کا مسئلہ اس سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ کتابیں کسی ایک نظریے کی نمائندہ نہیں ہوتیں۔ کتاب کی بنیادی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ ایک سے زیادہ نقطہ ہائے نظر کے لیے جگہ پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے آزادانہ فکر سے خوف زدہ سیاست کو ان کتابوں سے خاص پریشانی ہوتی ہے جو اس کے قائم کردہ بیانیے سے باہر کھڑے ہو کر سوال کرتی ہیں۔‘‘


کتابوں کے خلاف سیاست کی تاریخ کسی ایک ملک یا دور تک محدود نہیں ہے۔ قدیم چین میں تیسری صدی قبل مسیح میں شہنشاہ چن شی ہوانگ کے دور حکومت میں کتابیں جلانے اور اہل علم کو سزا دینے کے واقعات درج ہیں۔ چین کے اس واقعہ کو اکثر اس بات کی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے کہ جب حکمراں خیالات پر قابو پانا چاہتا ہے تو سب سے پہلے یادداشت اور علم پر حملہ کرتا ہے۔

قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں مذہبی اداروں نے ممنوعہ کتابوں کی فہرستیں تیار کیں۔ متعدد مصنفین اور سائنس دانوں کو اپنے خیالات کی وجہ سے مقدمات، پابندیوں اور سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ گلیلیو کو زمین کی حرکت سے متعلق سائنسی نتائج کے باعث مذہبی اقتدار کے سامنے جھکنا پڑا۔ یہ محض سائنس اور مذہب کے درمیان تنازع نہیں تھا، بلکہ اس ذہنیت کی مثال تھی جو قائم اقتدار کے خلاف اٹھنے والے سوالات کو جرم تصور کرتی ہے۔


1933 میں نازی جرمنی میں جامعات اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر کتابیں جلائی گئیں۔ یہودیوں، سوشلسٹوں، کمیونسٹوں، لبرل مفکرین اور ایسے مصنفین کی کتابیں تباہ کر دی گئیں جنہیں نازی نظریے کے لیے ناموافق سمجھا جاتا تھا۔ برلن سمیت متعدد شہروں میں چلائی گئی ان مہمات کے دوران کتابیں جلانا ایک علامتی سیاسی رسم بن گیا۔ نازی وزیرِ اطلاعات و پروپیگنڈا جوزف گوئبلز نے مبینہ طور پر اسے ’ناپاک‘ خیالات کے خلاف مہم قرار دیا۔ لیکن تاریخ نے دکھایا کہ کتابوں کے بعد انسانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ خیالات کو مٹانے کی کوشش بالآخر معاشرے کے ایک بڑے حصے کی تباہی میں تبدیل ہو گئی۔

1976 میں لبنان کی خانہ جنگی کے دوران بیروت کی لائبریریوں اور دستاویزات کے ذخیروں کو بھاری نقصان پہنچا۔ 2003 میں عراق جنگ کے دوران بغداد کے قومی عجائب گھر اور قومی کتب خانے میں لوٹ مار اور آتش زنی کے نتیجے میں ہزاروں سال پرانی تہذیب سے متعلق دستاویزات تباہ ہو گئیں۔ 2013 میں مالی کے ٹمبکٹو میں انتہا پسندوں نے تاریخی مخطوطات کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم مقامی لوگوں اور کتب خانے کے ملازمین نے بڑی تعداد میں مخطوطات کو بچا لیا۔


ان واقعات میں ایک مشترکہ پہلو نظر آتا ہے۔ کتابیں محض کاغذ پر چھپے ہوئے الفاظ نہیں ہوتیں۔ وہ معاشرے کی یادداشت، تجربات اور متبادل مستقبل کے تصور کو محفوظ رکھتی ہیں۔ اسی لیے جو اقتدار تاریخ کو اپنے موافق لکھنا چاہتا ہے، وہ کتب خانوں، دستاویزات کے ذخیروں اور آزاد مصنفین سے خوف زدہ رہتا ہے۔ کتابوں کو جلانا یا ان پر پابندی لگانا معاشرے کی اجتماعی یادداشت کو قابو میں رکھنے کی کوشش ہے۔

ہندوستان میں بھی علمی اداروں اور کتابوں پر حملوں کی تاریخ پرانی ہے۔ نالندہ یونیورسٹی کی تباہی اس سلسلے میں سب سے زیادہ یاد کی جانے والی مثال ہے۔ پانچویں صدی میں قائم ہونے والا نالندہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں تھا، بلکہ ایشیا کے مختلف حصوں سے آنے والے طلبہ اور علما کا ایک بین الاقوامی مرکز تھا۔ اس کے وسیع ذخیرۂ کتب اور علمی روایت نے اسے دنیا کی قدیم ترین رہائشی جامعات میں ایک ممتاز مقام عطا کیا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی کے آس پاس نالندہ پر ہونے والے حملوں، خصوصاً بختیار خلجی سے متعلق تاریخی روایات میں، کتب خانوں کو جلائے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ مؤرخین ان واقعات کی تفصیلات اور تاریخوں پر بحث کرتے رہے ہیں، لیکن یہ بات غیر متنازع ہے کہ نالندہ کا زوال محض کسی عمارت یا احاطے کی تباہی نہیں تھا۔ یہ علم کی ایک زندہ روایت پر حملہ تھا۔


نالندہ کی مثال یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی یونیورسٹی یا کتب خانے کی اہمیت اس کی عمارت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ وہاں جمع شدہ کتابوں کے ساتھ مکالمے کی روایت، سوال پوچھنے کی آزادی اور مختلف علاقوں سے آنے والے علما کا باہمی اشتراک بھی وابستہ ہوتا ہے۔ جب ایسا ادارہ تباہ ہوتا ہے تو صرف کتابیں نہیں جلتی، بلکہ علم کے درمیان قائم رشتے، تحقیق کا تسلسل اور آنے والی نسلوں کے امکانات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔

دہلی کے مرکزی سکریٹریٹ کتب خانے کا معاملہ بھی اہم ہے۔ تقریباً 135 سال پرانے اس ادارے میں ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ کتابیں اور دستاویزات موجود ہیں۔ سینٹرل وسٹا کی ازسرِنو ترقی کے دوران اس کے لیے مناسب اور مستقل جگہ کے انتظام کو لے کر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ بنگال کے کتابی اسٹالوں پر حملوں اور دہلی کے کتب خانے کی منتقلی کے مسئلے میں مستقبل کے لیے ایک اشارہ پوشیدہ ہے۔ ایک طرف مبینہ سیاسی تشدد اور نظریاتی عدم برداشت کا سوال ہے، تو دوسری طرف عوامی ادارے کے تحفظ اور حکومتی ترجیحات کا معاملہ ہے۔ نالندہ کی تباہی ایک تاریخی واقعہ ہے، جب کہ آج کتب خانوں اور کتابی اسٹالوں سے متعلق سوالات ہماری موجودہ جمہوریت کا امتحان ہیں۔ اس کے باوجود ان تمام واقعات میں ایک بنیادی سوال مشترک ہے ’ہماری عوامی زندگی میں کتابوں، تاریخ اور آزادانہ غور و فکر کی حقیقی جگہ کیا ہے؟‘


جمہوریت کا امتحان اس بات سے نہیں ہوتا کہ اقتدار اپنے حامیوں کے خیالات کو کتنی جگہ دیتا ہے۔ اس کا امتحان اس بات سے ہوتا ہے کہ مخالف خیالات کے لیے کتنی جگہ محفوظ رہتی ہے۔ کسی کتاب پر پابندی لگانا، کسی کتب خانے کو نظر انداز کرنا یا کسی نظریاتی گروہ کے کتابی اسٹال کو زبردستی ہٹانا الگ الگ اقدامات ہیں، لیکن جب ان کے پیچھے اختلافِ رائے کو محدود کرنے کا رجحان کارفرما ہو تو جمہوری معاشرے کو محتاط ہو جانا چاہیے۔ کسی خیال کا جواب کتاب جلا کر نہیں، بلکہ اس سے بہتر کتاب لکھ کر دیا جا سکتا ہے۔ کسی تاریخ کی تردید دستاویزات کو تباہ کرکے نہیں، بلکہ زیادہ شواہد اور سنجیدہ تحقیق کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ کسی سیاسی تنقید کا جواب تشدد نہیں، بلکہ عوامی مباحثہ ہے۔

وہ دنیا کی تمام کتابیں جلا دینے کا تصور کر سکتے ہیں اور اپنا جھوٹ بیچتے رہ سکتے ہیں۔ لیکن علم کی دنیا کسی ایک کتابی اسٹال، کتب خانے یا ادارے تک محدود نہیں ہے۔ خیالات کو دبانے کی کوشش اکثر ان کے پھیلاؤ کے لیے نئی زمین تیار کرتی ہے۔ نالندہ کی راکھ سے لے کر نازی جرمنی میں کتابیں جلانے کی تقریبات اور آج کے کتابی اسٹالوں تک، تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اقتدار کی آگ کاغذ کو جلا سکتی ہے، سوالات کو نہیں۔ جس سیاست کو اپنے سچ پر بھروسا ہوتا ہے، اسے کتابوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔