بے خوف، بے باک، خود مختار خواتین کا نیا دور… اے جے فلپ
پولیس کے پاس خاکی کی طاقت ہو سکتی ہے، حکومت کے پاس سرکاری نظام اور الیکشن کمیشن کے پاس آئینی حقوق، لیکن ان میں سے کوئی بھی اس ریپبلک کا مالک نہیں۔ یہ ملک یہاں کے شہریوں کا ہے۔

صحافی راجدیپ سردیسائی کی کتاب ’2024: دی الیکشن دیٹ سرپرائزڈ انڈیا‘ میں امت شاہ کی پہلی انتخابی جیت سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ درج ہے۔ شاہ اس وقت طالب علم تھے اور کالج کے ایک انتخاب میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے امیدوار تھے۔ ان کی اصل حریف ایک طالبہ تھی، جس کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اس کالج میں طالبات کی بڑی تعداد تھی۔ شاہ اور ان کے حامیوں کو اندیشہ تھا کہ اگر انتخاب میں براہ راست مقابلہ ہوا تو وہ ہار جائیں گے۔ مانا جاتا ہے کہ اسی وقت نوجوان شاہ نے ایک حکمت عملی تیار کی۔
ان کے ساتھیوں نے کچھ طالبات کے گھروں کے ٹیلی فون نمبر جمع کیے۔ وہ لینڈ لائن کا دور تھا! ان کے والدین کو فون کرکے خبردار کیا گیا کہ ووٹنگ کے دن کالج کے احاطے میں ہنگامہ ہو سکتا ہے۔ اس انتباہ کا مطلوبہ اثر ہوا۔ کچھ والدین نے اس دن اپنی بیٹیوں کو کالج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ نتیجتاً، خواتین ووٹروں کی تعداد گھٹ گئی اور سخت مقابلے میں شاہ انتخاب جیت گئے۔ سردیسائی اس واقعے کو کسی اخلاقی سبق کے طور پر نہیں، بلکہ اس شخص کی حکمت عملی پر مبنی سوچ کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو آگے چل کر ملک کے طاقتور ترین رہنماؤں میں شمار ہوا۔ یہاں مقصد اس انتخابی جیت کی اخلاقیات پر بحث کرنا نہیں، بلکہ یہ سوچنا ہے کہ اگر آج ایسی کوئی چال چلی جائے تو کیا ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ نتیجہ بالکل الٹ ہوگا۔ اگر آج کوئی کسی نوجوان خاتون کو ڈرانے کی کوشش کرے تو وہ پوچھے گی: مجھے کون ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے اور کیوں؟ اور اگر کوئی اسے دور رہنے کے لیے کہے تو ممکن ہے کہ وہ اس کے بالکل برعکس قدم اٹھائے۔
خاموشی سے ظلم سہنے، روتے ہوئے گھر لوٹنے اور رلانے والی بات کو بھولنے کی کوشش کرنے والی خواتین کا دور اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ آج کی ہندوستانی خاتون، خاص طور پر نوجوان نسل، کہیں زیادہ پراعتماد ہے، اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہے اور کسی بھی دھمکی کو اپنی تقدیر ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ہمارے پاس مردانہ اقتدار کو چیلنج کرنے والی خواتین کی کئی تاریخی مثالیں ہیں۔ جھانسی کی رانی لکشمی بائی نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لیے انگریزوں سے لوہا لیا۔ تمل ادبی روایت میں کنّگی نے اپنے بے قصور شوہر کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف بادشاہ کو للکارا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ وہ خواتین اس لیے غیر معمولی تھیں کیونکہ اس وقت معاشرہ پوری طرح پدرشاہی نظام کے زیر اثر تھا۔ آج وہی استثنا ایک عام اصول بنتا جا رہا ہے۔
یہ تبدیلی اب سڑکوں پر صاف نظر آ سکتی ہے۔ جب شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنا تو ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں خواتین پیش پیش تھیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں کی طالبات نے پولیس کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ اس کے بعد شاہین باغ کا دور آیا۔ خواتین، جن میں زیادہ تر بزرگ اور عام خاندانوں سے تعلق رکھنے والی تھیں، دہلی کی سڑک پر ہفتوں ڈٹی رہیں۔ تنقیدیں برداشت کیں، الزامات سہے اور دھمکیوں کا سامنا کیا، لیکن اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں۔ آخرکار کووڈ 19 کی وجہ سے ملک کی سرگرمیاں ٹھپ ہونے پر ہی اس دھرنے کو ملتوی کرنا پڑا۔ لیکن تب تک ایک بنیادی تبدیلی آ چکی تھی: ہندوستانی معاشرے نے خواتین کو ایک سیاسی تحریک کے مرکز میں کھڑے دیکھا تھا۔ اس کا سبق واضح تھا… خواتین صرف اس لیے پیچھے نہیں ہٹیں گی کہ حکومت میں بیٹھے مردوں نے انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔
کسان تحریک نے اسی حقیقت کو مزید پختہ کیا۔ جب تین زرعی قوانین کے خلاف تحریک کے دوران پنجاب اور دیگر ریاستوں کے کسانوں کو دہلی کی سرحدوں پر روکا گیا تو جھلسا دینے والی دھوپ، بارش اور ہڈیوں کو جما دینے والی سردی میں خواتین ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ڈٹی رہیں۔ وہ کسی مردوں کے غلبے والی تحریک میں محض نمائشی موجودگی نہیں تھیں، بلکہ اس کا اٹوٹ حصہ تھیں۔ اس کے بعد طلبہ کی باری آئی۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر ہونے والی تحریک نے نوجوان خواتین کی ایک نئی نسل کو سامنے لا کھڑا کیا، جو رکاوٹیں کھڑی کرنے والے بیریکیڈز سے ٹکرائیں اور پولیس کی سختی کے سامنے ڈٹی رہیں۔
شروع میں حکومت نے انہیں کم تر سمجھا۔ یہ ایک بڑی بھول ثابت ہوئی، بالکل اسی طرح جیسے پُرامن مظاہرین پر کیا گیا ظالمانہ جبر۔ طالبات پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ واپس آئیں۔ دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ فی الحال ہم نوجوانوں اور اقتدار کے نظام کے درمیان ایک اور بڑے تصادم کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس بار معاملہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا ہے۔
ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کا تنازع سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام ہٹا دیے گئے۔ چاروں طرف سے گھِرنے کے بعد کمیشن نے 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ان اہل ووٹروں کی شناخت کرکے انہیں فہرست میں شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی ہے، جو ’چھوٹ‘ گئے تھے۔ مظاہرین کے لیے یہ ووٹر لسٹ کی کوئی عام انتظامی کارروائی نہیں ہے۔ یہ ووٹ دینے کے بنیادی جمہوری حق کا سوال ہے۔ اور ایک بار پھر نوجوان خواتین اس لڑائی کی اگلی صف میں ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور ریلز میں جو بات سب سے زیادہ توجہ کھینچتی ہے، وہ صرف ان کا غصہ نہیں، بلکہ وردی کی دھونس کے آگے دبنے سے ان کا واضح انکار ہے۔ نوجوان خواتین پولیس اہلکاروں کو جواب دیتی، ہٹنے کا حکم ملنے پر اپنی جگہ ڈٹی رہتی اور یہ سوال پوچھتی نظر آتی ہیں کہ انہیں کس اختیار کے تحت پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ کچھ نوجوان خواتین گھیر لیے جانے کے باوجود اپنی جگہ پر جمی رہتی ہیں۔ کچھ اپنے فون سے پورا واقعہ ریکارڈ کرتی ہیں۔ نہ وہ اپنی آواز دھیمی کرتی ہیں اور نہ نظریں جھکاتی ہیں۔ پولیس کے پاس جسمانی طاقت ہو سکتی ہے، لیکن ان لڑکیوں کے پاس منظر عام پر آنے، متحد ہونے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی طاقت ہے۔
وہ ہندوستانی سنیما کے پرانے دور میں دکھائی جانے والی بے بسی اور قربانی کی گھسی پٹی مورتیاں نہیں ہیں۔ یہ خواتین جینز اور شارٹس پہنتی ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون ہیں۔ وہ آئینی حقوق کی زبان بولتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ کیمرا ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ پولیس کی جس زیادتی کو کبھی تھانے کی ڈائری میں دبا دیا جاتا تھا، وہ اب چند ہی منٹوں میں قومی مسئلہ بن سکتی ہے۔ موجودہ تحریک کا ایک واقعہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ روزی نامی آزاد صحافی نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران ایک آئی پی ایس افسر نے ان کا جنسی استحصال کیا۔ انہوں نے عوامی طور پر اپنی آپ بیتی بیان کی اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد دیگر صحافی ان کے ساتھ تھانے گئے اور ایف آئی آر درج کرانے کے لیے دباؤ ڈالا۔ پولیس نے ان کے بعض الزامات کی تردید کی ہے، لیکن شکایات کو تحقیقات کے لیے آگے بھیج دیا گیا ہے۔
ایک دور تھا جب اس طرح کی بے حرمتی کا شکار ہونے والی خاتون کو مشورہ دیا جاتا تھا کہ وہ معاملے کو مزید نہ بڑھائے۔ اس کے اہل خانہ کو اس مرد کے طرز عمل سے زیادہ، جس نے ان کی عزت کو ٹھیس پہنچائی تھی، خاندان کی مبینہ عزت و وقار کی فکر ہوتی تھی۔ خود وہ خاتون بھی سوچتی تھی کہ آواز اٹھانے سے کہیں اس کے ’کردار‘ پر سوال نہ کھڑے ہو جائیں۔ وہ دن اب گزر چکے ہیں۔ آج کی بے باک خاتون صرف اپنا دفاع نہیں کر رہی، بلکہ وہ اس پرانے سماجی سمجھوتے کو ماننے سے انکار کر رہی ہے، جس کے تحت خواتین سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ مردوں کے غلط طرز عمل کا بوجھ خاموشی سے اٹھاتی رہیں گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دہلی کے مظاہروں میں شامل کئی نوجوان خواتین اتر پردیش، ہریانہ اور راجستھان جیسی پڑوسی ریاستوں سے آئی ہیں۔ ان میں سے کئی کے ساتھ ان کے والدین بھی ہیں۔ یہ ایک انتہائی اہم پہلو ہے۔ وہ اپنے گھر سے بغاوت کرکے بھاگی ہوئی بیٹیاں نہیں ہیں، بلکہ انہیں اپنے والدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ تبدیلی صرف کسی طلبہ تحریک تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایک گہری سماجی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
دہلی کے مظاہروں کی ایک ویڈیو میں کہی گئی بات بھلائے نہیں بھولتی۔ ایک نوجوان خاتون اپنے سامنے کھڑی ان خاتون پولیس اہلکاروں سے پوچھتی ہے، جنہوں نے اسے دھرنے کی جگہ خالی کرنے کے لیے کہا تھا: ’مجھے ہٹانے والی آپ ہوتی کون ہیں؟‘ آخر، جس زمین پر وہ کھڑی ہے اور جس ہوا میں سانس لے رہی ہے، وہ پولیس کی ملکیت نہیں ہے۔ وہ ہم سب کی مشترکہ ملکیت ہے۔ پولیس کے پاس خاکی وردی کی طاقت ہو سکتی ہے۔ حکومت کے پاس سرکاری نظام ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس آئینی اختیار ہو سکتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اس جمہوریہ کا مالک نہیں ہے۔ یہ ملک یہاں کے شہریوں کا ہے—آج کی نوجوان خواتین ہمیں یہی سمجھا رہی ہیں۔ اور اسی لیے امت شاہ کے انتخابی مقابلے کے اس پہلے قصے کو آج یاد رکھنا ضروری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
