ایک موت، ایک پرانا معاملہ اور آدتیہ ناتھ کی مشکل... رشمی سہگل

تنازعات، خراب انتظامیہ، بگڑتا نظامِ قانون اور سست معاشی ترقی کا ملا جلا اثر یوگی آدتیہ ناتھ کو مشکل میں ڈالنے والا ہے۔ اشتہارات پر حکومت کا وافر خرچ زمینی حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے شاید ناکافی ہوگا۔

یوگی آدتیہ ناتھ، یو این آئی 
i

گورکھپور کے صحافی اور سماجی کارکن 72 سالہ پرویز پرواز کی گزشتہ 11 اکتوبر کو جیل میں ہوئی موت آئندہ انتخابی موسم میں یوگی آدتیہ ناتھ کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔ پرویز پرواز نے 2007 میں یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا فوجداری مقدمہ درج کرایا تھا، جب وہ رکن پارلیمنٹ تھے۔ اس معاملے میں آدتیہ ناتھ گرفتار ہوئے اور 11 دن جیل میں رہے۔ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد پارلیمنٹ میں اپنی ’بدحالی‘ کا بیان کرتے ہوئے وہ رو پڑے تھے۔

یہ معاملہ غیر حل شدہ ہی رہا اور 2017 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد آدتیہ ناتھ نے سب سے پہلے جو کچھ کام کیے، ان میں اپنے خلاف چل رہے تمام مقدمات واپس لینا بھی شامل تھا، اور یہ مقدمہ بھی ان میں شامل تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پرویز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا، لیکن الٰہ آباد ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے بھی ان کی عرضی خارج کر دی۔ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایک الگ معاملے میں، 2020 میں گورکھپور کی ایک عدالت نے پرویز اور ایک دوسرے شخص کو اجتماعی عصمت دری کا قصوروار ٹھہرایا اور عمر قید کی سزا سنائی۔ انہوں نے آدتیہ ناتھ کے خلاف مقدمہ واپس لینے کے لیے 10 سال تک دباؤ برداشت کیا اور آخرکار اپنی ضد کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ اب پرویز کی موت کا آئندہ سال کے آغاز میں ہونے والی انتخابی مہم کے پر اثر پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔


اس معاملہ میں یوگی آدتیہ ناتھ کی مشکلات بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پہلے ہی ایودھیا کے رام مندر میں چندہ کی چوری کا تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ چند ہفتہ قبل ایک مقبول خاتون آئی اے ایس افسر دِویا متل نے بدانتظامی کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا اور ایک وائرل ویڈیو میں عوامی زندگی میں آنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ اگرچہ ملازمت کے دوران پیش آنے والی پریشانیوں کے بارے میں انہوں نے خاص کچھ نہیں کہا، لیکن اگر وہ انتخاب لڑتی ہیں تو کسی نئے انکشاف کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اتر پردیش کو جرائم سے پاک کرنے کے وزیر اعلیٰ کے دعووں پر بھی اب سوال اٹھ رہے ہیں۔ حکومت کے ایک اہم اتحادی سنجے نشاد نے عوامی طور پر پوچھ لیا کہ سماجوادی پارٹی سے وابستہ رمیش بند کو اس سال کے آغاز میں گولی مار کر قتل کیسے کیا گیا؟ بند خاندان نے اسے فرضی پولیس انکاؤنٹر قرار دیا، جبکہ پولیس اسے اپنی دفاع میں کیا گیا عمل بتاتی رہی۔ اتر پردیش پولیس کے سرکاری اعداد و شمار ہی 2017 سے اب تک 15,000 انکاؤنٹرز کی تصدیق کرتے ہیں، جن میں 238 ’مجرم‘ مارے گئے اور 9,467 کے پیروں میں گولیاں لگیں۔ ایک غیر معمولی قدم اس وقت بھی دیکھنے میں آیا جب ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ پرویندر سنگھ دیوبند جیل گئے اور ان قیدیوں سے ملاقات کی، جن کے پیروں میں گولیاں لگی تھیں۔ سنگھ کی بالمشافہ ویڈیو ریکارڈ شدہ گفتگو سے معلوم ہوا کہ پولیس انکاؤنٹر کے بارے میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی کس طرح خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔


ماورائے عدالت قتل کے واقعات کو دستاویزی شکل دینے والے ریٹائرڈ انسپکٹر جنرل پولیس ایس آر داراپوری ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ جرائم کی شرح کے اعداد و شمار کو جھوٹ کا پلندہ مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دلتوں پر مظالم، عصمت دری، قتل اور خواتین کے اغوا کے معاملات تیزی سے بڑھے ہیں۔ خواتین کے تحفظ سے متعلق ریاست کا دعویٰ بھی عوامی ٹرانسپورٹ کی ایک بس میں نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعے سے غلط ثابت ہو گیا۔ لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر پروفیسر روپ ریکھا ورما کہتی ہیں کہ ’’اپنی تنظیم ’سانجھی دنیا‘ کے ذریعہ ہم نے عصمت دری کی متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے کے لیے کام کیا ہے، ساتھ ہی ہم ان کے خلاف درج جھوٹے مقدمات کے خلاف بھی لڑتے ہیں۔ ہماری آواز دبانے کے لیے میرے این جی او سمیت کئی تنظیموں کی اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ (اے ٹی ایس) تحقیقات کر رہی ہے۔‘‘

ریاست کی معیشت مضبوط ہونے سے متعلق آدتیہ ناتھ کا دعویٰ بھی حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ اگرچہ ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار 17-2016 میں 12.75 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026 میں اندازاً 24.99 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی، لیکن فی کس آمدنی صرف 94,000 روپے ہے، جو قومی اوسط 1,84,205 روپے سے بہت کم ہے۔ ترقی کی شرح میں بھی خاصا عدم توازن ہے۔ صرف نوئیڈا کا ریاست کی معیشت میں 10 فیصد حصہ ہے، جب کہ مشرقی اتر پردیش اور بندیل کھنڈ کے کئی اضلاع کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔


ترقیاتی امور کے ماہر معاشیات پروفیسر سنتوش مہروترا ریاست کے ترقیاتی ماڈل پر تنقید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’دوسری سرمایہ کاری سربراہ کانفرنس کے دوران ریاستی حکومت نے 34 لاکھ کروڑ روپے کے مفاہمت ناموں پر دستخط کیے۔ لیکن مفاہمت ناموں پر دستخط کرنا اور انہیں حقیقت میں نافذ کرنا 2 الگ الگ باتیں ہیں۔‘‘ بڑے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری تو ہوئی، لیکن ان سے وسیع اور پائیدار ترقی کا آغاز نہیں ہو سکا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’اس خرچ کا زیادہ تر حصہ ایسے ایکسپریس وے بنانے میں صرف ہوا جن کا استعمال بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ گزشتہ 5 برسوں میں بنائے گئے 12 ہوائی اڈوں میں سے 6،طلب نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گئے۔‘‘

وزیر اعلیٰ چاہے روزگار پیدا کرنے کی بات کریں، لیکن 90 فیصد افرادی قوت یا تو اپنا کام کر رہی ہے، زراعت سے وابستہ غیر رسمی کاموں میں لگی ہوئی ہے یا پھر کم معیار کی ملازمتوں میں ہے۔ تقریباً ایک تہائی نوجوان معاشی و تعلیمی طور پر غیر فعال ہیں۔ نیشنل سیمپل سروے بتاتا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے 33.5 فیصد نوجوان ’تعلیم، روزگار یا تربیت‘ میں شامل نہیں تھے، جبکہ قومی اوسط 29.3 فیصد ہے۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے گروپ میں یہ تعداد 36.7 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ قومی اوسط 32.9 فیصد ہے۔ نوجوان خواتین میں یہ تعداد 59.5 فیصد تک ہے۔


تنازعات، خراب انتظامیہ، بگڑتی ہوئی قانون و انتظام کی صورت حال اور سست معاشی ترقی کے ان تمام اثرات کا مجموعی نتیجہ یوگی آدتیہ ناتھ کو مشکل صورت حال میں ڈالنے والا ہے۔ اشتہارات پر حکومت کا وافر خرچ شاید زمینی حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔