’پاکستان کے 45 فوجیوں کو ہم نے ہلاک کر دیا‘، بلوچستان کی آزادی کا اعلان کرنے کے بعد بی ایل اے کا دعویٰ
حال ہی میں ’بلوچستان لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے بلوچستان کو ایک آزاد ملک قرار دیا تھا۔ سامنے آنے والے خط میں اسے ’ریپبلک آف بلوچستان‘ کے نام سے ایک نیا ملک بتایا گیا تھا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ایک طرف پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین نے پاکستان کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے، دوسری جانب ’بلوچستان لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے بلوچستان کو آزاد ملک قرار دے دیا ہے۔ اب بی ایل اے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مستونگ میں پاکستانی فوج کے قافلے پر حملہ کیا ہے، جس میں 45 فوجی مارے گئے ہیں۔
بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے مستونگ ضلع میں پاکستانی فوج کے جوانوں کو لے جانے والے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملہ میں 45 سے زیادہ پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔ پاکستانی فوج کی جانب سے قافلے پر حملہ کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔ حالانکہ اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے کہ کتنے جوانوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ یہ حملہ جمعرات کو کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر کھڈکوچہ کے قریب ہوا ہے۔
بی ایل اے ترجمان جیاند بلوچ نے میڈیا میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حملہ میں قافلے، اس کی حفاظتی ٹیم اور بعد میں جائے وقوع پر پہنچنے والی فوج کی دوسری ٹکڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کو ’فتح اسکواڈ‘ نے انجام دیا ہے۔ بی ایل اے نے اسے منصوبہ بند اور زبردست حملہ قرار دیا ہے۔ پاکستان کی باغی تنظیم نے کہا کہ بیان جاری کیے جانے کے وقت بھی پاکستانی فوج کے ساتھ زبردست تصادم جاری ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ بی ایل اے کا کہنا ہے کہ جلد ہی میڈیا کو تفصیلی بیان جاری کیا جائے گا۔ اس بیان میں، جسے وہ ایک بڑی لڑائی قرار دے رہے ہیں، حتمی آپریشنل معلومات اور پاکستانی فوج کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کا ان کا اندازہ شامل ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں بی ایل اے نے بلوچستان کو ایک آزاد ملک قرار دیا تھا۔ سامنے آنے والے خط میں اسے ’ریپبلک آف بلوچستان‘ کے نام سے ایک نیا ملک بتایا گیا تھا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان کی فوج نے خطے کے 85 فیصد حصہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہی نہیں، ملک کا پرچم، قومی ترانہ، نئی کرنسی اور انتظامی نظام نافذ کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔
