عمران خان کے ’نئے پاکستان‘ کی کھلی قلعی، سابق رکن اسمبلی نے ہندوستان میں مانگی پناہ

پاکستان میں برسراقتدار پارٹی سے جڑے اقلیتی طبقہ کے لیڈران مظالم کے شکار ہو رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال سابق رکن اسمبلی بلدیو کمار ہیں جنھوں نے ہندوستان سے سیاسی پناہ دینے کی گزارش کی ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان
پاکستانی وزیراعظم عمران خان

قومی آوازبیورو

پاکستان میں اقلیتی طبقات پر مظالم کی خبریں عام بات ہیں۔ لیکن وہاں رہنے والے اقلیتی طبقہ سے متعلق خاص شخصیتیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ برسراقتدار طبقہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے اقلیتی لیڈران تک مظالم کے شکار ہو رہے ہیں۔ سابق رکن اسمبلی بلدیو کمار نے ہندوستان سے سیاسی پناہ دینے کی گزارش کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلدیو سنگھ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈر ہیں اور پاکستان کے خیبر پختونخواں علاقہ کے باریکوٹ ریزرو سیٹ سے رکن اسمبلی رہے ہیں۔

بلدیو کمار اس وقت ہندوستانی ریاست پنجاب کے کھنہ میں مقیم ہیں۔ ایک ہندی نیوز چینل کے مطابق بلدیو کمار اپنی فیملی سمیت پاکستان سے جان بچا کر ہندوستان آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی طبقہ دہشت کے ماحول میں رہنے کو مجبور ہے۔ خیبر پختونخواں سے رکن اسمبلی رہے بلدیو کمار کو عمران خان سے بہت امیدیں وابستہ تھیں، لیکن عمران حکومت نے بلدیو کمار کی امیدوں پر پوری طرح سے پانی پھیر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات مزید بگڑے ہیں اور ہندوؤں، سکھوں پر ظلم بڑھا ہے۔

بلدیو کمار کی فیملی تین مہینے سے پنجاب کے لدھیانہ میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر میں رہ رہی ہے۔ 12 اگست سے بلدیو بھی ہندوستان میں ہی مقیم ہیں۔ بلدیو تین مہینے کے ویزا پر ہندوستان آئے ہیں۔ لیکن اب وہ پاکستان نہیں جانا چاہتے۔ بلدیو کا کہنا ہے کہ اقلیتوں پر پاکستان میں مظالم ہو رہے ہیں۔ ہندو اور سکھ لیڈروں کا قتل کیا جا رہا ہے، اس لیے وہ جلد ہی ہندوستان میں پناہ کے لیے درخواست دیں گے۔ بلدیو کو عمران خان سے امید تھی کہ وہ ایک نیا پاکستان بنائیں گے، لیکن وہ اپنی عوام، خاص طور پر اقلیتی طبقہ کی سیکورٹی کے لیے کچھ بھی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

Published: 10 Sep 2019, 11:10 AM