’شہباز حکومت عمران خان کو جان سے مارنے کی کوشش کر رہی‘، عمران کے بیٹوں کا سنگین الزام

عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان نے اپنے والد کی سلامتی اور جیل میں ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>عمران خان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سابق کرکٹ کپتان عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان نے پاکستان حکومت پر ایک انتہائی سنگین الزام عائد کیا ہے۔ دونوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت جیل میں بند ان کے والد کو مارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’دی ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کی سلامتی اور جیل میں ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پاکستان کی شہباز حکومت ان کے والد کے ساتھ مسلسل ایسا رویہ اختیار کر رہی ہے، جس سے ان کی جان کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

دراصل 73 سالہ عمران خان 3 سال سے جیل میں ہیں۔ اگست 2022 میں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف کئی قانونی مقدمات سامنے آئے۔ اس کے بعد سے وہ مختلف مقدمات میں جیل میں رہے ہیں۔ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان، ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کے بیٹے ہیں۔ دونوں طویل عرصہ سے پاکستان میں اپنے والد کی صورتحال اور ان کی سلامتی کو لے کر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔


تازہ الزامات نے ایک بار پھر عمران خان کی جیل میں صورتحال کو لے کر بین الاقوامی سطح پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عمران خان پاکستان کرکٹ کے سب سے معروف چہروں میں سے ایک رہے ہیں۔ ان کی کپتانی میں پاکستان نے 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔ بعد میں انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان معاملہ میں پاکستانی سیاست کے ساتھ ساتھ کرکٹ نظام بھی سرخیوں میں ہے۔

وزیر اعظم کے عہدہ سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان کے خلاف کئی مقدمات درج ہوئے۔ ان کے حامیوں اور پارٹی ’پاکستان تحریک انصاف‘ (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائی سیاسی طور پر محرک ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکومت ان مقدمات کو قانونی کارروائی کا حصہ قرار دیتی رہی ہے۔ بہرحال، عمران خان کے بیٹوں کے تازہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب ان کے والد کی طویل عرصے سے جاری قید اور ان کی صحت و سلامتی کو لے کر تشویش برقرار ہے۔ ان کے الزامات نے پاکستان حکومت پر ایک بار پھر بین الاقوامی دباؤ بڑھا دیا ہے۔