پاکستان: کراچی میں پانی کا شدید بحران دوسرے ہفتے میں داخل، لاکھوں شہری بدحال

کراچی میں پانی کی شدید قلت دوسرے ہفتے بھی برقرار ہے۔ پائپ لائن کی مرمت اور بجلی بحران کے باعث سپلائی متاثر، کئی علاقوں میں پانی نایاب، شہری ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اسلام آباد: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی کی شدید قلت کا بحران مسلسل دوسرے ہفتے بھی جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہر میں پانی کی فراہمی میں مسلسل کمی نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور کئی علاقوں میں صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔

یہ بحران 21 اپریل کو اس وقت شروع ہوا جب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے قریب لائن نمبر پانچ کی تبدیلی کے لیے 72 انچ قطر کی نئی پائپ لائن کو جوڑنے کے مقصد سے مرکزی پانی کی لائن بند کر دی تھی۔ اس منصوبہ بند کام کے نتیجے میں شہر کو یومیہ 250 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جو کراچی کی مجموعی یومیہ فراہمی 650 ملین گیلن کا تقریباً چالیس فیصد بنتا ہے، جبکہ شہر کی طلب بارہ سو ملین گیلن سے بھی زیادہ ہے۔


محکمہ آب نے اگلے ہی دن شام تک تقریباً 100 ملین گیلن پانی کی فراہمی بحال کر دی تھی، تاہم دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر پیدا ہونے والے بجلی کے بڑے بحران کے باعث متعدد پمپ بند ہو گئے، جس سے یہ جزوی بحالی بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب پیر کے روز بجلی کی بندش کے دوران دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر 72 انچ قطر کی تین بڑی پائپ لائنیں پھٹ گئیں، جس کے نتیجے میں مزید 140 ملین گیلن پانی کی کمی واقع ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد کورنگی، ملیر، چنیسر، جناح ٹاؤن، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، صدر ٹاؤن اور کلفٹن سمیت کئی اہم علاقوں میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے مطابق ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام شروع کیا گیا اور جمعہ تک تینوں متاثرہ لائنوں کو درست کر لیا گیا۔ تاہم پاور ٹیسٹنگ کے دوران گلشن حدید کے علاقے میں لائن نمبر پانچ میں دو نئی لیکیج سامنے آئیں، جن کی مرمت کا عمل اب بھی جاری ہے۔

محکمہ کے ترجمان کے مطابق جمعرات کے روز شہر میں پانی کی مجموعی کمی تقریباً 80 ملین گیلن رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ لائن نمبر پانچ کے تاحال بند ہونے کے باعث کورنگی، ملیر، جناح ٹاؤن، صدر، ڈی ایچ اے اور کلفٹن جیسے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔


دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ ایک مقامی رہائشی عبدالغفور نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ان کے گھر میں نل سے پانی نہیں آیا، جس کے باعث انہیں مہنگے داموں پانی کے ٹینکر خریدنے پڑ رہے ہیں۔ ایک خاتون نے شکایت کی کہ ان کے علاقے میں پانچ دن سے پانی مکمل طور پر غائب ہے۔

ایک اور شہری نے بتایا کہ لوگ ہر صبح امید کے ساتھ نل کھولتے ہیں، مگر پانی نہ آنے پر ایک اور خشک دن گزارنے کے لیے خود کو تیار کر لیتے ہیں۔ شہریوں نے حکام سے فوری اور مستقل حل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس سنگین بحران سے نجات مل سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔