عمران خان کی حمایت میں آئے 7 سابق آسٹریلیائی کپتان، وزیر خارجہ پینی وونگ کو لکھا خط
آسٹریلیا کے 7 سابق کپتانوں نے اپنے ملک کی وزیر خارجہ پینی وونگ کو ایک خط لکھا ہے، جس پر ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کِم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا کے دستخط ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں اب آسٹریلیا کے سابق کرکٹرز بھی آ گئے ہیں۔ آسٹریلیا کے 7 سابق کپتانوں نے پاکستان میں قید عمران خان کے علاج، اہل خانہ سے ملاقات اور قانونی مشیروں تک رسائی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان سابق کپتانوں نے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ کو خط لکھ کر انسانی بنیادوں پر اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اس خط پر آسٹریلیا کے سابق کپتان ایلن بارڈر، گریگ چیپل، ایان چیپل، بیلنڈا کلارک، کِم ہیوز، مارک ٹیلر اور اسٹیو وا کے دستخط ہیں۔
سابق آسٹریلوی کپتانوں نے اپنی اپیل میں واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد عمران خان کے خلاف جاری قانونی یا سیاسی معاملات پر کوئی رائے دینا نہیں ہے۔ ان کی توجہ صرف ایک قیدی کے طور پر عمران خان کے ساتھ ہونے والے سلوک اور ان کی بنیادی انسانی ضروریات پر ہے۔ ان تجربہ کار کرکٹرز نے عمران خان کی صحت، انہیں ملنے والی طبی سہولیات، اہل خانہ سے رابطے اور قانونی مشورہ حاصل کرنے تک رسائی کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی شخص کے سیاسی نظریے یا عہدے سے بڑھ کر انسانی وقار سے جڑا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ 73 سالہ عمران خان 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔ بدعنوانی کے معاملات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد ان کی طویل قید اور صحت کے حوالے سے مسلسل سوال اٹھتے رہے ہیں۔ عمران خان کے اہل خانہ کی جانب سے بھی کئی بار ان کی صحت اور طبی سہولیات کے حوالے سے تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ان کے بیٹے اور بہنیں مسلسل یہ معاملہ اٹھاتے رہے ہیں کہ انہیں مناسب طبی نگہداشت نہیں مل رہی اور اہل خانہ اور قانونی ٹیم سے رابطے پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ آسٹریلیا کے سابق کپتانوں کی تازہ اپیل نے اسی تشویش کو بین الاقوامی کرکٹ کے حلقوں میں ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے جب کرکٹ کی دنیا کے سابق عظیم کھلاڑیوں نے عمران خان کے معاملے میں آواز اٹھائی ہو۔ 23 اگست کو دنیا کے 22 سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے بہتر علاج کا مطالبہ کیا تھا۔ اس اپیل میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ایک میڈیکل بورڈ کو عمران خان کا آزادانہ اور مکمل طبی معائنہ کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کا انتظام بحال کرنے اور طبی معائنے میں تجویز کردہ علاج کو بغیر تاخیر نافذ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس سے قبل فروری میں بھی 14 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے عمران خان کی حمایت میں خط لکھا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ عمران خان کی حمایت میں صرف آسٹریلوی کرکٹرز ہی نہیں بلکہ پاکستان کے کئی سابق کرکٹرز بھی آواز اٹھا چکے ہیں۔ جاوید میاں داد، وسیم اکرم اور معین خان جیسے سابق پاکستانی کرکٹرز بھی عمران خان کی صورتحال کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ آسٹریلیا کے موجودہ کپتان پیٹ کمنز بھی پہلے کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ باعزت طریقے سے پیش آنا چاہیے۔ ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز برائن لارا بھی حال ہی میں اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی موجودہ صورتحال پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو شخص کبھی پاکستان کے لیے امید اور تحریک کا ذریعہ تھا، آج وہ ایسی صورتحال میں ہے جہاں اس کے ساتھ ہمدردی اور احترام کے ساتھ پیش آنے کے حوالے سے سوال اٹھ رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
