عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کی تشویش، چیف جسٹس سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے کی اپیل
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے عمران خان کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچنے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس سے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے کی اپیل کی ہے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کو لے کر ایک بار پھر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ پارٹی کی کور کمیٹی نے پاکستان کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ عمران خان کے علاج اور طبی سہولتوں سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی نے ان کی صحت کو ایک سنگین انسانی اور طبی معاملہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا یہ اجلاس ان اطلاعات کے بعد منعقد ہوا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جیل میں قید عمران خان کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کے معروف اخبار ’ڈان‘ کے مطابق، اجلاس کے بعد جاری بیان میں کمیٹی نے ان کی صحت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اہل خانہ اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
کور کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت اور زندگی کا تحفظ ایک انتہائی اہم انسانی مسئلہ ہے اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپروائی، تاخیر یا غیر ذمہ داری قبول نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق، عمران خان کی صحت کو محض سیاسی یا قانونی تنازع کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک سنگین انسانی اور طبی ہنگامی صورت حال کے طور پر لیا جانا چاہیے۔
پی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کے تمام ضروری طبی معائنے اور تشخیصی ٹیسٹ بلا تاخیر کرائے جائیں۔ پارٹی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بہتر اور تفصیلی طبی جانچ کے لیے انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، تاکہ ان کی صحت کی مکمل جانچ ہو سکے اور ضرورت کے مطابق علاج فراہم کیا جا سکے۔
کمیٹی نے پاکستان کے چیف جسٹس سے بھی درخواست کی کہ عمران خان کے علاج سے متعلق عدالت کے سابقہ احکامات پر عمل درآمد کرایا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے کی غیر معمولی انسانی اہمیت کے پیش نظر اعلیٰ عدلیہ کو فوری توجہ دینی چاہیے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، عدالتی احکامات پر عمل کرنا متعلقہ سرکاری اور انتظامی اداروں کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
پارٹی نے پاکستان کے عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کی صحت اور زندگی کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔ اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے اپنے رہنماؤں، عہدیداروں اوراور تنظیموں سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور دیگر متعلقہ فورمز پر عمران خان کی صحت، علاج اور حقوق کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھائیں۔
پی ٹی آئی نے اس مسئلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاکہ عمران خان کو مناسب طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں۔ انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، تاہم ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتی ہے۔ 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان میں سرکاری تحائف سے متعلق توشہ خانہ کیس اور مبینہ غیر قانونی شادی سے متعلق مقدمہ بھی شامل ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا الزام ہے کہ جیل میں قیام کے دوران عمران خان کی صحت مسلسل متاثر ہوئی ہے۔ پارٹی اس سے قبل بھی ان کی طبی سہولتوں، ڈاکٹروں اور اہل خانہ سے ملاقات کے حق کو لے کر آواز اٹھاتی رہی ہے۔ تازہ بیان میں بھی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی صحت کے معاملے میں کسی مزید تاخیر کے بغیر ضروری اقدامات کیے جائیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
