پاکستان میں ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ کی تیاری، دفاتر میں ہفتہ کے 4 دن ہوگا کام!
پٹرولیم ڈویژن کے ذریعہ جاری کردہ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستانی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4.10 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں 6.41 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی فوجی کشیدگی اور بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اچھال کے درمیان پاکستان پر سنگین توانائی کا بحران منڈلانے لگا ہے۔ تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر پاکستانی حکومت اب ملک میں پٹرولیم کی کھپت کو کم کرنے کے لیے ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ سمیت کئی سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے ذریعہ جاری کردہ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4.10 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) میں 6.41 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پاکستان میں پٹرول کی قیمت 384.34 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 415.83 روپے فی لیٹر کی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری اور مصدق ملک نے تسلیم کیا کہ بین الاقوامی بازار میں مسلسل بڑھتی ہوئی قیمت حکومت کی برداشت کی صلاحیت کا امتحان لے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ایندھن بچانے اور ٹرانسپورٹ کے شعبہ پر دباؤ کم کرنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلیٰ افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے۔ حکومت جن متبادلات پر غور کر رہی ہے ان میں سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر میں ہفتہ کے 4 دن کام کرنے کا نظام سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کی بچت کے لیے کاروباری اداروں اور بازاروں کو شام میں جلدی بند کرنا اور گھریلو وسائل سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ بھی شامل ہے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دوران عوام کو براہ راست راحت دینے کے لیے پاکستانی حکومت نے ’پرائم منسٹر فیول ریلیف اسکیم‘ کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت بائیک چلانے والوں کو ہر ہفتہ 5 لیٹر سبسڈی والا پٹرول ملے گا۔ کار مالکان کو ہر 10 دن میں 10 لیٹر رعایتی پٹرول ڈیزل دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں کامیاب پائلٹ منصوبے کے بعد اب اس کو تمام صوبوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ ایندھن بحران کے باوجود ملک میں بجلی کی سپلائی متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگست 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اپنی مجموعی بجلی کا 72 فیصد ہائیڈرو پاور، مقامی کوئلے، جوہری اور شمسی توانائی جیسے گھریلو وسائل سے پیدا کر رہا ہے، جبکہ درآمد شدہ ایندھن (آر ایل این جی اور غیر ملکی کوئلے) پر انحصار گھٹ کر صرف 28 فیصد رہ گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
