پاکستان: صدارتی انتخاب کے لئے پولنگ جاری

صدارت کی دوڑ میں پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی، پیپلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن جبکہ اپوزیشن کی پانچ جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان شامل ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
i

پاکستان میں صدارتی انتخاب کے لئے پولنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے، شام چار بجے تک پولنگ جاری رہے گی۔ صدارت کی دوڑ میں پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی، پیپلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن جبکہ اپوزیشن کی پانچ جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمان شامل ہیں۔

صدارتی انتخاب کے لیے پاکستان کی صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ جاری ہے۔ پشاور اسمبلی میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ پریزائیڈنگ آفیسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں سکریٹری الیکشن کمیشن سندھ کے مطابق اسمبلی ہال میں ایک پولنگ بوتھ قائم کیا گیا ہے، جس میں دو بیلٹ بکس رکھے گئے ہیں۔ ادھر پنجاب اسمبلی میں بھی پولنگ کا عمل جاری ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔

صدارتی انتخاب کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کو پولنگ اسٹیشن بنایا گیا ہے، چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرنگ آفیسر ہیں جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور سینیٹ و قومی اسمبلی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داری سر انجام دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ندیم قاسم نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوگی، چیف الیکشن کمشنر انتخاب کے بعد وفاقی حکومت کو نتائج پیش کریں گے جبکہ قانون کے مطابق وفاقی حکومت حتمی نتائج کا اعلان کرے گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صدارتی الیکشن کے لئے دو پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں، بوتھ نمبر ایک پر سیریل نمبرایک سے ایک سو چھیاسی تک کے ارکان ووٹ ڈالیں گے جبکہ پولنگ بوتھ نمبر دو پر سیریل نمبر ایک سو ستاسی سے تین سو چون تک ووٹ کاسٹ ہوں گے۔ ارکان اسمبلی حروف تہجی کے اعتبار سے ووٹ کاسٹ کریں گے جس کے لئے ہدایت نامہ آویزاں کر دیا گیا ہے۔

صدارتی انتخابات کے لئے مجموعی طور پر 15سو بیلٹ پیپرز چھاپے گئے، بیلٹ پیپرز پر تین امیدواروں کے ناموں کےسامنے خالی خانہ رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے صدارتی انتخاب کی پولنگ کے لیے بیلٹ پیپرز اور دیگر سامان متعلقہ اسمبلیوں میں پہنچا دیا گیا ہے، بیلٹ پیپر پر پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کا نام پہلے نمبر پر موجود ہے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی دوسرے اور 5 اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمان کا نام تیسرے نمبر پر درج ہے۔

الیکٹورل کالج کی ساخت

پاکستان کا الیکٹورل کالج ریاست کے چھ بنیادی سیاسی قانون ساز مراکز پر مشتمل ہے۔ ایوان بالا، ایوان زیریں، پنجاب کی صوبائی اسمبلی، سندھ کی صوبائی اسمبلی، بلوچستان کی صوبائی اسمبلی اور خیبرپختونخواہ کی صوبائی اسمبلی۔ صدارتی انتخاب کے لیے پارلیمنٹ (قومی اسمبلی و سینیٹ) سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ووٹنگ ہوگی، قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے اراکین کے ایک ایک ووٹ ہوں گے۔ دیگر تین صوبائی اسمبلیوں (پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ) میں ووٹوں کا تناسب بلوچستان اسمبلی کے ووٹوں سے نکالا جائے گا، یعنی سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سیاسی جماعتوں کے مجموعی ووٹوں کو 60 سے تقسیم کیا جائے گا۔

اس فارمولے کے تحت پنجاب کے 5.7 ممبران کا ایک ووٹ تصور ہوگا، سندھ اسمبلی کے 2.58 ممبران اور خیبر پختونخواہ کے 1.9 ممبران اسمبلی کا ایک ووٹ شمار کیا جائے گا۔ اس طرح وفاقی پارلیمان اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں کُل ارکان کی تعداد 1124 اور صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ 676 ہیں۔ ایوان بالا میں (ن) لیگ اور اس کے اتحادیوں کے 48، تحریک انصاف اور اتحادیوں کے 25، پیپلزپارٹی کے 20 اور 11 آزاد ارکان ہیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کے 176، (ن) لیگ اور اتحادیوں کے 96، پیپلزپارٹی کے 54، 4 آزاد اور 12 نشستیں خالی ہیں۔

ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے تمام ممبران کے پاس متعلقہ اسمبلی کے شناختی کارڈ کی موجودگی لازمی قرار دی گئی ہے، کسی کو بھی موبائل فون ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صدر کے امیدوار کیلئے مسلمان ہونا اور عمر کم از کم 45 سال ہونا ضروری ہے۔ رکن قومی اسمبلی بننے کی شرائط پر پورا اترنا بھی لازم ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔